قطار توڑنے والے معاشرے کو کیسے نقصان پہنچاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کا وجود ایک کامل نظام کے تحت وجود میں آیا۔ انسان کے اندر کچھ احساسات اور جذبات کو کچھ اس طرح پیدا کیا گیا کہ وہ احساسات اور جذبات انسانی فطرت میں شمار کیے جانے لگے۔ اسی فطرت کی بنیاد پر انسان کسی بھی عمل کا ردعمل دینا شروع ہوا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں کہ جن کی وجہ سے انسانی فطرت کو پورا کرنے کے انداز بدلتے رہے اور مسلسل بدل رہے ہیں۔ ہر دور کا یہ تقاضا رہا کہ انداز کو بدلا جائے لہٰذا انسان انہی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کبھی خود نیا انداز متعارف کرواتا ہے یا پھر متعارف شدہ تبدیلی کو قبول کرتا ہے۔

اگر کسی موڑ پر انسان انداز نہ بدلنے کی ضد بھی کرے تو وہ ضد بہت مختصر عرصے تک قائم رہتی ہے کیونکہ دور کے تقاضے اس قدر شدت کے ساتھ اپنا اثر دکھا رہے ہوتے ہیں کہ انسان کا اس شدت پر قابو پانا قابو میں نہیں رہتا اور وہ تقاضوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔

ہاں! ایک دوسری صورت بھی موجود ہے کہ اگر انسان تقاضے کے مقابلے میں متشدد ہو جائے تو وہ تقاضے کچھ اس طرح سے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ انسان کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔

اس میں ایک خاص بات کہ دور کے تقاضے کہاں سے جنم لیتے ہیں؟ تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ وہ تقاضے مستحکم منصوبہ بندی اور ذہن سازی کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ جو کہ مثبت رویوں کے حامل بھی ہوتے ہیں اور منفی کے بھی۔ اور ان رویوں کی تاثیر ہی انسان کے احساسات و جذبات کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ رشتہ قائم کرے گی جسے انسان خوشی خوشی قبول کرے گا۔

یہ انسان میں پائے جانے والے احساسات وہ آلہ ہیں کہ جن کے ذریعے انسان دوسرے انسان کے جذبات کا خیال کرنے لگا اور دوسرے کے احساسات کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگا۔ یہ روایت انسان کی تخلیق سے لے کر آج تک قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔

انہی جذبات کی وجہ سے ایک اور چیز جنم لیتی ہے جس کو ہم خواہش کا نام دیتے ہیں۔ خواہش انسانی جذبات کی تکمیل کے لیے وجود میں آئی اور اس کا کام بھی یہی ہے کہ جذبات کو عملی تحریک دینے کے لیے انسان کو اکسانا ہے۔ یہ خواہش ہی کا ہنر ہے کہ اس نے انسان سے بے بہا ایجادات کروا لیں۔ اور طرح طرح کی آسائشوں سے انسان نے خود کو مزین کر لیا۔

خواہش کی حد مخصوص نہیں ہے اور یہ انسان کو آمادہ کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ آسانی تلاش کی جائے۔ ایسی آسانی کہ انسان کو تخت سلیمان میسر ہو اور انسان کوشش کے ذریعے تخت سلیمان کے قریب قریب ضرور پہنچا ہے۔

اس خواہش کے پیدا ہونے کے بعد جو چیز سامنے آئی ہے وہ ہے کوشش۔ جس کی کوشش کی جانے لگی وہ پا لیا گیا اور کوشش کا مقرر ہدف مثبت نتائج کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور منفی نتائج کا بھی۔

موجودہ معاشرے میں رہنے والے انسان بھی کافی کوششیں کر رہے ہیں۔ جن میں ایک خاص کوشش ہے وقت بچانے کی یا پھر قطار میں نہ لگنے کی۔ اس خواہش کی تکمیل کی خاطر انسان نے ایسی ایسی ایجادات کیں کہ مسائل ایک بٹن کے دبانے سے حل ہونے لگے۔ مگر اس کے باوجود بھی کچھ ایسی چیزیں باقی ہیں کہ جن کو مکمل کرنے کے لیے قطار میں لگنا پڑتا ہے اور عمل درآمد کے لیے باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انسان چونکہ آسانی چاہتا ہے اس وجہ سے اس قطار کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ ایک خاص میرٹ کی بنیاد پر موجود ہوتی ہے۔

اب انسان نے خواہش کی کہ اس قطار کو توڑا جائے اور اس قطار کو توڑنے کے لیے وہ مختلف حربے اختیار کرتا ہے جن کا تعلق سائنسی ایجادات سے نہیں ہوتا بلکہ ان حربوں کا تعلق غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ ان غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں ایک طبقہ مکمل طور پر پس کر، دب کر یا ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے اور ایک طبقہ خوش و خرم ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر مسرت محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

ایک طبقہ حق سے محروم ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ دوسرے کا حق چھین کر بھی خوشی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ ایک طبقہ محروم و مظلوم ہو کر خدا کا دوست ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ حق چھین کر، ظالم ہو کر خدا کا دشمن ہو جاتا ہے۔ ایک طبقہ ڈھائے جانے والے مظالم کا مدعی بن جاتا ہے اور ایک طبقہ قاتل ہونے کے باوجود اثر و رسوخ کے سبب باعزت بری ہو جاتا ہے۔ قطار کو توڑنے کی کوشش میں وقوع پذیر ہونے والی سرگرمیاں اس نا انصافی اور ان مظالم کی مکمل طور پر ذمہ دار ہوتی ہیں جن کی وجہ سے حق دار کا حق مارا گیا۔

مگر یہ قطار توڑنے والے کو کیا فکر کہ کس کا نوالہ چھین لیا گیا ، وہ تو بس آسائش و آسانی کا متلاشی تھا اور اپنے ہدف کو پا لیا ، سو مطمئن ہے کہ کامیاب رہا۔ مگر حال پرسی کا حق تو اس غریب کا بنتا ہے کہ جس کا حق اس کی دسترس میں نہ رہا اور کوئی اور اس پر قابض ہو کر بیٹھ گیا۔

یہ قطار کو توڑنے کی کوشش نے معاشرے میں ایسی ایسی بیہودہ اور غلیظ روایات قائم کیں ہیں کہ جن کا تصور کر کے ایک صاحب شعور انسان پر لرزہ طاری ہو جائے۔ اس کوشش کی کامیابی کے نتیجے میں ایک حق دار کا حق غصب تو ہوتا ہی ہے مگر ساتھ میں ایک نہایت شقی قسم کی روایت نظام کا حصہ بن جاتی ہے جس کا تو جواب ہی نہیں۔

ایک مرتبہ ایک صاحب ثروت یا صاحب اختیار کی وجہ سے قطار کو توڑا گیا تو یہ روایت نظام کا کچھ اس طرح حصہ بن جاتی ہے کہ جس کی وجہ سے حق کا منہ حق دار سے موڑ دیا جاتا ہے اور نظام کو عادی بنا دیا جاتا ہے کہ وہ قطار توڑنے والے کے لیے مددگار ہو۔

اگر معاشرے کو مثالی بنانا ہے تو ان قطار توڑنے والوں کی سرزنش ہر صورت کرنا ہو گی۔ قطار کو میرٹ پر قائم رکھنے کے لیے آواز بلند کرنا ہو گی تاکہ حق حق دار تک پہنچ سکے اور معاشرے کو کھوکھلا کرنے والی دیمک کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *