بدامنی کے ذمہ دار کون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجود دور میں پوری دنیا ہی سنگین حالات سے دوچار ہے۔ امن کہیں نظر نہیں آتا۔ ایک تو کرونا کی وبا نے دنیا کو پریشان کر کے رکھا ہوا ہے۔ دوسرے کوئی بھی میڈیا اٹھا کے دیکھ لیں چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا، جرائم اور قتل و غارت سے بھرے پڑے ہیں۔ پیار و محبت ا ور بھائی چارے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے بے سکونی اور بدامنی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ علم و تدریس کے ادارے کرپشن کا شکار ہیں۔

جن کا فرض معصوم بچوں کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ وہ انہیں قوم کے معمار بنانے کی بجائے سلیبس کو مکمل کرنے میں محو رہتے ہیں اور سلیبس غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے بچوں کی تربیت کرنے سے قاصر ہے۔ موبائل اوربرائے نام غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے بچے اور نوجوان بے راہ روی کاشکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ کبھی مشرقی اقدار کی مثالیں دی جایا کرتی تھیں۔ ا ستاد کا درجہ والدین سے بھی بلند مانا جاتا تھا۔ خاندانوں میں بلکہ گلی محلوں میں پیار و محبت جھلکتا تھا۔

سب کی عزتیں سانجھی ہوتی تھیں۔ شادی بیاہ کا معاملہ ہوتا یا کسی گھر میں ماتم ہو جاتا تو گھر والوں سے زیادہ محلے والے متحرک اورفکرمند دکھاتی دیتے تھے۔ محدود وسائل ہونے کے باوجود لوگ بڑی پر سکون زندگی بسر کر رہے تھے۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے وقت اور حالات نے ایسا پلٹا مارا کہ زمانے سے محبت، بھائی چارہ اور امن ہی اٹھ گیا۔ فرد واحد ہے تو وہ ذہنی دباؤاور الجھنوں کا شکار ہے۔ خاندانوں میں بے سکونی پائی جاتی ہے۔

نا اتفاقی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سگے بہن بھائی صلاح مشورہ کرنے کی بجائے اپنے ذاتی اور خاندانی معاملات کو ایک دوسرے سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں بھی امن یا سکون کا پہرہ نہیں ہے۔ بات بات پرتکرارہوتی ہے اورپھر یہ تکرار دنگا فسادکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ مسائل اور مصائب کی اس کیفیت میں کمی ہونے کی بجائے دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لوگ طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوں کاشکار ہو رہے ہیں۔

قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ محبت، بھائی چارہ، سچائی اور انصاف، امن کی بنیادی اکائیاں ہیں۔ مگر یہی معاشرے سے ناپید ہو گئی ہیں۔ نتیجہ جرائم میں اضافہ، بدامنی اوعدم اعتماد اورر عدم برداشت ہے۔ نیزمعاشرہ بد امنی میں پنپ رہا ہے۔ یہی عمل آج ملکی ایوانوں میں بھی دوہرایا جا رہا ہے۔ ریاست اور سیاستدان آپس میں ہی الجھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو اور اپوزیشن حکومت کوزیر کرنے میں لگی ہے۔ ریاست اس وقت خود ابتری کا شکار ہے جو عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کی ضامن ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو فرد واحد سے لے کر خاندانوں اور ملکی سطح پر بھی حالات اسی طرح کی ابتری کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ معاشی مسائل، ناخواندگی، مذہب سے دوری، غیر یقینی کیفیت اور دہشت ہے۔ معاشرے میں بے راہ روی اور تشدد میں ہو شرباہ اضافہ ہوا ہے۔ جب تک انصاف اور قانون سب کے لئے یکساں نہ ہو اور اس پر سختی سے عمل درآمد نہ کروایا جائے گا، معاشرہ سدھرے گا نہیں۔ بلکہ پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا چلا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رویوں کے زاویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تبدیلی صرف کہہ دینے سے نہیں آجاتی۔ تبدیلی لانے کے لئے عمل کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اقبال نے کہا ہے عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ اور آج جو بوئیں گے کل وہی توکاٹیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply