کیا کٹھ ملائیت حسِ لطافت کو ختم کر دیتی ہے؟
زندگی زندہ دلی کانام ہے اور اسے صرف زندہ دل ہی پورے جی سے جیتے ہیں، زندگی کی تہہ میں لاتعداد خوبصورتیاں چھپی ہوتی ہیں ، ان کا سراغ لگانے والے زندگی کے ہر پہلو میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں ، ایسے لوگوں کو ہم ”امید پرست‘‘ کہتے ہیں ، یہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی امید کی شمع روشن کیے رکھتے ہیں اور زندگی کی رنگا رنگی کو زندہ رکھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ قنوطی طبعیت کے مالک ہوتے ہیں، ان کی نظر میں میں زندگی ایک بے کار چیز ہوتی ہے اور ان کو ہر جگہ دکھ ہی دکھ نظر آتے ہیں ، یعنی یہ زندگی ہر پہلو میں روشن پہلو ڈھونڈنے کی بجائے ہمیشہ تاریک پہلو ڈھونڈتے رہتے ہیں، خود تو خوار ہوتے ہیں مگر دوسروں کو بھی سکون سے جینے نہیں دیتے اور اپنی محدود سوچ کے ببل میں بند ہو کر اوروں پر بلا وجہ نکتہ چینی اور طعن و تشنیع کرتے رہتے ہیں۔
گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں ایک ایسے ہی کریکٹر سے ملنے کا اتفاق ہوا، میں اپنے ایک دوست کی شادی میں مدعو تھا ، یہ تقریباً 6 بھائی ہیں جو اپنی زندگیاں اپنے طریقے سے گزار رہے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ 5 بھائی تو شادی کو بھرپور طریقے سے سیلیبریٹ کر رہے تھے جبکہ ایک بھائی جو کہ باریش تھا وہ بالکل ہی الگ تھلگ ایک کونے میں دبکا بیٹھا تھا، میں نے اس کے ہاتھ میں تسبیح ضرور دیکھی مگر چہرے سے مسکراہٹ بالکل غائب تھی۔
میں نے اپنے دوست سے وجہ جانی تو اس نے بتایا کہ ہمارا یہ بھائی گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت کے ساتھ چلہ لگا کر آیا ہے، بس اسی دن سے اس نے اپنی ایک الگ ہی دنیا بسا لی ہے اور دنیا کو برا بھلا کہنا اس کا شیوہ بن چکا ہے۔ ہماری شادی کی تقریب میں موسیقی اور ناچ گانے کو لے کر بہت جھگڑا ہو چکا ہے اور ہمارا یہ بھائی ہر وقت غصے میں شادی کی ہر ریت و رسم کو ”حرام، حرام“ کہہ کر جھگڑا کرتا رہتا ہے ، اس کے اس رویے کی وجہ سے ہماری شادی کی تقریب میں کئی بار بدمزگی ہو چکی ہے۔
میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یہ بھائی صاحب چلہ لگانے سے پہلے بھی ایسے ہی رویے کا اظہار کرتے تھے یا چلہ لگانے کے بعد ایسا کر رہے ہیں؟ میرے دوست کا کہنا تھا کہ ہمارا بھائی پہلے ایسا نہیں تھا بلکہ ایک ہنس مکھ اور زندگی کو بھرپور طریقے سے انجوائے کرنے والا ایک زندہ دل انسان تھا۔ مگر اب یہ پہلے جیسا بالکل نہیں رہا، لہجے میں کرختگی اور طرز زندگی میں کٹرپن آ چکا ہے، اوروں کی باتوں کو سن کر انجوائے کرنے والا ہمارا بھائی اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں سے الجھتا رہتا ہے، اب اس کی زندگی سے بہت کچھ مائنس ہو چکا ہے ، یہ اب زندگی کے ہر پہلو کو گناہ و ثواب کے پیمانے سے پرکھتا ہے، ہر وقت گنگنانے والا یہ ہنس مکھ انسان ایک ایسے کریکٹر میں ڈھل چکا ہے جسے صرف اپنے جیسے لوگ ہی اچھے لگتے ہیں، یہ صرف اپنی شباہت والے لوگوں سے گلے مل کر بہت خوش ہوتا ہے ، نرگسیت کا یہ عالم ہے کہ صرف اپنے خیالات کو ہی اعلیٰ و ارفع سمجھتا ہے جبکہ اپنے مختلف خیالات سن کر غصے میں آگ بگولا ہو جاتا ہے۔
میرا دوست جب یہ بتا رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں محبت کی روشنی محسوس کی جا سکتی تھی، اس کے دل کی تہہ میں کہیں امید کی ایک رمق باقی تھی کہ شاید میرے بھائی کے چہرے پر دوبارہ مسکراہٹ امڈ آئے گی اور اس کو اپنے سچ کے علاوہ اوروں کے سچ بھی نظر آنے لگیں، شاید کہ اسے سمجھ آ جائے کہ زندگی کی خوبصورتیاں لاتعداد رنگوں میں پنہاں ہیں اور کچھ بھی حتمی اور قطعی نہیں ہوتا ، شاید کہ وہ دعویٰ کی تصوراتی دنیا سے نکل کر دلیل اور منطق کی دنیا میں آ بسے اور دوسروں کو اپنے پیمانے پر پرکھنے کی بجائے انسانوں کے پیمانے پر پرکھنا شروع کر دے۔
یہ سب دیکھ کر اور سن کر میرے ذہن میں اسی نوعیت کے بہت سے واقعات گردش کرنے لگے۔ ہم تو یہ سنتے آئیں ہیں کہ مذہبی چلن انسان کی زندگی پر بہت گہرے اثرات ڈالتا ہے اور ان کے اندر حلم، بردباری، تحمل اور برداشت جیسے عناصر پیدا کر دیتا ہے مگر عملی طور پر ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ آپ کسی بندے یا کسی بھی دوسری فیلڈ کے بندے سے ہر موضوع پر بات کر سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کی بدمزگی دیکھنے کو نہیں ملے گی ، مگر دوسری طرف آپ کسی بھی مذہبی آدمی سے کھل کر بات نہیں کر سکتے ، ذرا سی ”سلپ آف ٹنگ“ کی بنیاد پر آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ، حتیٰ کہ جان کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر آپ کی تعلیمات نے آپ کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تو پھر آپ دوسروں کی تبدیلی کا بیڑا کیسے اٹھا سکتے ہیں؟
ہم آج اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جو کہ اپنی نوعیت کی بالکل ہی منفرد صدی ہے۔ دنیا کے متعلق کوئی بھی معلومات، تاریخ، حتیٰ کہ مذاہب عالم کی تاریخ ایک کلک بٹن کے فاصلے پر ہے ، معلومات کے اس سیلاب میں آپ اپنی بات شیئر ضرور کر سکتے ہیں ، عائد نہیں کر سکتے۔ اب لہجے کی قطعیت اور دعویٰ پر مبنی لینگویج کا دور ختم ہو چکا ہے چونکہ علم و تحقیق اب ہر بندے کی پہنچ میں ہے۔


