ضرورتمندوں اور نوسربازوں کی پہچان کیجئے اور پھر خیرات کیجئے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ مہینے میں چار، پانچ بار بریانی کھاتے ہیں یا پھر مہینے میں سات آٹھ بار کچھ پرتعیش کھانا کھاتے ہوں گے۔ مگر ہمارے ملک میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو فری میں پرتعیش کھانا کھاتے ہیں اور وہ بھی روز۔ دکانوں کے باہر بھیک مانگتے گداگر روزانہ کھانا لے جانے والے شخص سے چمٹ جاتا ہے اور پھر تنگ آ کر یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسی طرح کا کھانا اس بھکاری کو بھی دلا دیتا ہے اور بھکاری یہ عمل دن میں کئی بار کرتا ہے اور خدا ترس بندے ان ٹھگوں کو ضرورت مند سمجھ کر ان کی مدد روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

یہ بھکاری بظاہر بہت معصوم اور مجبور معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے اکثریت فریبی اور نوسر باز ہوتے ہیں اور ان کا کام سادہ لوح انسانوں کو جال میں پھنسا کر لوٹنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ واقعتاً ضرورت مند ہوتے ہیں جو مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتے ہیں مگر ان میں سے بڑی تعداد ایسی ہے جن کو اس کام میں آسانی سے پیسے اور کھانا مل جاتا ہے اور بغیر محنت کے بس ضمیر کا سودا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی معاشرہ مسلم معاشرہ ہے جہاں صدقہ و خیرات بڑی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر نکالا جاتا ہے اور پوری دنیا میں پاکستانی سب سے زیادہ خیرات کرنے والے لوگ ہیں۔

پاکستان کے بڑے شہروں کے بہت سے مسائل ہیں جن میں سے ایک گداگری بھی ہے۔ گداگری یعنی بھیک مانگنا یا خیرات مانگنا۔ اس گداگری کے نام پر غلط کام بھی ہوتا ہے، بے وقوف بھی بنایا جاتا ہے اور اب یہ باقاعدہ بزنس بن چکا ہے۔ گداگری کے بڑے بڑے گروہ اس مکروہ کام میں شریک ہے۔ اس کام کے لئے باقاعدہ علاقے بٹتے ہیں اور بھتے چلتے ہیں۔ کوئی دوسرا بھکاری اگر کسی دوسرے علاقے میں بھیک مانگتا ہے تو اس پر دھونس جمائی جاتی ہے یا بد معاشی کی جاتی ہے کیونکہ کچھ ایسے پوائنٹس ہوتے ہیں جو گولڈن پوائنٹس ہوتے ہیں اور اس میں کسی خاص گروپ کا قبضہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہاں دوسرے بھکاری کو بھیک مانگنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات سڑکوں پر بھکاری لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

گداگری ایک لت کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے کیونکہ بغیر محنت و مشقت اگر کوئی شخص روزانہ ایک دو ہزار روپے کما لے تو وہ کیوں محنت کر کے مہینے کے 15، 20، ہزار روپے کمائے۔ جب چاہا چھٹی کرلی اور باس کا بھی ڈر نہیں۔ اب جب یہ بھیک مانگنا بزنس بن جائے گا تو کون اس سے پیچھے ہٹے گا۔ اس عمل کو سپورٹ کرنے میں ہم سب سے آگے آگے ہوتے ہیں۔ ہم مانگنے والے پر ترس کھا لیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ مانگنے والا اچھا خاصہ ہٹا کٹا نوجوان ہے یہ آخر کما کر کیوں نہیں کھاتا؟

یہ مانگنے والی خاتون گھر میں کام کر کے بھی پیسے کما سکتی ہے یہ بچوں کے ساتھ بھیک کیوں مانگ رہی ہے؟ ہاں کوئی بہت بزرگ یا معذور ہوتو مدد کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر نوجوان بھکاری کو بھیک نہیں دینی چاہیے بلکہ ڈانٹ دینا چاہیے اور ہاں اکثر ان بھکاریوں کی جانب سے زخمی کا روپ دھار کر بھی مانگا جاتا ہے جس میں بہت سے سادہ لوح لوگ ان کے جال میں پھنس کر ان کو بھاری رقم سے نوازتے ہیں اور یہ اس رقم سے عیاشیاں کرتے ہیں۔

اس گداگری اور نوسربازی کے خلاف حکومتی ادارے بھی کام کرتے ہیں لیکن ان اداروں کی تعداد انتہائی قلیل ہے جس کی وجہ سے یہ گندا فعل کھلم کھلا جاری رہتا ہے۔ عوام سے بھی گزارش ہے کہ مستحق افراد ڈھونڈے اور ان کی مدد کریں نہ کہ ہر مانگنے والے کو نواز دیں۔ یہ مانگنے والے دراصل ٹھگ ہیں، بہروپیے ہیں ان کے مختلف مانگنے کے انداز سے مرعوب نہ ہوں۔ صدقات اور خیرات مستحق کو ڈھونڈ کر پہنچائیں یا پھر ضرورت مندوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرائیں تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین اور مرد حضرات کو سپورٹ کریں تاکہ ان کو حوصلہ ملے اور وہ اپنے کاروبار کو اور ترقی دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *