سولہویں صدی کے ہندوستان سے 23 مارچ 2021 کے پاکستان تک
پاکستان کی نصابی کتابوں کا طالب علم میری طرح مغالطے کا شکار رہتا ہے کیونکہ اسے مکمل حقائق میسر نہیں آتے اور وہ ان کی کھوج میں کبھی کبھار کافی آگے نکل جاتا ہے۔
یوم پاکستان ہماری تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن، یعنی 23 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ اس دن ”23 مارچ“ پورے پاکستان میں عام چھٹی ہوتی ہے۔ (وکیپیڈیا)
کیوں نہ اس واقعے سے پہلے تاریخ کے جھروکوں سے اس خطے کی تاریخ کا کچھ جائزہ لیا جائے تو چلیے زیادہ دور نہیں سولہویں صدی میں چلتے ہیں، جب مغل شہنشاہ پوری دنیا میں صرف ایران کے صفوی بادشاہ اور عثمانی خلیفہ کو اپنا مد مقابل سمجھتے تھے۔
ان کی نظر میں انگلستان ایک چھوٹا سا بے وقعت جزیرہ تھا، اس کے کسی معمولی بادشاہ کے ساتھ برابری کی سطح پر معاہدہ کرنا ان کی شان کے خلاف تھا۔ تاہم اس وقت کے انگریز سفیر سر ٹامس رو نے ہمت نہیں ہاری، اور وہ تین سال کی ان تھک محنت، سفارتی داؤ پیچ اور تحفے تحائف دے کر جہانگیر سے تو نہیں، البتہ ولی عہد شاہ جہاں سے آج سے ٹھیک چار سو برس قبل اگست 1618 میں ایک معاہدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ہو گئے جس کے تحت اس کمپنی کو سورت میں کھل کر کاروبار کرنے کی اجازت مل گئی۔
اس کمپنی کا نام ایسٹ انڈیا کمپنی تھا اور یہ واقعہ اس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مغل حکومت نے براہ راست ایک یورپی ملک کے ساتھ باقاعدہ تجارتی معاہدہ کر کے اس کی ایک کمپنی کو مراعات دی تھیں اور یوں اسے ہندوستان میں قدم جمانے کا پروانہ مل گیا تھا۔
امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے ’دا گریٹ بک آف ہاریبل تھنگز‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے تاریخ کی ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں تاریخ کی چوتھی بدترین سفاکی برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط ہیں جن میں وائٹ کے مطابق دو کروڑ 66 لاکھ ہندوستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق ہندوستان میں انگریزوں کے دور میں آنے والے پے در پے قحطوں کی وجہ حکومتی پالیسیاں تھیں۔
دکھ اس امر کا ہے کہ یہ سب اس کے باوجود ہوا جبکہ ہندوستان کا شمار دنیا کے سب سے زرخیز خطوں میں ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے۔
نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیا سین نے اس قحط میں ہونے والی اموات کی تعداد ایک کروڑ بتائی ہے۔ اس دور کا ایک منظر ایک انگریز ہی کی زبانی دیکھیے :
’دسیوں لاکھ لوگ چند بقیہ ہفتوں تک زندہ رہنے کی آس لیے مر گئے جو انہیں فصل تیار ہونے تک گزارنے تھے۔ ان کی آنکھیں ان فصلوں کو تکتی رہ گئیں جنہیں اس وقت پکنا تھا جب انہیں بہت دیر ہو جاتی۔‘
چونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی دوسرے یورپی ملکوں سے اکثر جنگیں چلتی رہتی تھیں اور یہ ایک دوسرے کا مال لوٹنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، اس لیے انگریزوں نے اپنی فیکٹریوں میں بڑی تعداد میں مقامی سپاہی بھرتی کرنے شروع کر دیے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ یہ فیکٹریاں پھیل کر قلعوں اور چھاؤنیوں کی شکل اختیار کرنے لگیں۔ مغل کچھ اپنی نا اہلی اور کچھ بیرونی حملوں اور مرہٹوں کی چیرہ دستیوں کے باعث اس قدر کمزور ہو چکے تھے کہ وہ دور ہی دور سے انگریزوں کے رسوخ کو دن دگنا، رات چوگنا بڑھتے دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔
چنانچہ جنگ پلاسی کے صرف نصف صدی بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپاہ کی تعداد اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی اور انہوں نے بنگال سے نکل کر ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ 1803 کے آتے آتے دہلی کے تخت پر بیٹھا مغل شہنشاہ شاہ عالم ایسٹ انڈیا کمپنی کا وظیفہ خوار بن کر رہ گیا۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی شاہ عالم کے پرکھے جہانگیر کے آگے انگریز سفیر ٹامس رو گھٹنوں کے بل جھکتا تھا، اب یہ حالت تھی کہ اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کو جھک کر پورے بنگال کا اختیار نامہ پیش کرنا پڑا۔
اس دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور ایک کے بعد ایک ریاست، ایک ایک بعد ایک راجواڑا ان کی جھولی میں گرتا رہا۔ 1818 میں انھوں نے مرہٹوں کو سلطنت ہتھیائی، اس کے بعد اگلے چند عشروں میں سکھوں کو شکست دے کر تمام مغربی ہندوستان یعنی آج کے پاکستان پر بھی قابض ہو گئی۔ اب درۂ خیبر سے لے کر برما اور ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے لے کر راس کماری تک ان کا راج تھا۔
پھر وقت نے پلٹا کھایا اور 1857 میں کمپنی کے اپنے ہی تنخواہ دار سپاہیوں نے بغاوت کر دی جس کے دوران بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا۔ اس زمانے میں اخبار عام ہو گئے تھے۔ اس ساری گڑبڑ کی خبریں انگلستان تک پہنچیں۔ ہوتے ہوتے کمپنی کا تاثر برطانیہ میں اتنا خراب ہو گیا کہ بالآخر پارلیمان کو عوامی دباؤ کے زیر اثر کمپنی کو قومیانے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ہندوستان براہ راست برطانوی حکومت کی عمل داری میں آ کر ملکہ وکٹوریہ کے ’تاج کا سب سے درخشاں ہیرا‘ بن گیا۔
اس کمپنی کے غلبے سے پہلے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا تھا۔ جب کہ اسی دوران انگلستان کا حصہ صرف دو فیصد تھا۔ ہندوستان کی زمین زرخیز اور ہر طرح کے وسائل سے مالامال تھی اور لوگ محنتی اور ہنرمند تھے۔ یہاں پیدا ہونے والے سوتی کپڑے اور ململ کی مانگ دنیا بھر میں تھی، جب کہ سٹیل کی صنعت میں بھی ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
ساری صورت حال جنگ پلاسی کے بعد بدل گئی، جب 1947 میں انگریز یہاں سے جانے لگے تو مسلمان کل آبادی کا 15 سے 22 فیصد تھے، اس وقت کے حالات کے مطابق قائد اعظمؒ نے ہندوؤں کی سیاسی سرگرمیوں کو بھانپتے ہوئے دو قومی نظریہ پیش کر دیا۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ کانگریس مسلمانوں کو اقتدار میں شامل کرے اور معاہدہ کرے کہ ان کی مرضی کے خلاف قانون سازی نہ ہو سکے، اگر قائداعظم ایسا نہ کرتے تو کانگریس جو کہ ہندوؤں کی نمائندہ جماعت تھی، مستقل اکثریت میں رہتی اور اپنی مرضی کے قانون بناتی۔
ہمیں شکر کرنا چاہیے کہ ہمیں علامہ اقبالؒ اور قائداعظم جیسے عظیم لیڈر ملے جنہوں نے 40 سال سے زائد جدوجہد کی۔ علامہ اقبال نے تو مالی پریشانی اور صحت کے مسائل بھی کاٹے مگر اپنا زیادہ وقت قوم کو دیا اسی طرح قائدؒ نے اپنی ازدواجی زندگی کی قربانی دی اور اپنی بیٹی کو بھی وقت نہ دے سکے اور آخری عمر ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو کر جان دی۔ ہمیں اپنے لیڈروں کی قربانیاں یاد رکھنی چاہئیں اور ان کا احترام کرنا چاہیے۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ کروڑ افراد بے گھر ہوئے، جب کہ پرتشدد واقعات میں 20 لاکھ افراد نے جانیں گنوائیں۔ پھر قوم نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ مسلم ریاست حاصل کی۔
یہ ہماری قوم ہی ہے جس نے انتہائی مشکل حالات کا نہ صرف مردانہ وار مقابلہ کیا ہے بلکہ عزت و وقار سے زندگی گزاری ہے۔ آج پاکستان اپنے قیام کے 73 سال کی خوشیاں منا رہا ہے تو اس موقع پر قائداعظم محمد علی جناح کی عظمت کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے 1947 میں دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کی بنیاد رکھی۔
محمد علی جناح ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اسلام نے ہمیں میانہ روی، انصاف اور عدل کی تعلیم دی، انہوں نے واضح کیا کہ ان اوصاف کے بغیر پاکستان کبھی بھی ایک دینی ریاست نہیں بن سکتا۔ پاکستان اب 73 برس کا ہو چکا ہے اور اب اس مملکت خداداد کی داستان ہماری اور آپ کی قسمت بن چکی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے قرآن و سنہ کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف جمہوریت کو ہی ترجیح دی ہے۔
ریٹائرڈ فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ نگار مرزا اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ نہ ماضی کی کسی حکومت کو، نہ موجودہ حکومت کو اور نہ ہی متعدد مذہبی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ قوم کی نظریاتی شناخت کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ دیتے۔
ہماری سیاسی و نظریاتی تفریق کا سبب ہمارا برسر اقتدار طبقہ ہے، جس نے ہمارے معاشرے کو لبرل، سیکولر، روشن خیال اور قوم پرست گروپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ مذہبی طبقات نظرانداز ہونے کے سبب نمایاں سیاسی مقام نہیں رکھتے اور نہ ہی حکمرانی سے متعلق معاملات یا پالیسی سازی کے عمل میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔ وہ تو بذات خود زیادتی کا شکار ہیں اور ہمارے عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ ہماری دینی جماعتیں اپنی ظاہری اور باطنی کاوشوں کے باوجود، جن کا پرچار میڈیا پر دن رات ہوتا ہے، پاکستانی قوم کے رخ کو درست سمت میں رکھنے میں ناکام ہیں۔
پاکستان کی سیاسی و نظریاتی تفریق خطرناک ہوتی جا رہی ہے جو فوری تدارک کی متقاضی ہے۔ ہماری نظریاتی تفریق اور نظریات سے عاری موجودہ سیاسی نظام ان مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو کہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں نظام حکومت منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصول ہیں۔ یہی ہمارا نظریہ حیات ہے جس کی تشریح 1973 ء کے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے :
”پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہو گا جس کی بنیاد قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہو گی“ ۔
ہمارے قومی نظریہ حیات کے دونوں عناصر کے مابین توازن پیدا کرنے کا ایک ہی راستہ ہے یعنی جمہوریت ہمارا نظام حکمرانی ہو گا اور قرآن و سنہ اس نظام کو نظریاتی تحفظ فراہم کرے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھا رکھا ہے مگر قومی نظریہ حیات کے تقدس کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔
موجودہ ابتر صورت حال کے تدارک کی ذمہ داری جہاں ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے وہیں سیاسی اور دینی جماعتوں کی بھی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ لبرل اور سیکولر عناصر ملکی معاملات سے مذہب کو الگ کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی دانست میں ”انسانی بقاء کا محور اللہ تعالی کی ذات کی بجائے ترقی پسندانہ نظام ہے جو شخصی خودمختاری کا قائل ہے۔ اولیت اللہ تعالی کی ذات کو نہیں بلکہ انسان کو حاصل ہے۔ (نعوذ باللہ) ۔ بنگلہ دیش اس امر کی واضح مثال ہے لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے بہت مختلف ہے۔ خدانخواستہ اگر ویسی صورت حال پیدا ہوئی تو پاکستان گمبھیر صورتحال میں گھر جائے گا۔
کچھ ایسے ہی حالات 1965۔ 66 میں انڈونیشیا کو درپیش تھے جب سوشلزم اور کمیونزم کی تبلیغ کی جا رہی تھی، جس کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک چلی اور خانہ جنگی ہوئی جو ڈیڑھ ملین عوام کی موت کا سبب بنی اور آخر کار صدر سہارتو نے اقتدار سنبھالا۔ خدانخواستہ اگر ہم اس بگڑتی ہوئی صورت حال کا تدارک کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں شدید خطرات کا سامنا ہو گا کیونکہ پاکستان انڈونیشیا کی طرح جزیرہ نہیں ہے۔ ہمارے ہمسائے میں انقلابی ایران اور افغانستان جیسے جہادی ممالک ہیں جو خاموش نہیں بیٹھیں گے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو گا جسے سنبھالنا آسان نہ ہو گا۔
لہٰذا 23 مارچ کے دن شاہراہ دستور پر محض پریڈ دکھانا کافی نہیں بلکہ ہمارے دانشوروں، سیاسی رہنماؤں، دفاعی اداروں اور مذہبی رہنماؤں کو سنجیدگی سے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے مضبوط لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا۔


