آزاد جموں وکشمیر سے ”آزاد“ کا لفظ ختم کرنے کی تحکمانہ تجویز!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریباً تین ہفتے قبل وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر صد راجہ محمد فاروق حیدرخان کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ مجھے کہا گیا کہ آزاد جموں وکشمیر سے ”آزاد“ کا لفظ ختم کر دیا جائے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہم نے آزاد کشمیر کے لوگوں کی عزت کا خیال رکھا تشخص پر حرف نہیں آنے دیا، وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے معیار و مرتبے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آزاد کشمیر کے تشخص کے لیے اگلے الیکشن میں جاگتے رہنا ہے، ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا، یہاں کبھی سپریم کورٹ ختم کرنے کی باتیں ہوئیں کبھی اسمبلی نشستیں کم کرنے کی کبھی مجھے کہا گیا آزاد جموں وکشمیر سے ”آزاد“ لفظ نکال دیں۔

اس بات کے اشارے واضح ہیں کہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے جموں وکشمیر میں تقسیم کی موجودہ صورتحال کو ہی برقرار رکھے جانے پر اتفاق کی صورتحال کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے اقدامات زیر کار ہیں۔ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی حیثیت میں بھی تبدیلی کی باتیں اہم شخصیات کے حوالے سے سامنے آ رہی ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا یہ انکشاف ایک نئی خبر ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سے ”آزاد“ کا لفظ ختم کر دیا جائے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس ”تحکمانہ تجویز“ کو قبول نہیں کیا۔

سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے میں چین کی کوئی دلچسپی، مطالبہ نہیں ہے بلکہ ایسا امریکہ کی ایما پہ کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ کشمیر میں ’سٹیٹس کو‘ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اب امریکہ کے درپردہ کردار سے پاکستان اور ہندوستان نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے امریکی کوششوں سے کوئی پس پردہ کوشش ہو رہی ہے تو اچھی بات ہے، تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ اس عمل میں پاکستان کی طرف سے کشمیریوں سے لاتعلقی پر مبنی اقدامات تو نظر آ تے ہیں لیکن کشمیریوں کے مصائب، مشکلات، حقوق سے متعلق صورتحال میں بہتری کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔

اسی تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ بعض حلقوں کی طرف سے انہی دنوں یہ تجویز بھی اچھالی جا رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے کشمیری نظریہ ضرورت کے تحت ہندوستان کے ساتھ انگیج ہوں۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے ہندوستان میں مدغم کرنے کے جارحانہ اقدام کے تناظر میں ہندوستان کے ساتھ ’انگیج‘ ہونے کا راستہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ کشمیریوں کو یہ مشورے دیے جا رہے ہیں کہ وہ ہندوستانی حکومت کا ہر معاملے میں ساتھ دیں، چاہے معاملہ مزاحمتی تحریک کا ہو یا متنازعہ ریاست میں ڈیمو گریفک تبدیلی کا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حید ر خان نے چند ہی روز قبل اسلام آباد میں کہا کہ گپکار اعلامیے کی حمایت نہیں کر سکتے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نواز سیاستدان چال چل رہے ہیں اور ان کا مطمح نظر اقتدار ہے، ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر منظم پالیسی کے تحت کشمیریوں میں تقسیم درتقسیم کا عمل شروع کیے ہوئے ہے اور تمام وسائل استعمال کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود آزادی پسندوں کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ آزاد کشمیر بھی اس کے ٹارگٹ پر ہے لیکن ہمیں آنکھ کان کھلے رکھنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگ گلگت صوبہ بننے کا فیصلہ اور آزاد کشمیر کے الیکشن کو ایک تناظر میں دیکھیں، صرف حکومت نہیں بنانی، کچھ لوگ آزاد کشمیر کی حکومت بنانے کے لئے ہر قسم کی بات ماننے کو تیار ہیں مگر مسلم لیگ نون کے لئے یہ چیز کسی صورت قابل قبول نہیں، تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ کسی کو غداری نہیں کرنے دیں گے۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کچھ عرصہ قبل ہی کہا تھا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ آزاد جموں وکشمیر کے آخری وزیر اعظم ہوں گے۔

پاکستان انتظامیہ کی یہ کشمیر پالیسی اسی طرح کی ہے جس طرح پاکستان کو چلانے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اگر پاکستان کا اقتدار عوامی پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہوتا تو آج نہ پاکستان اتنا کمزور، بے بس اور انتشار میں مبتلا ہوتے ہوئے ملک و عوام کو خراب کیے ہوتا اور نہ ہی آٹھ عشروں سے ہندوستان کے خلاف آزادی کی مزاحمت کرنے والے کشمیریوں کی قربانیوں کے بے ثمر ہونے کی صورتحال درپیش ہوتی۔ آج پاکستان انتظامیہ عوام کو یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ کون سے ”قومی مفاد“ ہیں جو خفیہ طور پر پسپائی کے انداز میں زیر عمل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply