ملتان میں آموں کی فصل کو کوئی خطرہ نہیں


میرے پردادا ایک پہلوان تھے، انہوں نے صرف پہلوانی کی اور وراثت میں صرف نام چھوڑ کر گئے۔ میرے دادا اور نانا نے زمینیں بنائیں۔ پتا ہے کیسے؟

اس وقت ہمارے گاؤں کا تقریباً سارا علاقہ بے آباد اور بنجر تھا۔ میرے دادا اور نانا نے ایک زمین دار سے معاہدہ کیا کہ ہم تمہاری بے آباد زمین کو آباد کریں گے اور اس کے بدلے آدھی زمین ہماری اور آدھی تمہاری۔ وہ مان گیا کیونکہ اس وقت یہی دستور تھا۔ کوئی ٹیوب ویل اور ٹریکٹر نہیں تھے , اس لئے یہ کام انتہائی مشکل تھا۔ پہلے زمین کی اوپری تہہ کو کدالوں سے کھرچ کھرچ کر وہاں سے نکال کر اور گدھوں پر لاد کر کسی دوسری جگہ شفٹ کرنا، کنواں کھودنا اور جانوروں کا رہٹ چلا کر صدیوں سے پیاسی زمین کی پیاس بجھانا اور کھیتوں میں مویشیوں کی مدد سے ہل چلانا۔ یہ کام انتہائی مشکل تھے۔

میرے دادا اور نانا نے اپنی ساری جوانی ان زمینوں کو آباد کرنے میں لگا دی اور جب میرے چچا اور ماموں جوان ہوئے تو ان کے لئے لہلہاتے کھیت تیار تھے۔

میرے پھوپھا (جن کی عمر تقریباً اسی سال ہو گی ) بتاتے ہیں کہ شجاع آباد اور جلال پور پیروالا کا سارا درمیانی علاقہ ایسے ہی بنجر تھا۔ اسے پہلے لوگوں کی قدیم طرز کی محنت اور پھر جدید ٹیکنالوجی (ٹریکٹر، نہر اور ٹیوب ویل ) نے آباد کر دیا ہے، یہاں اب ہرے بھرے کھیت ہیں۔ میرے پھوپھا کہتے ہیں کہ اس دور میں آموں کے باغ بس چند ہی تھے وہ بھی بڑے زمینداروں کے۔ مگر اب ہر طرف باغ ہی باغ ہیں، جس کی بھی زمین ہے اس نے باغ لگایا ہوا ہے۔ ہمارا بھی ایک چھوٹا سا باغ ہے جو میرے ابو نے لگایا تھا۔ کیوں؟

اس لیے کہ باغوں میں بہت آمدن ہے۔ میرے رشتہ دار ہیں انہوں نے صرف باغ لگایا ہوا ہے جو تقریباً ایک کروڑ کا ہر سال بکتا ہے۔ وہ صرف اپنے باغ پر محنت کرتے ہیں اور پھر بیٹھ کر عیش سے اس کی کمائی کھاتے ہیں۔ اب تو باغ تین تین سال کے لئے بکتے ہیں جو فنانس میں فیوچر کنٹریکٹ کی مثال ہے۔ جو بیوپاری اسے خریدتا ہے تین سال وہی اس پر محنت کرتا ہے، کسان نے بس یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ نہر کے پانی کی فراہمی جاری رہے۔

میرے رشتہ داروں میں جسے کوئی روزگار نہیں ملتا،  وہ آم کا بیوپاری بن جاتا ہے اور اس کاروبار سے کچھ نے بہت دولت بنائی ہوئی ہے۔ میرے ماموں اس میں کروڑوں کا کاروبار کرتے ہیں اور اسی طرح میرے کزنز بھی۔ یہ جب بیٹھتے ہیں تو صرف آموں کے بزنس کی بات کرتے ہیں چاہے فوتگی ہو یا خوشی کا دن۔

سچی بات یہی ہے کہ جہاں آپ کی انویسٹمنٹ ہو وہیں آپ کا ذہن ہوتا ہے۔ تقریباً ایک ماہ پہلے کی بات ہے میں ان میں بیٹھا تھا تو وہ دعا کر رہے تھے کہ یار اس بار اگر آندھیاں نہ آئیں تو بڑا نقصان ہو گا۔ یہ بات میرے لئے حیران کن تھی۔ کیونکہ میں بچپن میں دیکھتا تھا کہ آندھی کے صرف آثار ہوتے تھے اور میرے ماموں اور کزن بیوپاری اپنے دل پکڑے بیٹھے ہوتے تھے۔ الٰہی رحم مولا رحم کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ اب کی بار ایسا کیا ہوا؟ میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا۔

ان کا جواب تھا : اب اصل میں آموں کی فصل اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اگر آندھی نہ آئے تو یہ اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں (یعنی سپلائی اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے) کہ فی پیٹی قیمت مارکیٹ میں اتنی کم ملتی ہے کہ اس کی لیبر، پیکنگ اور منڈی تک ٹرانسپورٹ کی کاسٹ تک پوری نہیں ملتی۔ یوں بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ آم اتنے عام ہو جاتے ہیں کہ پکے آموں کو بھی ہم درختوں سے نہیں اتارتے اور کتے کھاتے ہیں۔ اور اگر سپلائی آندھیوں کے سبب کم ہو جائے تو قیمت بہتر ملتی ہے، لاگت نکل آتی ہے اور منافع ہوتا ہے۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ بھی ہے کہ ایسے ہوتا ہے۔

آم ایک ایسا پودا اور درخت ہے جسے بغیر دیکھ بھال کے نہیں چھوڑا جاتا۔ یہ بہت محنت لیتا ہے بچوں کی طرح۔ مگر اب آموں کے باغات اتنے زیادہ کیوں ہو گئے ہیں ، اس کی وجہ منافع ہے۔ اس میں نفع ہے۔ اس لئے وہ لوگ جو پریشان ہیں کہ ملتان یا شجاع آباد کی نشانی آم ختم ہو جائیں گے ، وہ نفع اور اس کی ترغیب کی طاقت سے لاعلم ہیں۔

اچھا ایک اور دلچسپ بات۔ میرے اپنے اور آس پاس کے گاؤں میں امرود اور فالسے پر انویسٹمنٹ زیادہ ہو رہی ہے اور آموں پر کم۔ اس کے دو اسباب ہیں۔ یہ دونوں جلد تیار ہو جاتے ہیں، کم محنت لیتے ہیں اور تین سال میں ہی نفع دینا شروع کر دیتے ہیں جبکہ آم زیادہ محنت لیتے ہیں اور چھ سات سال بعد نفع دینا شروع کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کسان ان باتوں کو سمجھتا ہے کہ کس فصل اور پھل میں نفع ہے اور کس میں نہیں۔ اب ویسے آموں کی ایسی اقسام بھی آ گئی ہیں جو تین سال میں ہی فصل دینا شروع کر دیتی ہیں کم محنت اور پانی لیتی ہیں۔ مگر یہ اقسام ابھی عام نہیں ہوئیں ہمارے خطے میں۔

ملتان کے مضافات میں آم کے درختوں کی کٹائی کو آپ ماحولیاتی تحفظ اور فطری حسن کے حوالے سے ضرور دیکھیں اور اس کی مذمت بھی ضرور کریں مگر اس بات پر خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ آم شاید عام نہ رہیں اور یہ دستیاب نہ ہوں۔ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ان میں نفع ہے اور کسان اپنے نفع کو آسانی سے سمجھتا ہے اس لئے تو اتنے مشکل درخت پر محنت کرتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 167 posts and counting.See all posts by zeeshan

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments