شعلہ نوا آصف زرداری، نرم خو مفاہمت پسند کیسے بنا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے اسے اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک کے لئےدھچکا قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے یہ پوزیشن لینے کے لئے ’بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) ‘کے ارکان کی حمایت حاصل کی ہے۔ اس پارٹی کو اسٹبلشمنٹ نواز پارٹی کی شہرت حاصل ہے ۔ مسلم لیگی لیڈر کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت روکنے کے اصول پر قائم ہونے والا اتحاد ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔

پیپلز پارٹی نے آج صبح ہی تیس سینیٹرز کے دستخطوں کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی درخواست چئیرمین صادق سنجرانی کو دی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی سینیٹ سیکریٹریٹ نے گیلانی کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ اس طرح جوڑ توڑ کی سیاست کا ایک اور دور آصف زرداری کے نام رہا ہے۔ البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کامیابی سے پیپلز پارٹی کی سیاست کیا نیا رخ اختیار کرتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کےلیڈر اس ہزیمت پر چیں بچیں ہیں ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کسی کو زبردستی اتحاد میں نہیں لایا گیا۔ یہ پیپلز پارٹی سے پی ڈی ایم چھوڑنے کا واضح تقاضہ ہے۔ اس سے پہلے مریم نواز جاتی عمرہ میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) اپنے طور پر لانگ مارچ کرنے اور استعفے دینے کے فیصلوں پر عمل کرسکتی ہیں۔

ایک دوسرے پر حرف زنی کے باوجود نہ ابھی پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم چھوڑنے کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی پی ڈی ایم نے اپنے فیصلوں سے ’بغاوت‘ کرنے والی پارٹیوں کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بنوانے میں عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔ اس طرح اے این پی بھی پی ڈی ایم کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ (ن) سے ہوگا۔ اس کے باوجود دریں حالات اس بات کا امکان نہیں ہے کہ پی ڈی ایم کی موجودہ ساخت میں کوئی فوری تبدیلی رونما ہوگی۔ بند کمرے کے اجلاس میں ضرور گلے شکوے ہوں گے لیکن اس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے۔ تاہم لانگ مارچ کے التوا اور استعفوں کے سوال پر نواز شریف پر آصف زرداری کے ذاتی حملوں کے بعد ، اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں میں جو دوری پیدا ہوئی ہے، اسے کم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یوں یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش میں اسی اتحاد کو بے اثر اور کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جو ان کے سینیٹر بننے کا موجب بنا تھا۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کے یک طرفہ اقدام سے اپوزیشن جماعتوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی، حکومت کے لئے اچھی خبر ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کےلئے تحریک انصاف کے معتدل مزاج لیڈروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عمران خان کو شدت پسندانہ رویہ ترک کرنے پر مجبور کریں۔ وزیر اعظم قائد ایوان اور سربراہ حکومت ہونے کے باوجود ’اپوزیشن لیڈر‘ کا کردار ادا کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے بیانات اگر بدستور کسی انتخابی جلسے کی گونج ثابت ہوتے رہیں گے تو حکومت اقتدار کی باقی ماندہ مدت میں بھی کوئی ایسا ٹھوس منصوبہ مکمل نہیں کرپائے گی جو آئندہ انتخابات میں عوام کو اس کی طرف متوجہ کرسکے۔ نصف مدت گزارنے والی حکومت سے کارکردگی بہتر کرنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے گزشتہ اڑھائی برس میں اپنے طریقہ کار کا جو خاکہ پیش کیا ہے، وہ کسی دوررس منصوبہ بندی اور اعتماد سازی کے ماحول کے لئے سود مند نہیں ہے۔ نہ ہی معیشت کی بحالی کا کوئی ٹھوس منصوبہ شروع ہوسکتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اگر روز بروز کمزور پڑتی اپوزیشن کی ناکامیوں کو اپنا سیاسی کارنامہ سمجھتے ہوئے پرانی روش پر قائم رہے گی تو وہ خود اپنے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو اپوزیشن کا انتشار بنیادی طور پر کوئی اہم واقعہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی برسر عام دست و گریبان نہ بھی ہوتیں تو بھی لانگ مارچ کی منصوبہ بندی اور استعفوں کی حکمت کے بارے میں اختلافات کسی نہ کسی نئی شکل میں سامنے آجاتے۔ یہ بات شروع سے واضح تھی کہ پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت سے محروم نہیں ہونا چاہتی۔ اس کی یہ سیاسی مجبوری قابل فہم بھی ہے جسے نواز شریف نے خاص اہمیت دینے کی کوشش نہیں کی۔ حیرت ہے کہ سینیٹ اور ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں آصف زرداری کو رعایت دیتے ہوئے، ان کی مستقبل کی حکمت عملی اور مجبوری پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی گئی ۔ اور نہ ہی سیاسی رد عمل کے لئےکوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی۔ اس تناظر میں پی ڈی ایم کو جلد یابدیر غیر مؤثر ہونا ہی تھا۔

آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کا یہ پہلو ناقابل فہم ہے کہ سندھ حکومت بچانے کی جد و جہد کےلئے شروع ہونے والی کوشش میں وہ پیپلز پارٹی کو اینٹی اسٹبلشمنٹ سیاسی قوت سے، اس کی حمایت کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے لائے ہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن کے لئے پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بریکنگ پوائینٹ پر لے جانے کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی سینیٹ میں تحریک انصاف کے بعد دوسری بڑی پارٹی ہونے کے باوجود اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت کے بغیر کسی معاملہ میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی۔ اس کے بیس اکیس سینیٹرز یا تو تحریک انصاف کی ’بی ٹیم‘ بن کر کچھ مراعات حاصل کرسکتے ہیں۔ یا انہیں مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر سینیٹ میں اپوزیشن کی معمولی اکثریت کو ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کا ایجنڈا مضبوط کرنے کا مشکل کام کرنا ہوگا۔ یوسف رضا گیلانی وسیع تعلقات اور معتدل مزاج سیاست دان ہونے کے باوجود موجودہ سیاسی تعطل میں اپوزیشن کے مؤثر لیڈ ر کا کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔ تحریک انصاف سندھ میں پیپلز پارٹی کا اقتدار ختم کرنے کی خواہاں ہے ۔ وہ پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کی طاقت کم کرنے کے لئے ضرور استعمال کرے گی لیکن ان دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کا کوئی دور رس منصوبہ شروع ہونے یا اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مستقبل میں ملکی سیاست کا معرکہ پنجاب میں برپا ہوگا۔ نواز شریف کے اینٹی اسٹبلشمنٹ مؤقف کو اس وقت صوبے میں پذیرائی حاصل ہے۔ قوی امکان ہے کہ آئیندہ انتخاب جب بھی ہوئے،اس میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت حاصل کرکے پنجاب میں اقتدار پر قبضہ کرسکتی ہے اور مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے۔ اسٹبلشمنٹ اسی امکان سے خوف زدہ ہے اور کسی بھی قیمت پر نواز شریف کی سیاسی طاقت کم کرنا چاہے گی۔ سابقہ انتخابات میں یہ کام عمران خان سے لیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومتیں عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی ضد نے بھی صوبے میں پارٹی کو کمزور کیا ہے۔ اس کی فوری اصلاح نہ ہوئی تو آئیندہ انتخاب میں تحریک انصاف پنجاب کی حد تک قابل ذکر سیاسی قوت نہیں رہے گی۔

پیپلز پارٹی کو پنجاب میں روایتی ووٹ بنک کی حمایت ضرور حاصل ہے لیکن وہ کوئی بڑا سیاسی اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایک ممکنہ حل یہ ہوسکتا ہے کہ تعلقات استوار کروانے والی قوتیں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو مل کر نواز لیگ کے خلاف برسر پیکار ہونے پر آمادہ کریں۔ ایسا سیاسی اشتراک فی الوقت قیاس نہیں کیا جاسکتا لیکن آصف زرداری امکانات کی جس سیاست پر یقین رکھتے ہیں، اس میں اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ بنیادی سوال یہی ہوگا کہ عمران خان کیوں کر پیپلز پارٹی جیسی سیاسی قوت کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ ہوں گے۔ اور صوبے میں مقبولیت پانے والے اینٹی اسٹبلشمنٹ مزاج کے ہوتے کیا ایسا کوئی سیاسی اتحاد کامیاب ہوسکتا ہے جس کے ایک لیڈر پر ’نامزد‘ کی پھبتی کسی جاتی ہو اور دوسرا ’موقع پرست‘ کی شہرت پاکر مطمئن و شاد ہے۔

صرف چھ سال پہلے آصف زرداری نے اسلام آباد میں فوج کو چیلنج کیا تھا اور جرنیلوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ’آپ نے ایک خاص مدت کے بعد چلے جانا ہے لیکن ہم نے یہیں رہنا ہے‘ ۔ اس تقریر میں زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹبلشمنٹ نے اگر سیاسی لیڈروں کی کردار کشی بند نہ کی تو وہ بھی قیام پاکستان کے بعد سے غلط کاریوں میں ملوث ہونے والے جرنیلوں کی فہرستیں سامنے لائیں گے۔ اب وہ نام لینے کو نواز شریف کی سیاسی عاقبت نااندیشی سمجھتے ہیں۔ آصف زرداری کی شعلے برساتی تقریر کے بعد نواز شریف نے بطور وزیر اعظم ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی اور انہیں دوبئی میں خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اب زرداری جس راستے پر پیپلز پارٹی کی رہنمائی کررہے ہیں وہ جون 2015 میں پیش کئے گئے سیاسی ماٹو سے متصادم ہے۔ کیا ایک تقریر کے بعد پہنچنے والی چوٹ اس قدر گہری ہے کہ آصف زرداری اپنی آئیندہ نسل کو بھی اس راستے پر جانے سے روک رہے ہیں؟

سیاست میں کوئی شے حرف آخر نہیں ہوتی لیکن کامیاب سیاست دان بہر حال کسی اصول پر قائم رہتا ہے۔ آصف زرداری بلاشبہ ملک کو اٹھارویں ترمیم دینے والے لیڈر ہیں۔ کیا وہ معمولی فائیدوں اور وقتی سیاسی امکانات کے لئے اس ترمیم کو ختم کرنے کے درپے قوتوں کے ساتھ ’ہتھ جوڑی‘ پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ آنے والا وقت ملکی سیاست میں پیپلز پارٹی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ مفاہمت اور سیاسی جوڑ توڑ کی موجودہ حکمت عملی پیپلز پارٹی کو مستقل طور سے قومی سے علاقائی سیاسی قوت میں تبدیل کرسکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1809 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply