پاکستان کی ذہنی غلامی

14 اگست 1947 کو بظاہر پاکستان کے عوام نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی۔ لیکن ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہ کر سکی۔ ایک طویل عرصہ تک غلامی میں رہنے والی قوموں کے دماغ اور ذہین آزادی کو قبول کرنے سے قاصر رہتے ہے۔ وہ اپنی شخصی، بنیادی اور قومی حقوق سے نہ بلد رہتے ہے۔ غلامی نے ان کی سوچ اور صلاحیتوں کو محدود کر دیا ہوتا ہے۔ اور وہ غلامی کی زنجیروں سے لطف اندوز ہوتے ہے۔

Read more

ہم شرمسار ہیں

ایک خاص طرز عمل ثقافت رہن سہن ایک سوچ ایک عمل اور مشترکہ مفادات کے حامل لوگوں کے خاص گروہ کو قوم کہا جاتا ہے۔ لفظ قوم کی اہمیت کا اندازہ آپ کو اس وقت ہوتا ہے جب ایک قوم ہجوم کی شکل اختیار کر جائے۔ ہجوم لوگوں کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جس کی کوئی سمت نہیں ہوتی ہے جو مار جلاؤ گھیراؤ پر یقین رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایک قوم سے مختلف گروہوں میں تقسیم ہو

Read more

کیا ہم قاتل ہیں؟

جولائی کا مہینہ عورت کے لئے قاتل ثابت ہوا ہے۔ صائمہ قرة العین نور مقدم اور نسیم کے اندوہناک قتل کی باز گشت پورے ملک میں گونج رہی ہے۔ قرة العین دس سال شادی کے پھندے میں پھنسی رہی کوئی مسیحا اس مدد کو نہ آیا۔ آخر کار موت نے اس کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ شوہر کے روپ میں بھیڑیا ہر روز اس کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔ لیکن نہ تو آس پاس کے لوگ اور نہ ہی اس کے میکے والے مدد کو آئے۔ مظلوم کس کرب سے گزرتی ہو گی۔ جسم پر تشدد برداشت کر کے اب تو کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی ہو گی۔ یا پھر وہ گھنٹوں اپنے نیل پڑے بدن کو پتھرائی آنکھوں سے دیکھتی رہتی ہو گئی۔

Read more

عورتوں کو ہراساں کرتے ہوئے مردوں کی عزت خراب نہیں ہوتی؟

ہم ایک ایسے ظالم اور بے حس معاشرے میں زندہ ہے جس کی فضا مظلوم اور بے قصور خواتین اور بچوں کے خوں سے آلودہ ہے۔ اس تعفن زدہ ماحول میں زندگی سسکیاں لے رہی ہے۔ زندگی کی قیمت خون کے بدلے دی جاتی ہے۔ شکاری تاک لگائے بیٹھا ہے اور شکار کو جال میں پھنسانے کے لئے تیار ہے۔ شکار صدیوں سے زخم خوردہ اور خون آلودہ ہے پر شکاری ہر وقت میں نئے انداز کا جال بنتا ہے۔

Read more

کچھ مزید باتیں سان ڈیاگو کی

پہاڑوں کے درمیان میں موجود یہ شہر انتہائی پرسکون اور خوبصورت ہے۔ یہاں کے موسم کو اپنا مزاج بدلنے کے لئے مہینوں کا نہیں بس چند گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ صبح میں ہلکی پھلکی سردی کا ہوتی ہے۔ دوپہر کا مزاج کچھ گرم ہوتا ہے لیکن قابل برداشت ہوتا ہے۔ رات کے وقت موسم کافی سرد ہو جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں موسم تین رنگ بدلتا ہے۔ یہاں کی دھوپ کافی تیز ہوتی ہے ایسے لگتا ہے

Read more

مغرب کے کچھ ساحلی مناظر

ٹرین کے اسٹاپ سے سی سائیڈ تک دس منٹ کی پیدل مسافت تھی۔ ایک طرف پر گاڑیاں پارک کرنے کی جگہ تھی اور اس ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کے لئے فٹ پاتھ بنے تھے۔ درمیان میں سڑک تھی۔ کچھ لوگ اوپر سڑک پر گاڑی پارک کرنے کی بجائے نیچے بیچ پر لے جاتے تھے۔ سمندر تک جانے کے لئے کئی راستے بنے ہوئے تھے۔ نیچے جانے والی سیڑھیاں کافی کشادہ اور بڑی تھی۔ سیڑھیوں کے ساتھ بہت چوڑی سے

Read more

امریکا میں قصباتی زندگی

کچھ مصروفیات اور کچھ سستی کی وجہ سے با قاعدہ اپنے مشاہدات کو قلم بند کرنے میں تاخیر ہو گی ہے۔ اگر چہ الفاظ تو جمع ہوتے رہے لیکن تحریر کرنے سے قاصر رہی جس کی وجہ سے ایک بے چینی سے چھائی رہی۔ اپ کی سوچ اور سمجھ کو الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اور الفاظ کو تحریر کی ضرورت ہوتی ہے اور تحریر کو قاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں پر حلال اور دیسی اشیا کے لئے ایرانی

Read more

وہاں کا ائرپورٹ کافی منظم، بڑا اور صاف تھا

ائرپورٹ کی نسبت نا تو یہاں پر گندگی تھی اور نا ہی بد نظمی۔ اور نہ ہی کوئی نذرانہ مانگنے والا تھا۔ لاہور ائرپورٹ میں جب ہم واش روم استعمال کرنے گئے تو وہاں پر موجود خاتون نے بھی پیسے مانگنے شروع کر دیے۔ جس کو ہم نے خالی بیگ دیکھا کر جان بخشی کروائی۔ کاش ہمارے حکمرانوں نے اپنی جائیدادیں بنانے بینک بلینس میں اضافے کے علاوہ ملک کے فائدے کا بھی کچھ سوچا ہوتا۔ لاہور ائرپورٹ کا اگر کسی بھی بین الاقوامی ائرپورٹ سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

Read more

رکھنا قدم وادی غربت میں۔۔۔

ایک گھر سے دوسرا گھر ایک شہر سے دوسرا شہر بدلنا تو زندگی کا معمول تھا اور زندگی کا ایک خاصا بن چکا تھا۔ اور ایک عرصے سے خانہ بدوشی والی زندگی گزر رہی تھی۔ لیکن اس دفعہ یہ ہجرت ملک سے دیار غیر کی طرف تھی۔ لہٰذا اب کی بار کام بہت زیادہ اور تھکا دینے والا تھا۔ گھر کی چھوٹی سے بڑی چیز کو ٹھکانے لگانا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ پیار اور محبت سے بنائی جانے والے سامان

Read more

تعلیم کا کاروبار کرنے والا مافیا

مافیا کا اطلاق ان جرائم پیشہ گروہوں پر ہوتا ہے جن کا تنظمی ڈھانچہ اور ضابطہ اخلاق یکساں ہوتا ہے۔ پاکستان میں مافیا ایک جانا پہچانا لفظ ہے۔ یہاں پر کئی طرح کے مافیاز سرگرم عمل ہیں جن میں ہسپتال مافیا ، تعلیمی مافیا ، آٹا مافیا ، گندم مافیا ، میڈیکل اسٹور مافیا ، قبضہ مافیا ، شوگر مافیا،  بھیک مافیا قابل ذکر ہے۔ موجودہ حکومت کا سب سے پسندیدہ لفظ اور اس دور میں سب سے زیادہ بولا

Read more

پی ڈی ایم کا منتخب حکومت کے خلاف اتحاد

پاکستان کے قیام کو بہتر سال ہو گے ہے۔ اگر پاکستان کی بہتر سالہ سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔ تو پاکستان میں سیاسی حکومتوں کی بجائے زیادہ تر فوجی حکومتیں اقتدار پر برا جمان رہی ہے۔ اس کی وجہ سیاست دانوں کی ناعاقبت اندیشی تھی یا پھر مسلح افواج کی مورچوں کی بجائے اقتدار اور سیاست میں دل جسپی تھی۔ اس کے بارے میں حتمی رائے قایم نہیں کی جا سکتی ہے۔ مختلف مکا تب فکر اس بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے ہے۔ پاکستان میں اقتدار فوج اور سیاست دانوں میں نورا کشتی کا باعث بنا رہا ہے۔

Read more

سرکاری تعلیم گاہوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا؟

میں نے اپنی ماسٹرز تک کی تعلیم سرکاری تعلیم گاہوں میں حاصل کی ہے۔ پرائمری اسکول میں تعلیم کے علاوہ ہر چیز حاصل کی۔ اسکول کی عمارت میں تین بوسیدہ کمرے تھے۔ جس میں طالب علم گھر سے لائے ہوئے ٹاٹ یا بوری پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ کچھ کلاسز کھلے آسمان تلے بیٹھتی تھی۔ گرمیوں میں کلاسوں کے اوپر ترپال ڈال دی جاتی تھی تاکہ دھوپ سے بچا جا سکے۔ اساتذہ سردی میں کینو اور گاجر مولی

Read more

سینیٹ الیکشن: سچ، سیاسی اور اخلاقی اقدار کی ہار

سینیٹ الیکشن کی وجہ سے کچھ ہفتوں سے اسلام آباد کا سیاسی درجہ حرارت کافی عروج پر ہے۔ آئندہ دنوں میں یہ درجہ حرارت بڑھتا ہے یا کم ہوتا ہے۔ یہ حزب اختلاف اور حکومتی حکمت عملی پر منحصر ہے۔ مملکت خداداد میں اقتدار کے حصول کے لئے سیاسی جوڑ توڑ، رسہ کشی اور سازشیں نئی بات نہیں ہے۔ اس سب کا آغاز پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ آغاز ہی

Read more

بدعنوانی ہماری ثقافت ہے

بدعنوانی سے ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اس بات پہ غصہ نہ ہوں کہ میں نے سب کو بدعنوان کہہ دیا ہے۔ ابھی ایک چھوٹی سی مثال سے یہ ثابت ہو جائے گا۔ ہمارے ہاں نومولود سب سے پہلے بدعنوانی کا سامنا کرتا ہے۔ وہ شہد جس سے ہم نومولود کو گھٹی دیتے ہیں،  ہم اس کے خالص پن کے بارے میں پُریقین نہیں ہوتے ہیں۔ یوں بدعنوانی ہماری گھٹی میں شامل ہو جاتی ہے۔ آپ کو اس

Read more

میں کون: میری شناخت دھندلا چکی

آج میں ایک ایسی کہانی بیان کرنے جا رہی ہو جو صرف میری روداد نہیں ہو گی بلکہ اس ملک کی 98 فیصد لڑکیوں کی آپ بیتی ہو گی۔ یہ صرف میرے احساسات جذبات اور حالات کی عکاس نہیں ہے بلکہ میرے ملک کی بیشمار لڑکیوں کی ترجمان ہو گئی۔ میرا تعلق ایک روایتی پنجابی گھرانے سے ہے جہاں بیٹے کو تو مادر پدر آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن بیٹی پر ہر طرح کی قدغن لگائی جاتی ہے۔ ایک جملہ جو آج بھی میری سماعتوں میں گونجتا ہے اکثر بولا جاتا تھا کہ ماں باپ کا کام بیٹیوں کو صرف رسمی تعلیم دلانا ہوتا ہے اگر بیٹی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے یا پھر کوئی ملازمت کرنا چاہے تو وہ شادی کے بعد کرے۔

Read more