سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو پولنگ روک دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی ۔

سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت سماعت کررہا ہے۔ ویڈیو لنک پر ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل جاری ہیں۔ ویڈیو لنک پر سلمان اکرم راجہ نے حلقے کا نقشہ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دن میں بہت زیادہ تیاری کر لی۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ڈسکہ میں 76 پولنگ سٹیشنز ہیں۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ یہ بھی بتایا گیا کہ 10 پولنگ سٹیشنز پر پولنگ دیر تک معطل رہی۔ سوال یہ ہے کہ پولنگ کے دن کون اور کیوں یہ مسائل پیدا کرتا رہا؟ کیا ایک امیدوار طاقتور تھا اس لیے دوسرے نے یہ حرکات کروائیں؟۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ڈسکہ سے نوشین افتخار کے والد 5 بار منتخب ہو چکے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان نے پرتشدد واقعات شروع کیے۔ عدالت نے کہاکہ جب مسلم لیگ ن کا اثرورسوخ تھا تو تشدد اور بد امنی پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ۔آپ الیکشن کے نتائج سے خوش تھے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کے نتائج کے خلاف درخواست بھی کمیشن میں دائر کی گئی۔ ڈسکہ میں دیہات کے مقابلے میں ٹرن آوَٹ روائتی طور پر زیادہ ہے۔

عدالت نے استفسار کیاکہ 23 پولنگ سٹیشن کی شکایت پر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کیوں ضروری ہیں؟جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسارکیا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان نے پرتشدد واقعات شروع کیے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حلقے کے آدھے پولنگ سٹیشنز کی شکایات موصول ہوئیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ڈسکہ کے 76 پولنگ سٹیشنز آدھے نہیں بنتے۔ وکیل لیگی امیدوار نے کہا کہ معذرت خواہ ہوں۔ 76 پولنگ سٹیشنز ایک تہائی بنتے ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آدھے اور ایک تہائی میں فرق ہے۔ احتیاط سے دلائل دیں۔ عدالت نے کہاکہ جب پریذائیڈنگ افسر پولنگ سٹیشنز سے نکلے تو ان کی رخصتی معمول کے مطابق تھی؟ سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ پریذائیڈنگ افسران پولیس کے ساتھ معمول کے مطابق نکلے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ پورا انتخابی عمل ملتوی نہ کریں، پولنگ ڈے ملتوی کردیں۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ایسا ہی کریں گے، الیکشن کمیشن کا مکمل احترام ہے۔ سپریم کورٹ نے این اے 75 پولنگ عبوری طور پر روک دی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 10 اپریل کو ہونے والی پولنگ نہیں ہو گی ۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 10 اپریل کو پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ن لیگ کی درخواست پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply