گلی سرجن سنگھ: لاہور اور اہل لاہور کی خوبصورتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں انٹرنیٹ پر اندرون لاہور کی بعض گلیوں کی تصاویر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی جنہیں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے صاف ستھرا اور سجایا بنایا ہے اور اس کے ساتھ درج تھا کہ یہ یورپ نہیں ہمارا پیارا پاکستان ہے۔ دوسری خوشی کی بات یہ تھی کہ اس گلی کا نام گلی سرجن سنگھ ہی رہا اور بدل کر کسی اپنی پسند کی شخصیت کا نام نہیں دے دیا۔

مجھے یورپ کے کئی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے جن میں سپین بھی شامل ہے اور قرطبہ وہ شہر ہے جہاں کسی زمانے میں مسلمانوں کی شاندار حکومت قائم تھی اور یہاں کی مسجد قرطبہ دیکھ کر آج بھی سیاح ورطہٴ حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔

قرطبہ شہر کے دو حصے ہیں ایک نیا قرطبہ جو موجودہ زمانے کے کسی بھی بڑے شہر کی طرز کا ہے اور ایک پرانا قرطبہ جو کئی سو سال سے آباد ہے۔

پرانے قرطبہ کی گلیاں پرانے لاہور ہی کی طرح تنگ ہیں۔ مگر ان میں گھومنے پھرنے کا جو مزہ آتا ہے وہ ناقابل بیان ہیں۔ صاف ستھری گلیاں۔ ستھرے مکانات۔ پھولوں سے بھری ہوئی دیواریں۔ ہرموڑ پر حیرت کدے کا ایک دروازہ کھلتا ہے اور انسان سرور میں ڈوب جاتا ہے ۔

ترقی یافتہ ممالک اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے رہن سہن میں ایک بنیادی فرق صفائی اور نفاست بھی ہے۔ لاہور کی گلیاں صاف کر کے ہم یہ تو کہتے ہیں کہ یہ یورپ نہیں پاکستان ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم سارے ملک کو صاف نہیں رکھ سکتے۔ اس میں کسی قسم کے زیادہ اخراجات درکار نہیں صرف توجہ درکار ہے جو عوام اور انتظامیہ دونوں کے تعاون پر مبنی ہے۔

ایک طرف عوام ہیں جو اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ گلی میں پھینک کر سمجھتے ہیں کہ گھر صاف ہو گیا۔ خواہ اس گھر تک پہنچنے کے لیے راستہ کتنا ہی بدبودار اور سیلن زدہ ہو۔

بچے تو بچے بڑے بھی کوئی چیز استعمال کر کے یا کچھ کھا پی کر پلاسٹک کے لفافے اور ریپر زمین پر پھینک کر چلتے بنتے ہیں۔ پلاسٹک وہ چیز ہے جو صدیوں تک خراب نہیں ہوتی اور جہاں ہوتی ہے وہیں رہتی ہے۔ مگر ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں چنانچہ آہستہ آہستہ یہ دیگر گندگی کے ساتھ ساتھ نالوں اور دریاوٴں میں جاگرتی ہے۔ جہاں آبی حیات کو نقصان پہنچاتے ہوئے سمندر میں چلی جاتی ہے۔ چنانچہ اس طرح تمام کرہٴ ارض کا ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔

کراچی اور سندھ کے وہ شہر جہاں زیادہ تر پان کھانے والی اقوام آباد ہے ان کی پان کی پیک سے پبلک بلڈنگز کا حال دیکھنے والا (یانہ دیکھنے والا) ہوتاہے۔ دیواروں پر لمبی لمبی لال رنگ کی پیک کی چھینٹوں کو دیکھ کر طبیعت منقبض ہوجاتی ہے۔ اور لوگ ہیں کہ کچھ پرواہ نہیں۔

دوسری طرف یہ ذمہ داری حکومتی اداروں کی بھی ہے کہ گلی محلہ میں نہ صرف روزانہ صفائی کر کے کوڑے کو مناسب جگہ پر ٹھکانے لگایا جائے بلکہ گلیوں میں ایسی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ عوام سڑک پر کوڑا پھینکنے کی بجائے کوڑا دانوں میں ڈالیں۔ جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر صفائی کرنے والاعملہ اسے سمیٹ لے۔

ہمیں کہا تو یہ جاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن اس پر عملدرآمد کم ہی نظر آتاہے۔

ہر شہر۔ قصبے اور گاؤں میں کارپوریشنز۔ ٹاوٴن کمیٹیاں اور مونسپل کمیٹیاں بلدیاتی انتخابات کے ذریعہ منتخب کی جاتی ہیں اور دراصل یہ ان کا کام ہے کہ عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کریں۔ کبھی کسی بھی حکومت کی طرف سے یا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے یہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ یہ بلدیاتی اداراے اس حوالہ سے کتنے فعال ہیں؟

گاوٴں میں نالیاں اکثر پلاسٹک کے لفافوں یا اس قسم کے کچرے سے بند ہوجاتی ہیں اور پھر پانی ابل کر سڑک پرآ جاتا ہے ۔ اور لوگ مہینوں اپنے کپڑے بچا کر سڑک کے کنارے کنارے چلتے ہوئے اس گندگی کو پار کرتے ہیں۔ بعض دفعہ لوگ وہاں اینٹیں رکھ دیتے ہیں جن پر چل کر اس گندے پانی کے پار جایا جاسکے۔ لیکن کوئی مائی کا لال اس کچرے کی صفائی نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہ سارا فساد برپا ہوتا ہے۔

حالانکہ گاوٴں میں لوگوں کی اکثریت زمیندارہے جن کے پاس ایسی مشینری جو سڑکیں صاف کر سکے مثلاً ٹریکڑ۔ ٹرالی وغیرہ موجود ہوتے ہیں، تمام گاوٴں کی سٹرکیں ایک ہی دن میں ہر قسم کے گند سے صاف کی جا سکتی ہیں اور اگر عوام سڑک پر گندگی نہ پھینکیں توکئی ماہ تک یہ سڑکیں صاف رہ سکتی ہیں لیکن افسوس کہ ہمیں اس گندگی کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اور ہم اس کو قسمت کا کھیل قرار دے کر رہتے چلے جاتے ہیں۔

ہمارے شمالی علاقہ جات اور وادیاں دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار ہوتی ہیں اور ہمیں ان پر بڑا فخر ہے اور ہم دنیا بھر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ یہاں آ کر ان خوبصورت نظاروں سے لطف اٹھائیں مگر افسوس کہ بڑھتے ہوئے ٹورازم کے باعث ان علاقوں میں بھی اب گندگی، خصوصاً پلاسٹک کی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے اور جہاں سیاح زیادہ تعداد میں آتے ہیں وہاں گندگی کے ڈھیر بھی زیادہ ہونے لگے ہیں جو نظر میں چبھتے ہیں۔

ہمارا ایک گروپ مجلس صحت قائم ہے جو نوجوانوں کو صحت مند رجحانات کی دعوت دیتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے اس گروپ نے کاغان وادی میں جھیل سیف الموک اور درہ بابوسر میں ایک صفائی مہم شروع کی ہے۔ عموماً ستمبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں جب سیاحوں کی آمد ختم ہوتی ہے تواس گروپ کے نوجوان جھیل سیف الملوک اوردرہ بابوسر جاکرسیاحوں کا بکھیرا ہوا گند صاف کرتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں صرف پلاسٹک کے لفافے اور ریپر جو اکٹھے کر کے نیچے لائے گئے ان کا وزن دو ٹن سے زائد تھا۔ اور ابھی بہت گندگی رہ گئی تھی۔ اور یہ صرف دو مقامات ہیں۔ اس طرح کے بے شمار مقامات پاکستان میں ہیں جہاں صفائی کا انتظام ضروری ہے۔

چند سال قبل ہالینڈ سے ایک جوڑا سیاحت کی غرض سے پاکستان آیا تھا۔ جنہیں پاکستان اور اس کے لوگ بہت پسند آئے۔ واپس جاکر انہوں نے اس حوالہ سے مضمون لکھے جن پر پاکستان کی خوبصورتی اور عوام کی مہمان نوازی اور تعاون کی بہت تعریف کی۔ لیکن انہوں نے صفائی کے حوالہ سے بعض سوالات اٹھائے اور لکھا کہ ہم نے اپنے پاکستانی دوستوں سے اس حوالہ سے بات کی تو انہوں نے ہمیں کہا کہ دراصل ان پہاڑی علاقوں کے لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں صفائی کا ادراک نہیں۔

انہوں نے اس وضاحت کو ماننے سے معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ جو گندگی انہوں نے دیکھی ہے۔ اس میں چاکلیٹ، ٹافیوں، نوڈلز، پانی کی بوتلیں اور دیگر اس قسم کی چیزوں کی پیکنگ شامل تھی جو پہاڑوں کے، بقول ان کے دوستوں کے، غیر تعلیم یافتہ لوگ استعمال نہیں کرتے بلکہ شہروں سے آنے والے ”مہذب اور تعلیم یافتہ“ لوگ استعمال کرتے ہیں۔

ان کا یہ مشاہدہ بالکل درست ہے اور اگر یہ وجہ بیان کی جائے کہ ان پہاڑی مقامات کے رہنے والے چونکہ کم تعلیمیافتہ ہیں اس لیے گندگی باہر پھیلاتے ہیں تو لامحالہ ہمیں شہروں اور تعلیمیافتہ علاقوں میں صفائی کا معیار دکھانا پڑے گا کہ ہم بحیثیت قوم صاف ستھرے ہیں۔ مگر افسوس تویہ ہے کہ شہروں میں گندگی ان علاقوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اس بے پرواہی اور عدم توجہ کوتسلیم کرتے ہوئے صفائی کا معیار بہتر کریں۔ تاکہ ہمارا ملک غریب سہی مگر کم ازکم صاف ستھرا اور صحت مند نظر آئے۔ غربت کوئٰی بری چیز نہیں۔ گندگی بدنما چیز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply