بے نظیر بھٹو نے شیخ رشید کے بارے میں یوسف رضا گیلانی سے ناراضی کیسے ختم کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات مکمل ہو گئے، 2021 کے ان انتخابات میں جو بھد اڑائی گئی ، اس پر افسوس اور شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں کہا اور جا سکتا، یوسف رضا گیلانی کو سنجیدہ اور سلجھا سیاست دان سمجھتا ہوں، عمران خان کی چند ماہ قبل تک اس لئے حمایت کرتا رہا کہ وہ تبدیلی لائیں گے اور پرانی روش کا خاتمہ کریں گے اور حقیقت میں نیا پاکستان بنائیں گے مگر افسوس عمران خان تاحال کچھ بھی نیا نہیں کر سکے۔

یوسف رضا گیلانی کو 1988ء سے جانتا ہوں کیونکہ ملتان منتقل ہونے پر والد گرامی نے جو نیا گھر بنایا تھا، وہ یوسف رضا گیلانی کے حلقے میں تھا، کئی کارنر میٹنگز میں بھی گیا، گفتگو بہت اچھی کرتے ہیں ، سب نے سنی ہوئی ہیں، دھیما مزاج ہے اور مدلل گفتگو کرتے ہیں، انسان کو عظیم بننے کے لئے ایک دو مواقع ہی ملتے ہیں، ان مواقع سے اگر کوئی سمجھدار فائدہ اٹھا لے تو کم ازکم اپنے چاہنے والوں کے لئے ہمیشہ قابل قدر بن جاتا ہے۔

1993ء کا الیکشن پیپلز پارٹی نے شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جیتا اور وفاقی حکومت بنائی، شہید بی بی نے سید یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی کا سپیکر بنا دیا، شیخ رشید اس وقت مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی تھے اور شہید بی بی کے بارے میں قومی اسمبلی میں بیہودہ گفتگو کیا کرتے تھے، شیخ رشید کو ایک مقدمے میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا، پارٹی کی ہدایات کے برعکس یوسف رضا گیلانی نے آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے پر شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیے۔

شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر وزیراعظم بے نظیر بھٹو یوسف رضا گیلانی سے ناراض ہو گئیں، یوسف رضا گیلانی کو اطلاعات مل رہی تھیں کہ بی بی آپ سے ناراض ہیں کہ شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈر کیوں جاری کیے ، ان اطلاعات کے بعد یوسف رضا گیلانی نے تگ ودو کر کے بی بی شہید سے وقت لیا اور اپنا موقف بیان کیا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں، آپ نے جمہوریت کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، اب آمریت نہیں ہے لہٰذا ہمیں جمہوری روایات کو پروان چڑھانا چاہیے، آج شیخ رشید کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے ہیں تو یہ روایت بن جائے گی اور آئین بھی اس کی اجازت دیتا ہے ، اس لئے میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

یوسف رضا گیلانی کی بات سن کر بے نظیر بھٹو نے ان کے موقف کی تائید کی اور کہا آپ نے درست کیا اور ناراضی ختم کر دی، یوسف رضا گیلانی کا 1993ء کی اسمبلی میں اٹھایا گیا یہ اقدام آج پارلیمانی روایت بن چکی ہے اور آج شہباز شریف و دیگر کے پروڈکشن آرڈر جاری ہو رہے ہیں، یوسف رضا گیلانی کے اس اقدام کو آج بھی سراہا جاتا ہے کہ انہوں نے بہترین پارلیمانی روایت قائم کی اور آئین پر عمل کیا۔

سینیٹ الیکشن میں وفاق کی نشست پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی تھے جبکہ حکومت کے امیدوار موجودہ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ تھے، یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں تھی مگر وہ اپنے قد کاٹھ کی وجہ سے حکومتی ارکان کے ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہو گئے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے شاندار چال چلتے ہوئے پی ڈی ایم کو رضا مند کر کے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ کا امیدوار بنا دیا، اس وقت سینیٹ میں پی ڈی ایم کو اکثریت حاصل ہے جبکہ حکومت کو ایوان بالا میں اکثریت حاصل نہیں ہے، تحریک انصاف نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں جس طرح دھاندلی کی ، اس سے جمہوریت پسندوں کو شدید دکھ ہوا۔

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان کو بہترین موقع ملا تھا کہ وہ جمہوری روایات کے تحت پی ڈی ایم کو دعوت دیتے کہ ان کے پاس اکثریت ہے اس لئے وہ چیئرمین سینیٹ نامزد کر دے جس کو حکومت بھی قبول کر لے گی مگر عمران خان نے یہ سنہرا موقع کھو دیا اور وہی پرانا کھیل کھیلا جو گزشتہ 72 سالوں سے ملک میں کھیلا جا رہا ہے، یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ جس انداز میں مظفر حسین شاہ نے مسترد کیے، اس سے تحریک انصاف کو بدنامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments