مارچ کا ایک پس پردہ موضوع: غذائیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر صحافیوں، کالم نگاروں، اور ٹی۔ وی چینلز نے خوب تبصرے کیے ۔ مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی عورت مارچ پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا۔ بعد ازیں نمل یونیورسٹی کیس، سینیٹ الیکشن، یونیورسٹی آف لاہور کیس، کرونا کی تیسری لہر اور اسی طرح کے کئی اور ملکی اور غیر ملکی مسائل زیر بحث رہے۔

ان تمام موضوعات پر بات کرنا نہایت ضروری تھا۔ لیکن اس مہینے کی نسبت سے ایک موضوع جو ہر شخص کے لئے نہایت اہم ہے اسے پس پشت رکھا گیا۔ اس موضوع پر بات نہ کرنے کی وجہ اس بارے میں آگاہی نہ ہونا ہے۔ مارچ کا مہینہ دنیا بھر میں عالمی غذائیت کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

چونکہ مارچ کا مہینہ دنیا میں عالمی غذائیت کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے تو اس کی تاریخ کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ سب سے پہلے اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائٹیٹکس (Academy of Nutrition and Dietetics) نے 1973 میں مارچ کے ایک ہفتے کو نیشنل نیوٹریشن ویک (National Nutritional Week) کے طور پر منانا شروع کیا اور عوام کو غذائیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔ چند برس گزرنے کے بعد غذائیت کی اہمیت کو جانتے ہوئے ایک ہفتے کی بجائے پورا مہینہ عالمی غذائیت کے مہینے کے طور پر منایا جانے لگے۔

گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں بھی مارچ کا مہینہ غذائیت کے مہینے کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ہر سال مارچ کے دوسرے ہفتے کے بدھ کو عالمی غذائیت کا دن (World Nutrition day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس مہینے کو منانے کا مقصد عوام کو غذائیت کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو ہماری بیشتر آبادی کا مسئلہ غذائیت کا ہی ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے بے شمار مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اگر غذائی قلت کی وجہ سے جنم لینے والے مسائل پر بات کی جائے تو تقریباً ہر تیسرا شخص غذائی کمی سے دوچار ہے۔ قابل فکر بات یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ضرورت زندگی کی ہر شے میسر ہے اس کے باوجود غذائی مسائل عروج پر ہیں۔

اگر پاکستان میں خوراک کی پیداوار کے اعتبار سے بات کی جائے تو پاکستان میں خوراک کی موجودگی ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ جو مسائل ہمیں درپیش ہیں وہ خوراک کی حفاظت، تقسیم، ترسیل، اور ہماری نفسیات ہے۔

خوراک کی حفاظت اور تقسیم ہمارا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں خوراک وافر مقدار میں موجود ہے وہاں حفاظتی تدابیر کی قلت کی وجہ سے خوراک کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔ شمالی علاقہ جات میں پایا جانے والے پھل جو اپنے اندر غذائیت کا ایک بیش بہا خزانہ رکھتے ہیں جن میں خوبانی، آڑو، انگور اور آلوبخارا شامل ہیں حفاظتی تدابیر کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثر ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کجھور کی ایک بڑی فصل بھی ہر سال حفاظتی تدابیر کی نذز ہو جاتی ہے۔

خوراک کی ترسیل اور تقسیم ملک بھر میں غذائی قلت کی اہم وجہ ہے۔ خوراک کی ترسیل (Transport) ایک اہم شعبہ ہے جس میں پڑھے لکھے اور علم رکھنے والے لوگوں کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاس اس شعبے میں کام کرنے والے لوگوں کو اس کی حفاظت کا کوئی علم نہیں۔ چونکہ خوراک کی ترسیل میں مدد فراہم کرنے والے افراد کا تعلق کسی ادارے یا کمپنی سے نہیں بلکہ ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں خوراک یا فصل کی اس جنس کے بارے میں ضروری معلومات تک کا علم نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں خوراک کی بڑی مقدار غیر معیاری انتظامات کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔

ان تمام مسائل کے علاوہ غذائی قلت کا سب سے بڑا مسئلہ تقسیم اور نفسیات ہے۔ اول تو حکومتی سطح پر بھی خوراک کی تقسیم منصفانہ نہیں ہے۔ جو فصل جس علاقہ میں دستیاب ہے وہاں کوئی حکومتی حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے گل سڑھ جاتی ہے اور پھر غذائی اعتبار سے نہایت ضروری ہونے کی وجہ سے وہی چیز دوسرے علاقوں میں فراہم کرنے کے لئے اکثر درآمد کی جاتی ہے جو کہ مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے اور وہ لوگ جو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک نہایت اہم مسئلہ نفسیات ہے۔ ہمارے ہاں استطاعت رکھنے والے لوگ اپنی سوچ کی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں اپنی اوقات بڑھانے کے لئے اکثر لوگ سب سے زیادہ سمجھوتہ کچن باسکٹ پرہی کرتے ہیں۔ کیونکہ جو پہننا ہے، جہاں بیٹھنا ہے وہ تو سب دیکھتے ہیں تو کچن باسکٹ پر سمجھتوتہ کر لیا جاتا ہے کیونکہ کچن میں کیا ہے یہ تو کوئی نہیں دیکھے گا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال تب پیش آتی ہے جب کھانے پر خرچہ بھی ہو رہا ہے اور کھانا فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچاتا ہے۔ اور یہ معاملہ فاسٹ فوڈز کے شوقین افراد کے ساتھ اکثر پیش آتا ہے۔

ایک نہایت اہم مسئلہ خود غرضی بھی ہے۔ جس کے پاس جتنا زیادہ ہے وہ اس میں سے تقسیم کی بجائے مزید کی حرص میں مبتلا ہے اور یہی خودغرضی اسے بی حس بنا دیتی ہے۔ پھر ہر شخص اپنی اوقات کے مطابق دوسرے سے خود کو بڑا بنانے کے کوشش میں اپنے اردگرد ضرورت مندوں سے لاپروا ہے۔

چونکہ ہمارے ملک میں خوراک کے بارے میں کوئی آگاہی فراہم نہیں کی جاتی اس وجہ سے اکثر وہ لوگ جو اس شعبے سے وابستگی نہ رکھتے ہوں خوراک اور خصوصاً متوازن خوراک کی اہمیت سے باکلکل بے بہرہ ہیں۔ لہذا حکومت کو اس شعبے میں بہت بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو خوراک اور غذائیت کا علم رکھتے ہوں انہیں خوراک کی حفاظت، تقسیم اور ترسیل کے شعبوں میں شامل کیا جائے۔

ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے طور پر اپنے اردگرد کے لوگوں کو کم از کم بھوکا سونے سے بچائے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ جہاں ہر طرف خود غرضی اور نفسا نفسی کا عالم ہے وہیں کچھ افراد خلوص دل سے عوام میں خوراک کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو ان کی مدد کرنی چاہیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments