منافق مرد



پیاری رابعہ!

میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے ساتھ اس سیریز پر کام کرنے کی پیشکش دی۔ گولڈن گرلز ایک بہت منفرد سیریز ہے جس کے تحت ہم دونوں وہ سب لکھ سکتی ہیں جو پہلے اپنی تحاریر میں نہیں لکھ سکیں۔ یہ سیریز دو خواتین لکھاریوں کے اشتراک سے وجود پا رہی ہے۔ ہم ایسا اشتراک عموماً مردوں کے درمیان ہی دیکھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خواتین ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتیں، کرتی ہیں پر عوام ان کے اشتراک سے زیادہ ان کے آپسی اختلاف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

رابعہ، اس سیریز کی پہلی تحریر میں آپ عورت مارچ کے ایک نعرے ’میرا جسم میری مرضی‘ کا مطلب سمجھا رہی ہیں لیکن آپ یہ مطلب کسے سمجھا رہی ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے یہ اس نعرے کا مطلب نہیں جانتے؟ بالکل جانتے ہیں۔ بس یہ نعرہ ہم لگا رہی ہیں تو یہ کسی ’چسکے‘ کی چاہ میں ہم سے اس کا مطلب پوچھنے آ گئے ہیں ورنہ یہی نعرہ ان کے گھر کی خواتین لگائیں تو یہ ان کے ساتھ جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہاں گھر کی خواتین سے مراد ان کی ماں، بیٹی اور بہن ہیں۔ بیوی اور بہو کے معاملے میں ان کی تنگ نظری تھوڑی اور تنگ ہو جاتی ہے۔

انہیں میرا جسم میری مرضی کا مطلب سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی جسم رکھتے ہیں اور اس پر اپنا پورا اختیار بھی مانتے ہیں۔ ہمارا جسم انہیں اللہ کی امانت لگتا ہے۔ جب یہ خود اس امانت میں خیانت کر رہے ہوتے ہیں تب انہیں اللہ اور انسان پر اس کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ اس وقت انہیں کچھ یاد رہتا ہے تو بس اپنی ہوس۔

آپ کو بھی وہ پہلا لمس یاد ہو گا، ان چاہا سا، جسم کو نوچتا ہوا، روح کو پامال کرتا ہوا، پھر اسی ہاتھ نے کسی کا ہاتھ تھاما ہو گا اور اس کی ہم راہی میں ایک نئی زندگی کو وجود دیا ہو گا جس کے لیے اس کی گود دنیا کی محفوظ ترین پناہ گاہ بن گئی ہو گی۔ کیا اس کے جسم اور روح کی حفاظت کرتے ہوئے اسے اپنا ماضی یاد نہیں آتا ہو گا یا اس کے آنے کے بعد وہ اپنی روش چھوڑ دیتا ہو گا؟ کیا وہ اپنے کیے پر پشیمان ہوتا ہو گا؟ یا تب بھی کہتا ہو گا کہ میرا کیا قصور۔ وہ گھر سے اکیلی نکلی تھی۔ وہ بھی اس حال میں (چاہے وہ حال برقع ہو یا شلوار قمیض اور لمبا سا دوپٹہ یا بس ٹراؤزر اور قمیض) ۔ انہیں تو بس عورت کو مورد الزام ٹھہرانا ہے اور اس میں ان کا ساتھ یہ معاشرہ دیتا ہے۔

اب انٹرنیٹ کا دور ہے۔ ایک بٹن دبانے پر دس پروفائلز ان کے سامنے آ جاتی ہیں۔ کہیں ہائے کہہ دیا، کہیں سلام بھیج دیا تو کہیں سیدھا اپنی ہوس کا اظہار کر دیا۔ آپ کو بھی روزانہ ایسے پیغامات موصول ہوتے ہوں گے، میرا ان باکس بھی ان سے بھرا رہتا ہے۔ میں تو ایسے پیغامات کے سکرین شاٹ بھی لگا دیتی ہوں۔ اس کا الزام بھی میرے ہی سر آتا ہے۔ مجھے کہا جاتا ہے کہ تم سے تو بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم سکرین شاٹ ہی نہ لگا دو۔ میں پہلے اس پر شرمندہ ہو جاتی تھی۔ اب پوچھتی ہوں کہ آپ ایسا کیا پیغام بھیجنا چاہتے تھے؟ وہ پھر آئیں بائیں شائیں کرتے نکل جاتے ہیں۔

رابعہ! ایسے مرد کسی ایک طبقے یا سوچ سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہر مرد ہی ایسی سوچ رکھتا ہے۔ میرے ان باکس میں بہت سے لبرل مرد بھی رالیں ٹپکاتے ہوئے آتے ہیں۔ ان کی ٹائم لائن روشن خیالی، شخصی آزادی اور انکار کا مطلب انکار جیسی پوسٹس سے بھری ہوتی ہے۔ یہ شادی شدہ ہیں، دو چار بچے بھی جنے بیٹھے ہیں، پھر بھی نہ جانے ان کی کون سی ہوس ہے جو پوری ہی نہیں ہو رہی۔ یہ خود کو کتابی کیڑا کہتے ہیں پر یوں لگتا ہے جیسے کسی بھی کتاب میں لکھا ہوا کوئی بھی لفظ ان کے دماغ پر اثر نہیں کر سکا۔ ان کے نزدیک میں بس ایک عورت ہوں جس پر ان کا مرد ہونے کے ناتے حق ہے۔

میں اپنی فیمینسٹ دوستوں سے کہتی ہوں کہ وہ اس نعرے کا مطلب بتانا بند کر دیں کیونکہ مسئلہ اس نعرے میں نہیں بلکہ ان کی سوچ میں ہے جو بس عورت سے کسی نہ کسی طرح اپنی ہوس پوری کرنا چاہتی ہے۔ اس ہوس کی خاطر یہ کچھ بھی کہتے اور کرتے ہیں۔ میں نے کچھ دن پہلے ٹویٹر پر چین میں رہنے والوں سے وی پی این کا پوچھا تو ایک صاحب رال ٹپکاتے ہوئے پوچھنے لگے کہ آپ وی پی این لگا کر کیا دیکھنا چاہتی ہیں۔ رابعہ! مردوں کی اس سوچ کا کیا کیا جائے؟ اصل مسئلہ تو ان کی یہ سوچ ہے جو ہمارے لیے الگ ہے اور ان کے گھر کی عورتوں کے لیے الگ۔

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم
اس سیریز کے دیگر حصےجسم میرا اور خوش گمانیاں تمہاریاچھا اور گندا لمس

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments