کیا کورونا صرف تعلیمی اداروں میں آتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی ایک عالمی وبا ہے اور اس نے اپنے شدید تر سماجی اور اقتصادی اثرات کے ساتھ پوری دنیا کو متاثر کیا ہے لیکن جو تباہی تعلیمی نظام میں دیکھنے میں آئی، اس کی تلافی کرنا ناممکن ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر تعلیمی ادارے پھر سے 11 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے وزراء اس بات کو لگاتار نظر انداز کر رہے ہیں کہ پچھلے ایک سال سے طلبا کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اور ہمارے وزراء بار بار صرف تعلیمی اداروں کو ہی بند کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اور اس بات کا راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں کہ طلبا گھر بیٹھ کر آن لائن تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

ہمارے ملک میں نظام تعلیم کے لیے آن لائن سسٹم موجود نہیں ہے۔ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اور کسی بھی ملک کا مستقبل ختم کرنے کے لیے اس ملک کی تعلیم ختم کرنا بہتر ین حل ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ کام کرنا اور بھی آسان ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے طلبا تعلیمی اداروں کی بندش سے نہایت خوش دکھائی دیتے نظر آتے ہیں، یعنی حالت یہ ہے تو اس ملک کی بربادی اور کیا ہو گی۔ آئین پاکستان میں ہر کسی کے لیے تعلیمی سہولیات پر زور دیا گیا ہے لیکن ہمارا تعلیمی بجٹ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔

مان لیا کہ تعلیمی ادارے بند کرنا حکومت کی مجبوری ہے لیکن اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ جو کروڑوں طلبا گھر بیٹھے ہیں ان کا تعلیمی نقصان نہیں ہو گا؟ اس ملک کے مستقبل کا کیا ہو گا؟ اس کے ساتھ ساتھ حکومتی لیڈرز کے لیے صرف یہ وبا تعلیمی اداروں تک محدود ہے، کیونکہ تمام بازار، مالز، شادی ہالز کھلے ہیں اور وہاں لوگوں کی کثیر تعداد جمع ہوتی ہے۔ یہ کیسا کرونا جو ایک مخصوص وقت میں اور مخصوص جگہ پر لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔

اگر پارکس، مالز اور دیگر تفریحی مقامات کو مخصوص احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولا جا سکتا ہے تو تعلیمی ادارے کیوں نہیں؟ ایک سال ہونے کو ہے حکومت کو اب تک مناسب طریقہ کار کا انتخاب کر لینا چاہیے تھا، کیا حکومت کے نزدیک اس کا حل تعلیمی ادارے بند کرنا ہے؟

حکومت کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کروا کر تعلیمی اداروں کو کھولے۔  ہمارا ملک جو بہت سے ممالک سے ویسے ہی بہت پیچھے ہے ، اسے مزید پیچھے جانے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *