پاکستان: صدارتی نظام اور نظام خلافت


اس وقت وطن عزیز ایسی صورتحال سے دوچار کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنے مسائل کا حل کس کے ہاتھ پر تلاش کریں۔ کچھ ایسی بد قسمتی اور مسخ شدہ نظام کے تحت حکومتوں پر حکومتیں بنی ہوئی ہیں۔ ہر کسی بادشاہ پر ایک اور سلطان تخت نشین ہے اور عوام کو ہر ایک میر جعفر کے بعد میر صادق کا سامنا ہے۔ ہر کوئی یہاں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ کسی کو نہیں پتا کہ ملک کا اصل حاکم صدر مملکت ہے یا جناب وزیراعظم محترمہ۔ ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے والا وزیر اعلیٰ ہے یا گورنر۔

جب بات صدارتی نظام کی ہو رہی ہے تو میرے اوپر یہ فرض ہے کہ میں پہلے پارلیمانی نظام کے بارے میں آپ کو آگاہ کرو۔ اس کی کمزوریوں کو بھی آپ کے سامنے رکھوں۔ پارلیمانی نظام ایک ایسا جمہوری نظام ہے جس میں عوام کو اتنا حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے ایم این اے کو منتخب کریں اپنے قیمتی ووٹ سے۔ پھر جس پارٹی کے زیادہ ایم این اے جیت جائیں تو ملک کے وزیراعظم بھی اسی پارٹی سے ہوتے ہیں۔ یہ ہی عمل پھر صوبائی اسمبلی میں بھی دہرایا جاتا ہے اور زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پارٹی سے وزیراعلی منتخب ہوتے ہیں۔ پھر ہمارے ہاں ایک اور ہاؤس بھی پایا جاتا ہے جسے ہم سینٹ کہتے ہیں۔ یہاں پر منتخب ہو کر آنے والوں کو سینیٹر کہتے ہیں۔ ان کی ووٹینگ پارلیمنٹ میں براجمان ایم این اے کرتے ہیں۔ میرے جیسے آدمی کے لئے اتنی معلومات ہونا کافی ہے۔

اب ہم آتے ہیں صدارتی نظام کی طرف۔ زیادہ گہرائی میں نہ بھی اترے بغیر یہ ہی بتانا کافی ہو گا کہ اس نظام میں عوام براہ راست اپنے صدر کو منتخب کرتی ہے۔ اور مشکل حالات میں انہیں پتا ہوتا ہے کہ ہم نے کس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا ہے۔ میرے نزدیک یہ اصل جمہوریت ہے اور یہی نظام خلافت کے قریب ترین ہے کہ عوام اپنے امیر کو منتخب کرے پھر اگر وہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول کے راستے پر لیکے چلے تو اس کا ہر حکم بجا لانا ہم پر فرض ہے اور یہ میں نہیں کہہ رہا یہ حدیث میں لکھا ہے ( مشکوۃالمصابیح 571 ) ۔

اب کچھ بات کر لی جائے فائدے اور نقصان کی۔ پارلیمانی نظام کی سب سے بڑی خامی جسے جمہوریت کا جھانسہ دے کر پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا کہ صرف منتخب لوگ ہی ادارے چلا سکتے ہیں یعنی وزارتیں انہی بی اے پاس لوگوں کا حق ہے۔ پھر ہمارے لوگوں کو مسئلہ ہوتا ہے کہ بیوروکریسی جس کا نام ہم نے اسٹیبلشمنٹ رکھا ہے مملک کے معاملات میں دخل انداز کیوں کر ہوتی ہے۔ یقین مانیے یہ اسٹیبلشمنٹ ہی ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز کی خستہ حال کشتی اتنے طوفانوں سے نکل آئی۔ نہیں تو یہ جعلی ڈگریوں والے کب کا اس ملک کو بیچ بیٹھے ہوتے۔ صدارتی نظام میں یہی فائدہ ہے کہ صدر اگر ایمانداری ہے تو وہ اپنے ساتھ ایک ایماندار اور ذمے دار ٹیم کا ہی انتخاب کرے گا اور اس طرح اہل لوگ اداروں کو چلائیں گے۔

دوسری سب سے بڑی خامی ہے وزیراعظم کے پیروں میں لگی بیڑیاں کہ وہ سب کو خوش رکھنے پر مجبور ہے سب سے پہلے کابینہ پھر باقی ایم این اے ز پھر اتحادی پھر اپوزیشن کی سازشیں۔ اور اگر کوئی ذرا سی کوشش کرتا ہے اس کھوکھلی جمہوریت کے خلاف جانے کی تو اسے اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ خیر ان مجبوریوں کا بہت ہی عمدہ نتیجہ نکلا ہے کہ 73 سالوں میں بائیس وزیراعظم اپنے پانچ سال پورے کرنے کی کوشش کر چکے ہیں اور ہاں اس میں سے چار مارشل لاء کے وقت کو خود ہی نکال لیجیے گا۔ اب اس کے برعکس صدر کو عہدے سے ہٹانا اور اسے دھمکانا اتنا آسان نہیں ہے کم سے کم یہ عدم اعتماد کا لطیفہ سنا کر تو بالکل بھی نہیں تو اس لیے وہ بغیر کسی دباؤ کے غیر جانبدار ہو کر فیصلہ کرتا ہے۔

ہم کافی دیر سے اس ادھار نظام کو اپنے ملک میں کامیاب کروانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ادھار کو واپس کر کے اس نظام کا نفاذ عمل میں لائے جو ہماری روایات اور احکام کے عین مطابق ہے۔ ایک اور زیادتی جو ہمارے ذہنوں کے ساتھ کی گئی ہے کہ جب بھی خلافت یا اسلامی نظام کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو فوراً ہمارے دل گھبرا جاتے ہیں کہ اب ہمیں شلوار قمیض پہنے پر مجبور کیا جائے گا اور برقع لازمی قرار دے دیا جائے گا خدارا اس بات کو سمجھے کہ دین میں لباس ہے لباس میں دین نہیں۔

اسلام تو ہمیں آداب سکھاتا ہے زندگی گزارنے کے پھر وہ چاہے حکمران ہو یا کوئی عام مزدور۔ ہم اپنی چھوٹی سی آسانی کے لئے دوسروں کو مشکل میں دیکھنا قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن اب فیصلہ کا وقت ہے اب کسی حتمی نتیجے پہ پہنچنے کا وقت ہے۔ اب اپنی قسمت آزمانے کا وقت ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کشتی جسے طوفان سے نکال کر ہمارے سپرد کیا گیا تھا ان تیز لہروں کی نذر نہ ہو جائے

Facebook Comments HS