سرکاری تعلیم گاہوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا؟


میں نے اپنی ماسٹرز تک کی تعلیم سرکاری تعلیم گاہوں میں حاصل کی ہے۔ پرائمری اسکول میں تعلیم کے علاوہ ہر چیز حاصل کی۔ اسکول کی عمارت میں تین بوسیدہ کمرے تھے۔ جس میں طالب علم گھر سے لائے ہوئے ٹاٹ یا بوری پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کچھ کلاسز کھلے آسمان تلے بیٹھتی تھی۔ گرمیوں میں کلاسوں کے اوپر ترپال ڈال دی جاتی تھی تاکہ دھوپ سے بچا جا سکے۔ اساتذہ سردی میں کینو اور گاجر مولی سے لطف اندوز ہوتے اور گرمی میں آم اور نان پکوڑوں سے محفل جمائی جاتی تھی۔

اس طرح کی محافل کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں تھا۔ طالب علموں کو پڑھانے کی ذمہ داری کلاس کے لائق طالب علم کے ذمے ہوتی تھی۔ ہیڈ مسٹرس صاحبہ مہینے میں ایک دو بار اپنے درشن کروانے اسکول تشریف لاتی تھی اور سب اسٹاف کو اکٹھا کر کے خاندانی اور سسرالی مسئلوں کو زیر بحث لایا جاتا تھا۔ منہ کے ذائقے کو بدلنے کے لئے کبھی کبھار تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا جاتا تھا۔ پرائمری پاس کرنے کے بعد اگلی منزل ہائی اسکول تھا، وہاں بھی حالات مختلف نہیں تھے۔

ہائی اسکول میں بھی تدریس کے فرائض کلاس مانیٹر کے ذمہ تھے۔ پورے اسکول میں ریاضی اور سائنس مضمون کی ٹیچر دستیاب نہیں تھی۔ جو باقی سٹاف جنرل مضامین کا تھا، ان کی بھی حالت بہت پتلی تھی۔ طالب علم سے پیسہ اور تحائف لے کر پہلی پوزیشن دی جاتی تھی۔ اپنے پسندیدہ طالب علم کو ہر کام میں پیش پیش کیا جاتا تھا۔ سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ امتحانی پرچے بھی طالب علموں سے چیک کرائے جاتے تھے حتیٰ کہ حتمی نتیجہ بھی طالب علم سے تیار کرایا جاتا تھا۔

اساتذہ کی سستی کا عالم یہ تھا پرچہ چیک کرنے والے طالب علم کو اپنا پرچہ چیک کرنے اور مرضی کے نمبر لگانے کی آزادی تھی۔ خیر کسی نہ کسی طرح ہائی اسکول پاس کر کے کالج کے درشن کرنے میں کامیاب ہو گئے اور کالج ایک ایسا دریا ثابت ہوا جو بغیر سمت کے بہتا جاتا ہے اور اپنے ساتھ ہر چیز کو بہا کر لے جاتا ہے۔ کالج میں ایسے کمال کے اساتذہ تھے جن کا کام صرف رٹا رٹایا لیکچر دینا ہوتا تھا۔ ان کو اس بات سے ہرگز کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا کہ آیا کلاس کو کچھ سمجھ آیا ہے یا نہیں آیا۔

سب سے لاجواب اور عمدہ انگلش کی ٹیچر تھی جو دیواروں کو پڑھاتی رہتی تھی۔  طالب علموں سے eye contact بھی نہیں کرتی تھی۔ وہ کیا بولتی رہتی تھی، کلاس کبھی سمجھ نہیں پائی تھی۔ اور یہاں ہی سے ہماری انگلش کا بیڑا غرق ہونا شروع ہو گیا تھا۔ کالج کی جو سب سے اچھی بات ہمیں لگی ، وہ یہ تھی کہ یہاں پر کلاس بنک کرنے کی سہولت موجود تھی جس سے ہم خوب مستفید ہوئے۔ ایسے ہی حالات میں رینگتے رینگتے ہم ماسٹرز کرنے کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اور اس ماسٹرز کی ڈگری سے ہم آج تک استفادہ نہیں کر سکے کیوں کہ ہم نے کاغذ کا ٹکڑا حاصل کیا تھا تعلیم نہیں۔

ہمارا تعلیمی نظام مجموعی طور پر علم نہیں بلکہ پیسے لے کر ڈگریاں بانٹنے کی دکان ہے۔ اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ قابل اساتذہ کی بھی کمی نہیں بلکہ ہمارا ماننا ہے کہ شاید ہم ہی قابل اساتذہ کے قابل نہیں تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments