شفقت انکل! ہمیں پڑھنے دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ وہ آواز ہے جو آج پاکستان کا ٹاپ ٹرینڈ بنی، یہ ہماری تعلیمی صورت حال کی عکاسی اور ہمارے طلبا کے اندر پائی جانے والی تشویش کا اظہار ہے۔ میں نے جب یہ ٹاپ ٹرینڈ دیکھا تو اس پر لکھنے پر مجبور ہو گئی کہ کیوں ہمارے ہاں عجیب و غریب قسم کے ٹرینڈز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور کیوں ارباب اختیار کو اس پر تشویش نہیں ہوتی؟

بی بی سی کی تازہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال معاشی اور سماجی خطرہ بن کر پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے چکی ہے۔ سماجی رابطوں میں کمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات لوگوں کے تحفظ کے لیے تو ضروری ہیں مگر اس سے معیشت، معمولات زندگی کے بعد سب سے زیادہ طلبا کا تعلیمی سال متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان میں تو وسائل کی کمی کے باعث صورت حال اور بھی زیادہ بھیانک ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کو پانچ اپریل تک بند رکھنا بھی شامل تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی آن لائن کلاسز شروع کرائی جائیں گی تاکہ طالب علموں کی تعلیم کا حرج ہونے سے بچایا جا سکے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں کے پاس آن لائن کلاسز کا مربوط نظام نہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

بورڈ کے طلبا کو تو اس سے بھی زیادہ تشویش کا سامنا ہے۔ 2020 سال کے طلبا بغیر امتحانات کے اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیے گئے جن میں دسویں جماعت والوں کو نویں اور بارہویں والوں کو گیارہویں جماعت کی کارکردگی پر پروموٹ کیا گیا، مگر گزشتہ نویں اور گیارہویں جماعت والے طلبا جو اس سال دسویں اور بارہویں میں ہیں، ان کے پاس نہ تو کوئی ماڈل پیپرز ہیں اور نہ ہی کوئی جامع ہدایات جس کے تحت امتحان لیا جائے گا۔ سلیبس میں کمی طلبا کے مسائل میں کمی نہ کر سکی اور ملک سے باہر مقیم وہ طلبا جو اپنے والدین کے ساتھ مختلف ممالک میں مقیم مگر پاکستانی بورڈز کے تحت ہیں، ان کے مسائل ملک سے دوری کے باعث مزید پیچیدہ ہیں۔

خلیجی ممالک میں جہاں پاکستانی طلبا کی تعداد بہت زیادہ ہے، وہ کبھی آن لائن اور کبھی آن کیمپس سکول کے امتحانات تو دے رہے ہیں مگر وہ پیپرز چیکنگ سے ہرگز مطمئن نہیں کیونکہ سکول کی استانیوں نے اپنے تئیں عجیب و غریب معیار بنا رکھے ہیں کہ اگر پرچے میں بچے کو پورے نمبر سکول کے امتحانات میں دے دیے تو وہ بورڈ کے امتحان کے لئے ڈھیلا پڑ سکتا ہے جو کہ طلبا اور والدین کے لئے انتہائی بوگس دلیل ہے۔

والدین کے شکایت کے باوجود ہماری سکول انتظامیہ نے اس مسئلے پر کوئی کان نہیں دھرا لہٰذا پاکستانی بچوں کے ساتھ ساتھ سمندر پار پاکستانی بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ شفقت انکل! ہمارے مسائل کا نوٹس لیا جائے اور ہمیں پڑھنے دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *