بنگلہ دیش کی 50ویں سالگرہ: کیا معاشی ترقی کی دوڑ میں ملک نے جمہوری روایات کو پیچھے چھوڑ دیا؟



بنگلہ دیش کے 50 سال

بنگلہ دیش کو بہت سے لوگ ترقی کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن ملک کی 50ویں سالگرہ کے موقعے پر کچھ لوگ ان خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ ملک سیاسی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے ماحول میں یک جماعتی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ان جمہوری اقدار اور اصولوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں جن پر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

ملک کے دارالحکومت ڈھاکہ کی ایک عدالت میں گذشتہ ماہ جب خاکہ نویس احمد کبیر کشور کو پیش کیا گیا تو ان کے بھائی احسن کبیر کو ان کی حالت دیکھ کر شدید صدمہ ہوا۔

احسن کبیر نے بتایا کہ گذشتہ برس مئی میں کورونا وائرس کی وبا کے عروج کے دنوں میں چند نامعلوم افراد اُن کے گھر میں گھس کر ان کے بھائی کو زبردستی اٹھا کر لے گئے تھے۔ احمد کبیر کا جرم یہ تھا کہ وہ فیس بک پر طنزیہ کارٹون اور تبصرے شائع کرتے تھے جن میں کورونا وائرس کی وبا پر حکومتی رد عمل کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔

احمد کبیر کی عمر 45 سال ہے اور اُن کے بارے میں ان کے خاندان والوں کو کئی دن تک کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ چند دن بعد انھیں بتایا گیا کہ انھیں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور افواہیں پھیلانے کے جرم میں اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قیامِ بنگلہ دیش اور آپریشن ’جیک پاٹ‘: جب پاکستانی بحری جہاز پانیوں میں ڈبو دیے گئے

بنگلہ دیش کا قیام: کیا جنگ شروع کرنے کے لیے انڈیا بہتر وقت کے انتظار میں تھا؟

بنگلہ دیش کا قیام: جنرل نیازی نے ہتھیار کیوں ڈالے؟

بنگلہ دیش اور انڈیا میں زیادہ خوش حال کون؟

کشور کی ضمانت کی درخواست عدالت نے چھ مرتبہ رد کی۔ دس ماہ تک ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کے تحت جیل میں رکھے جانے کے بعد اُن کی ضمانت کی درخواست منظور ہوئی۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے اُن کے گھر والوں کی ان سے 10 ماہ تک ملاقات نہیں ہو سکی۔

ان افراد کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی جو احمد کبیر کے گھر میں گھس کر انھیں اٹھا کر لے گئے تھے اور یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس طرح تھانے پہنچائے گئے۔

احسن کبیر کشور کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کے بائیں کان میں شدید تکلیف ہے اور انھیں چلنے پھرنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ احسن کبیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُن کے کان کا آپریشن ہونا ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود احسن کشور اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کے بھائی احمد کبیر زندہ ہیں۔

مشتاق احمد جو ایک منصف ہیں اور جنھیں اُن ہی دنوں میں اٹھایا گیا وہ اتنے خوش نصیب نہیں رہے۔ احمد کبیر کشور کی ضمانت سے ایک ہفتے قبل مشتاق احمد کی پولیس کی حراست میں موت واقع ہو گئی تھی۔

ان کی پولیس حراست میں موت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ سماجی اور سیاسی سرگرم افراد نے ملک کے اس کالے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد کی موت پر کسی شک و شبہہ کا اظہار نہ کیا جائے۔

ان دو افراد کے علاوہ بھی حکومتی اہلکاروں نے متعدد لوگوں کو اٹھایا ہے۔

گزشتہ برس مارچ میں دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک اخباری فوٹو گرافر اسلام کاجول کو نامعلوم افراد دن دھاڑے ایک ویگن میں زبردستی اٹھا کر لے گئے تھے۔ ان کے گھر والوں کو 35 دن تک کچھ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اور پھر وہ ڈھاکہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور بنگلہ دیش اور انڈیا کی سرحد کے قریب پائے گئے تھے اور ان کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہوئے تھے جبکہ ان کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔

بنگلہ دیش کے 50 سال

بنگلہ دیش کے مصنف مشتاق احمد کی پولیس حراست میں موت نے ملک کے سماجی حلقوں میں اضطراب پیدا کر دیا

اس کے بعد وہ ڈی ایس اے کے کالے قانون کے تحت نامناسب، قابل اعتراض، ہتک آمیز اور حکمران جماعت عوامی لیگ کے سیاست دانوں کے بارے میں لغو معلومات کو فیس بک پر آ گے بڑھانے کے جرم میں سات ماہ تک جیل میں رہے۔

اسلام کاجول کو بلآخر دسمبر میں رہا کر دیا گیا۔

ڈی ایس اے کا قانون اکتوبر سنہ 2018 میں شہری اور صحافتی تنظیموں کی طرف سے شدید اختلاف کے باوجود منظور کر دیا گیا تھا جس کے تحت حکومت کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو گئے ہیں جن میں ملک میں لسانی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور بدامنی پھیلانے کے الزامات لگا کر کسی کو بھی دس سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کے خلاف آوازوں کو دبایا جا سکے۔

برطانیہ میں قائم ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے آرٹیکل 19 کا کہنا ہے صرف سنہ 2020 میں اس قانون کے تحت 312 افراد پر مقدمات چلائے گئے۔ جن میں سے 70 سے زیادہ کا تعلق ذرائع ابلاغ سے تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے میں ایشیا اور بحرالکاہل کے دفتر کے سربراہ رورے مینگون کا کہنا ہے کہ ڈی ایس اے کے بے دریغ استعمال کا صحافتی اور شہری آزادیوں پر بڑا منفی اثر پڑا ہے۔

بنگلہ دیش میں طلبا مظاہرے

ملک میں ڈیجیٹل سکیورٹی ایکٹ کے خلاف احتجاج بھی کیے گئے

رورے مینگون نے بی بی سی کو ایک ای میل کے ذریعے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا نے اس صورتحال کو ایک نیا رخ دیا ہے اور بہت سے لوگوں کو ڈی ایس اے کے قانون کے تحت حکومت کی طرف سے وبا پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تنقید کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا اصرار ہے کہ ڈی ایس اے کا قانون تنقید اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے نہیں ہے۔

وزیراعظم شیخ حسینہ کے معاون خصوصی شاہ علی فرہاد نے بی بی سی کو بتایا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن کے پس منظر میں یہ قانون بنایا جانا بہت ضروری تھا۔

حکومت پر بڑھتی ہوئی تنقید پر وزیر قانون انیس الحق نے حال ہی میں کہا تھا اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی شخص کو بھی تحقیقات مکمل کیے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔

شیخ حسینہ کی حکومت سنہ 2008 سے مسلسل اقتدار میں ہے۔ ان کی حکومت کو سیاسی طور پر منقسم اور انتشار کے شکار ملک میں استحکام پیدا کرنے، معاشی ترقی پر ڈالنے اور مذہبی انتہا پسندی پر قابو پانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

شیخ حسینہ کے اقتدار کے دوران ملک نے گزشتہ دس برسوں میں چھ اور سات فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے۔

بنگلہ دیش، چین کے بعد دنیا بھر میں ریڈی میڈ کپڑے برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ عالمی وبا کے پھیلنے سے پہلے سنہ 2019 میں بنگلہ دیش نے 34 ارب ڈالر کے کپڑے بیرونی دنیا کو فروخت کیے۔ اس شعبے سے چالیس لاکھ افراد کا روز گار وابستہ ہے جس میں اکثریت خواتین کی ہے۔

بنگلہ دیش کی کپڑوں کی صنعت

ملک میں ریڈمیڈ کپڑوں کی صنعت نے ملک کے لاکھوں افراد کو غربت سے نکالا ہے جن میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے

وزیر اعظم شیخ حسینہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاشی نمو کی وجہ سے لاکھوں لوگ غربت سے باہر نکلے ہیں اور پرائمری تعلیم، صحت اور معاشرتی ترقی میں شیخ حسینہ کے دور اقتدار میں خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہوئی ہے۔

گزشتہ دو عام انتخابات (سنہ 2014 اور سنہ 2018) میں عوامی لیگ کو واضح کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کے سب سے بڑے اتحاد، جس نے سنہ 2014 میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، نے سنہ 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا اور وسیع پیمانے پر انتخابی بدعنوانی اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔

عوامی لیگ کے گزشتہ 12 برس کے دور اقتدار میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور بے شمار ناقدین اور سیاسی مخالفین کو قید میں ڈالنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

ڈھاکہ میں قائم ایک انسانی حقوق کے ادارے ادہیکار کے مطابق سنہ 2009 کے بعد سے اب تک 587 افراد کی جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں، 81 افراد کی لاشیں ملی ہیں اور 149 ابھی تک لاپتہ ہیں۔

بنگلہ دیش کے 50 سال

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد کی ماورائے عدالت ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیاں جن میں ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ کو ان بہت سے غیر قانونی ہلاکتوں کا ذمہ دار قراد دیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوب مشرقی ایشیا کے بارے میں تحقیق کرنے والے سلطان محمد ذکریا کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس میں حکام کی طرف سے جبر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق اور خاص طور پر شہریوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کم ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام واضح طور پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

شیخ حسینہ

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ سنہ 2008 سے اقتدار میں ہیں

وزیر اعظم دفتر کے شاہ علی فرہاد کا کہنا ہے کہ ’حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا ماورائے عدالت سرگرمیوں کے لیے صفر رواداری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔‘

شاہ علی کا مزید کہنا تھا کہ ’چند شرپسند عناصر سکیورٹی ایجنسیوں کے بھیس میں اغوا اور قتل کی وارداتیں کرتے ہیں۔‘

26 مارچ کو جب بنگلہ دیش، پاکستان سے علیحدگی کی 50ویں سالگرہ منا رہا ہے حکومت کو ملک میں شہری آزادیاں صلب کرنے کی باز گشت ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے۔

اسی ماہ بنگلہ دیش اپنے بانی شیخ مجیب الرحمٰن، جو وزیر اعظم شیخ حسینہ کے والد ہیں، کا یوم پیدائش بھی منا رہا ہے۔


بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ، 1971

  • پاکستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا اور مشرقی پاکستان کی عوام نے مغربی پاکستان کی فوج کے خلاف آواز اٹھائی، خود مختاری اور بعدازاں آزادی کا مطالبہ کر دیا۔
  • اس جنگ کے دوران تقریباً ایک کروڑ مشرقی پاکستان کے شہری انڈیا چلے گئے تھے۔
  • دسمبر 1971 میں انڈیا نے مشرقی پاکستان کے عوام کی حمایت میں مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔
  • پاکستان کی فوج نے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دیئے تھے اور اس میں اس کے 90 ہزار سپاہی جنگ کے قیدی بن گئے تھے۔
  • مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 میں بطور بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا تھا۔
  • اس جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد غیر واضح ہے، بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ 30 لاکھ افراد مارے گئے تھے لیکن آزاد محقیقین کے مطابق پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

1971 میں پاکستان اور انڈیا کی جنگ

حزب اختلاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے تاریخی دنوں کے موقع پر ملک کو متحد ہونا چاہیے لیکن ملک میں سیاسی تقسیم بہت گہری ہے۔

ملک کے مرکزی حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور حکومت کے دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے شاید ہی کوئی سیاسی گنجائش باقی بچی ہے۔ انھوں نے حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور جیل بھیجنے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔

کمال حسین جنھوں نے 1971 میں آزادی کے بعد شیخ مجیب الرحمن کے دور میں وزیر قانون اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کا غلبہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں۔

کمال حسین جو اب ایک اپوزیشن رہنما ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’موجودہ حالات وہ نہیں ہیں جیسے وہ (شیخ مجیب الرحمان) چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے ایسے مثبت اقدامات کیے جا سکتے ہیں جس سے ایک ایسا سازگار ماحول بنایا جا سکے جس میں حزب اختلاف کی سیاست کرنا ممکن ہو۔‘

بنگلہ دیش کے 50 سال

چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جمہوری خلا سکڑ گیا ہے تو پھر حکومت کے مخالف افراد کو سخت گیر مذہبی جماعتوں کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے اور اس کے غیر متوقع سیاسی نتائج ہو سکتے ہیں۔

آج سے پچاس برس پہلے بہت کم افراد نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ بنگلہ دیش جیسی غریب قوم اپنے بل بوتے پر کامیاب ہو سکے گی ایسے میں جب اس نے آزادی کی جنگ میں تباہ کن نتائج کا سامنا کیا تھا۔ اس جنگ میں بہت سے لوگوں کو غربت اور بھوک کا سامنا تھا۔

بہت سے سیاسی دھچکوں، قدرتی آفات، فوجی بغاوتوں کے باوجود صرف نصف صدی کے بعد ہی بنگلہ دیش نے بہت سے افراد کے شکوک و شبہات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار روری منگووین اس جانب اشارہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اسی وجہ سے جب ہم جمہوری اور شہری روایات، جو پائیدار ترقی کے لیے اہم ہیں، کو محدود کرنے یا اس پر قابو پانے کے رجحانات دیکھتے ہیں تو ہمیں تشویش لاحق ہوتی ہے۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp