لمز: پاکستان کی نجی یونیورسٹی میں 1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام پر کانفرنس منسوخ، سوشل میڈیا پر تبصرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کی ایک معروف نجی یونیورسٹی میں بنگلہ دیش کے قیام اور 1971 کی جنگ کے 50 برس مکمل ہونے کے موقع پر ایک آن لائن کانفرنس منسوخ کر دی گئی ہے۔

لمز کے سکول آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز اور قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز کے اشتراک سے طے پانے والی اس کانفرنس کا عنوان ’وار، وائلینس اینڈ میموری‘ (جنگ، تشدد اور یادیں) تھا اور اس کے شیڈول کے مطابق 23 مارچ سے 27 مارچ کے دوران کئی موضوعات پر بات کرنے کے لیے محقق اور تاریخ دان مدعو کیے گئے تھے۔

لیکن اب سکول آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین کی جانب سے جاری کردہ ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ ’ناگزیر حالات کی وجہ سے‘ اس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بنگلہ دیش پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیوں کرتا ہے؟

بنگلہ دیش کا قیام: کیا جنگ شروع کرنے کے لیے انڈیا بہتر وقت کے انتظار میں تھا؟

بنگلہ دیش کا قیام: جنرل نیازی نے ہتھیار کیوں ڈالے؟

ایسے میں ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ کانفرنس منسوخ کیے جانے پر کچھ صارفین نے اسے آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور یہ موقف اپنایا ہے کہ اس موضوع پر پاکستان میں 50 سال گزرنے کے بعد بھی بغیر کسی رکاوٹ بات نہیں ہوسکتی۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے کانفرنس کے اعلان پر لمز پر تنقید کی تھی اور حکومت سے اس ’پاکستان مخالف اقدام‘ کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

لمز میں اسی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر علی عثمان قاسمی نے ٹوئٹر پر اس کانفرنس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد 1971 کے تنازع کو سمجھنا ہے اور اس موضوع پر ماہرین کی تحقیق کا جائزہ لینا ہے۔

’اس کانفرنس میں 1947 سے 1971 تک مشرقی پاکستان کی سیاسی تاریخ، حقوق کے لیے جمہوری کوششوں اور فوجی آپریشن سے ہونے والے قتل عام کی بات کی جائے گی جس سے بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر بھی ہوئے۔‘

انھوں نے لکھا تھا کہ ’سنہ 1971 کے بعد پاکستان کے ادب، یادداشت اور تاریخ نگاری پر اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔‘

بنگلہ دیش کی آزادی اور 1971 تنازع پر ہونے والی اس کانفرنس کے انعقاد کے اعلان پر کئی صارفین نے لمز پر تنقید کی تھی۔

لمز کی کانفرنس پر سوال اٹھاتے ہوئے صحافی اور سکیورٹی امور کے ماہر اعجاز حیدر نے سلسلہ وار ٹویٹس کرتے ہوئے لکھا کہ ’لمز کو انڈیا منتقل ہوجانا چاہیے اگر اس نے انڈیا کی اقلیتیوں کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کو نظر انداز کرنا ہے۔‘

انھوں نے پوچھا تھا کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے ’کیا لمز اس پر دو روزہ سیمینار کرے گا‘ اور اس موضوع پر کہ ’اب انڈیا امبیدکر کی جمہوریت نہیں رہا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ کشمیر کو نظر انداز کر کے ’لمز مشرقی پاکستان پر کانفرنس کر رہا ہے۔‘

ریاض الحق نامی صارف نے لکھا کہ ’ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے آپ کو کوئی نہیں روک رہا لیکن لمز نے 23 مارچ کے لیے اس کانفرنس کا انتخاب کیا۔ یہ احمقانہ خیال ہے۔‘

لیکن کئی صارفین نے لمز کی جانب سے ایسی کانفرنس منعقد کیے جانے پر اسے داد بھی دی تھی۔ غزل آصف نے لکھا تھا کہ یہ تقریب اچھی لگ رہی ہے اور اس میں بلائے گئے سپیکرز ’بہترین‘ ہیں۔

کانفرنس منسوخ کیوں کی گئی؟

سکول آف ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین کی جانب سےبھیجی گئی ایک ای میل کے مطابق ’ناگزیر حالات کی وجہ سے اور افسوس کے ساتھ ہمیں وار وائلینس اینڈ میموری کانفرنس منسوخ کرنا پڑی۔‘

ان ’ناگزیر وجوہات‘ کے بارے میں تفصیل جاننے کے لیے بی بی سی نے لمز کے متعلقہ حکام سے رابطہ لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لمز کے ایک فیکلٹی ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بعض حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ اسے منسوخ کر دیا جائے اور ان حالات میں اس کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’بات حد سے آگے بڑھ گئی تھی۔ یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ کانفرنس کا انعقاد نہ کیا جائے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کن حلقوں کی جانب سے انھیں دباؤ کا سامنا تھا تو انھوں نے اس کے ذکر سے گریز کیا اور کہا کہ ’اس کانفرنس کا مقصد ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا تھا۔‘

’اس کا مقصد ریاست کے خلاف بات کرنا یا اشتعال انگیز بحث نہیں تھا۔ اس میں مایہ ناز سکالرز شریک گفتگو تھے اور انھوں نے اپنی تحقیق پیش کرنی تھی تاکہ سنہ 1971 کے واقعات سے کچھ سیکھ سکیں۔‘

’کیا ہم 50 سال بعد بھی بنگلہ دیش پر بات نہیں کرسکتے؟‘

کانفرنس منسوخ ہونے پر سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اپنا ردعمل دیا ہے اور اس پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

لمز کے اسی ڈپارٹمنٹ کی پروفیسر ندا کرمانی نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’انھوں نے 1971 پر کانفرنس منسوخ کردی۔۔۔ یہ اس ملک میں اظہار رائے کی آزادی اور تعلیمی آزادی کے تابوت میں ایک اور کیل ہے۔‘

سماجی کارکن اور اکیڈمک پروفیسر عمار علی جان نے لکھا کہ ’یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ المناک واقعات کے 50 سال بعد بھی بنگلہ دیش پر بات کرنا کتنا مشکل ہے۔

’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت اس ظلم کے خلاف بات کرنے والوں کے لیے یہ کتنا مشکل ہوگا۔‘

صحافی غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کیا کہ ’بنگلہ دیش پر لمز کی کانفرنس میں کچھ بُرا نہیں تھا۔ اسے منسوخ کرنا یا اس کی مخالفت تعلیمی اداروں کی بنیاد کے خلاف ہے، یعنی رائے کی آزادی۔ تعلیمی اداروں کا مقصد مختلف آرا کا فروغ ہے۔‘

مریم ضیا بلوچ نے لکھا کہ انھیں اس پر افسوس ہے لیکن حیرانی نہیں۔ ’یہاں رائے کی آزادی پر لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔‘

صحافی طلعت اسلم نے لکھا کہ ’اس بات کو 50 برس گزر چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اعلیٰ یونیورسٹی میں تاریخ کا شعبہ اب بھی اس کی وجوہات پر ایک سیمینار نہیں رکھ سکتا کہ اکثریت بنگلہ دیش کا حصہ کیسے بن گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18520 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp