مضمحل مثلث کی پائیداری کا سوال!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قانونی نقطہ نظر سے ریاست کے تین ستوں قرار دیے جاتے ہیں۔ مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔ سیاسی لغت ذرائع ابلاغ کو چوتھا ستون سمجھتی ہے جبکہ معروضیت سرزمین و جغرافیے کو!

مقننہ فرماں روائی کی مستحق ہے تو ساتھ ہی منتظمہ کی نگران بلکہ سربراہ بھی ہے چنانچہ انتطامیہ جو مملکت کے نظم و نسق کا سب سے اہم ادارہ ہے قانونی تصور میں مقننہ کا فاعلی جزو ہی ثابت ہوتا ہے ریاست اور مملکت میں جغرافیہ تاریخی اعتبار سے مسلمہ طور پر موجود رہا ہے جبکہ ریاست ان ارتقائی مدارج کا نتیجہ ہے جو سلطنت اشرافیائی حاکمیت، خاندانی بادشاہت، خلافت کی ملوکیتی صورت اور اشرافیہ کی جمہوریت (ارسطو کریسی ) سے آئینی بادشاہت کا سفر طے کرتے ہوئے آئینی جمہوریت کی ارفع منزل تک پہنچی ہے اس عمل میں باشندگان سلطنت، رعایا سے عوام کے بلند رتبے کے مالک بنے ہیں رعایا، غلامانہ انسانی اجتماع کی سیاسی اصطلاح ہے جبکہ عوام اس کے برعکس لیکن بالواسطہ طور پر فرماں روائی کے مالک ہوتے ہیں جو اجتماعی سیاسی نظم چلانے کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں یہی نمائندے مملکت کی مجتمع شدہ قوت کو ”اختیار و فرائض“ میں تقسیم کرنے کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیتے ہیں جسے سیاسی لغت میں ملک کا دستور یا آئین کہا جاتا ہے گویا آئین و دستور ہی دراصل ریاست کی اصل شکل ہے جو کسی ملک کو شاہی حاکمیت سے ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

دستور پاکستان میں ریاست کی شکل و صورت وضع کرتے ہوئے اختیار ٍحاکمی۔ نظم حکمرانی اور قانون کی نگرانی پر مشتمل سہ رکنی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے لیکن واقعات نے اس ترتیب کو دھندلادیا ہے اب اختیار ٍ فرمان روانی یا حاکمیت مضمحل۔ نظم ٍ مملکت مجہول اور قانون کی نگہبانی محدود ہو چکی ہے۔

اس ماہ کے دوران کچھ واقعات نے ایک بار پھر متذکرہ صدر ناخوشگوار صورت کو نمایاں کر دیا ہے چیف ایگزیکٹو جو مقننہ کے بھی قائد ہیں فرمان روائی ( دستور) کی دستاویز کے برخلاف عمل پیرا رہے خفیہ رائے شماری کی آئینی قدغن دور کرنے کے لئے فرمان روائی میں رد و بدل کے مجاز ادارے (پارلیمنٹ میں تو گئے مگر) عزم و ارادہ دستوری ترمیم کے برعکس سیاسی مخالفین کی جگ ہنسائی کا بندوبست کرنا تھا اسی دوران مقننہ کے قائد نے آئین میں مطلوب ترمیم کیے بنا خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لئے قانون آئین کے نگہبان ادارے سے انحراف کے لئے اجازت نما مشورہ چاہا لیکن مشورہ ملنے سے قبل صدارتی فرمان جاری کر دیا گیا گویا اسے یقین ہو کہ عدلیہ مشورے میں آئین سے انحراف کی اجازت دے دے گی۔

معزز عدلیہ نے آئین کی نگہبانی کا فریضہ ادا کیا مگر ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو شفاف انتخاب کے فرائض کی ادائیگی یاد کرائی تاکہ ووٹ کو بعد از رائے شماری قابل شناخت بنا لیا جائے یوں ووٹ کو مخفی رکھے جانے کے بنیادی انسانی جمہوری حق کی نگہبانی سے گریز کیا یہ کہتے ہوئے ک ”خفیہ رائے شماری کو دائمی طور پر خفیہ نہیں رکھا جا سکتا“

محض انہی واقعات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وطن عزیز میں نافذ العمل آئینی سیاسی ڈھانچے کے تینوں اہم ستونوں کے قویٰ اضمحلال کا شکار ہیں جبکہ بعد کے واقعات اس منطقی نتیجے کے لئے اضافی تائیدی ثبوت کا درجہ رکھتے ہیں مثلاً

سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے قبل سینیٹ آف پاکستان کی عمارت میں رات گیے اندھیرے میں چھپ چھپا کر رائے شماری کے خفیہ عمل کی ”فلمبندی“ کا اہتمام کیا گیا تھا خوش قسمتی سے یہ واردات بروقت منکشف ہو گئی تو از سر نو پولنگ بوتھ بنانے کا حکم ہوا۔ لیکن خفیہ رائے شماری کے آئینی حق تک خفیہ رسانی پانے کی مذموم کوشش کے خلاف۔ جو قانون کی سنگین و سراسر خلاف ورزی تھی۔ آئینی نگہانی و پاسداری کے ذمہ دار ادارے نے تادیبی کارروائی سے گریز کیا جبکہ مقننہ کے قائد اور منتظم اعلیٰ تسلسل کے ساتھ الیکشن کمیشن پر ناروا طور پر حملہ آور ہو رہے ہیں اس پر جابنداری اور شفاف طور پر۔ یعنی۔ کھلی رائے شماری کے ذریعے انتخابات نہ کرانے کی پاداش میں مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس دستوری رستہ موجود ہے جو واحد قابل عمل راستہ ہے مگر وہ الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے سے دانستہ گریز کر رہے ہیں۔

فرماں روائی کے ستون۔ پارلیمان کی جانب سے دستور ریاست سے روگردانی۔ دراصل حکومت اور حاکمیت میں موجود اضمحلال کی شہادت ہے۔

دستور پاکستان میں اختیارات و فرائض ٍ منصبی کی غیر مبہم تقسیم و درجہ بندی کے مقابل۔ انتظامیہ کے ماتحت ایک محکمہ اپنی حاکمانہ بالادستی قائم کر رہا ہے۔ ریاست کی حاکمیت ٍ اعلیٰ ”اقتدار و اختیار“ کے دو مختلف پلڑوں میں بٹ چکی ہے جس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ اب سماجی ابلاغیات میں مذکورہ محکمہ کو ”ریاست“ کی اصطلاح سے پکارا جانے لگا ہے ستم بالائے ستم کہ آئینی طور پر حکمرانی رکھنے والی بالادست اتھارٹی (حکومت ) کے وزرا برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ”حکومت اور ادارے“ ایک صفحے پر ہیں یہ پہلو بذات خود ریاستی سیاسی ڈھانچے میں اعصابی ضعف کی نشادھی کے مترادف ہے۔ اور اس کا اظہار گزشتہ روز اس اعترافی بیان سے ہوا کہ ”ہمیں احساس ہو چکا ہے جب تک ہم اپنے گھر کو سیدھا یا صاف نہیں کرتے باہر سے کس اچھائی کی توقع نہیں“

یہی نقطہ نظر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی کابینہ کا تھا جس میں بالکل مناسب وقت پر درپیش مسئلے کی درست نشاندہی کی گئی تھی مگر اس صائب حکم کو مشورے کا درجہ دینے سے انکار کیا گیا تھا الٹا حکومت وقت پر سنگین الزامات عائد کیے گے نیز وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید سے بزور استعفیٰ لیا گیا۔ اب یہی آرمی چیف جناب جنرل قمر باجوہ نے جو کچھ کہا وہ یقیناً درست جائز اور مناسب ترین ہے تو یہ سوال بجا طور پر درست ہے کہ یہی بات چند سال پہلے مجاز اتھارٹی کی جانب بیان کرنی نامناسب اور ملکی مفادات کے منافی کیوں قرار دی گئی تھی؟

بسوال کے کئی جواب ہوسکتے ہیں۔ میرے خیال میں سوال کو محدود رکھنے کی بجائے مجموعی طور پر سیاسی پس منظر میں پرکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی نظم ونسق میں درآنے والے اختلال و اضمحلال کو تسلیم کر لیا جانا بہتر ہوگا جیسا کہ جنرل صاحب نے بھی کہا کہ ”ہمیں ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنا چاہیے“ تو ہمیں اپنے مسائل کی بنیادی وجوہات کا علم ہو جائے گا پھر اگر اصلاح احوال کا مخلصانہ سنجیدہ ارادہ موجود ہوا تو بہتری کی جانب پیشرفت کے لئے کسی مشاورت کے بغیر دستور پاکستان (فرمان روائی کی دستاویز) پر من وعن عمل درآمد شروع کرنا لازم ٹھہرے گا۔

مضمحل مثلت کی تیسری تصویر آئین وقانون کے نفاذ نیز انحراف کے تدارک کے ذمہ دارآئینی ادارے عدلیہ کے اندر دکھائی دے رہی ہے۔ مستقبل قریب میں ملک کے چیف جسٹس بننے والے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ اپنے لئے انصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔ جسٹس سمیت کسی بھی عہدے دار کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا انتہائی ارفع عمل ہے۔ لیکن یہ عمل انتقام پسندی سے مکمل مبرا ہونا چاہیے جھوٹے الزامات عائد کربے ان کی ذرائع ابلاغ پر تشہیر انصاف کے سراسر منافی ہے جبکہ یہ تاثر بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے کہ اقتدار واختیار کے مالک انہیں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ ٍ جلیلہ تک پہنچنے سے ہر حال میں روکنا چاہتے ہیں کیونکہ خطرہ ہے کہ جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خلافت عباسیہ کے دور کے ویسے قاضی القفاہ ثابت نہ ہوں جو خلیفہ وقت کی خواہش واشارہ ابرو پر فیصلے صادر کرنے سے انکار کر دیا کرتے تھے اس تناظر میں ریاست کے تینوں ستون جو حاکمیت کی مثلت ہیں اس وقت زیادہ نمایاں طور پر اضمحال کے شکار نظرآرہے ہیں۔

یہ منظر نامہ عمیق تر بحران کا سرنامہ ہے اگر فی الفور اس کا تدارک نہ ہوا تو مثلث منتشر ہو سکتی ہے اور بچاؤ کی واحد تدبیر بہر طور آئین پاکستان کی مکمل اطاعت میں مضمر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply