میاں صاحب! یہ ریسلنگ رنگ ہے


کافی عرصہ پہلے میں بھی مرحوم جسٹس وقار سیٹھ کی طرح ریسلنگ بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔ ریسلنگ میں رومن رینس ہمیشہ میرے پسندیدہ پلیئر رہے تھے۔ پسندیدہ اس لیے کہ فیئر پلے پر یقین رکھتے تھے۔ کبھی بھی چیٹ کر کے نہیں جیتے تھے۔ لیکن جب میں ریسلنگ کے غیر منصفانہ کھیل کے داؤ پیچ سے واقف ہونے لگا تو مجھے رومن پر غصہ آتا تھا کہ جس کھیل میں کھلاڑی، تماشائی، ریفری، انتظامیہ سب موقعہ ملتے ہی چیٹ کرتے ہوں، مخالف کو دھوکے سے ہراتے ہوں وہاں اصولوں کی پاسداری حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور رومن کی اسی حماقت سے نالاں ہو کر میں نے ریسلنگ دیکھنا چھوڑ دی تھی۔

پچھلے دس سالوں سے سیاست کے میدان میں میاں صاحب میرے آئیڈیل سیاست دان رہے ہیں۔ لیکن اب سوچتا ہوں میاں صاحب بھی رومن والی حماقت کر رہے ہیں۔ پاکستانی سیاست بے اصولی اور دھوکہ دہی کی سیاست ہے۔ یہاں سیاست خدمت کا نہیں دھوکے کا دوسرا نام ہے۔ اصولوں پر ڈٹے رہنے والے کو کبھی عدلیہ بحالی معاہدے سے انحراف کر کے ہرایا جاتا ہے تو کبھی سینیٹ چیئرمین پر عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنا کر میاں صاحب سے سیاست کا ٹائٹل چھینا جاتا ہے تو کبھی پی ڈی ایم کے گھوڑے کو بے مقصد گلیوں میں دوڑا دوڑا کر تھکایا جاتا ہے اور مریم صاحبہ کے پنجاب کے کامیاب جلسوں اور مولانا کے انقلابی اقدامات پر پانی پھیرا جاتا ہے۔

اب پی ڈی ایم کی باقی ماندہ پارٹیاں نہ تو استعفیٰ دے سکتی ہیں نہ ہی یوٹرن لے سکتی ہیں۔ جبکہ اس کھیل کے دوران رینڈی اورٹن جیسے ناکام کھلاڑی رائل رمبل کے فاتح قرار پاتے ہیں، اور رنگ کے ہیروز کہیں نیب کی کوٹھڑیوں میں پابند سلاسل پڑے ہیں۔

میاں صاحب یہ سیاست کا میدان نہیں ریسلنگ کا اکھاڑا ہے یہاں جیتنا ہے تو اصولوں کو ڈریسنگ روم میں چھوڑ کر آنا پڑے گا اور امپائر کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی۔

Facebook Comments HS