عارضی دنیا، طارق جمیل کا صدارتی ایوارڈ اور مولوی عزیز کی صوفہ جلاؤ مہم
بچپن سے مولانا طارق جمیل کے بیانات سنتے آئے ہیں ، ان تقاریر میں وہ ایک بات متواتر کرتے رہتے ہیں کہ ”دنیا عارضی چیز ہے اس سے جی مت لگاؤ اور تمام بنیادی تقاضوں کو ترجیح دینے کی بجائے صرف اور صرف آخرت پر فوکس کرو تاکہ تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جاؤ“ ۔ ان کا یہ انداز فکر تقریباً ایک نسل میں جذب ہو چکا ہے اور ان کے اسی انداز گفتگو کی وجہ سے ہم نے بہت سارے امیر و کبیر لوگوں کو دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر جماعت میں وقت لگاتے دیکھا۔
بڑے بڑے مہان سنگرز اور فلم سٹارز جن کے فن کا دنیا میں طوطی بولتا تھا وہ سب اپنے پروفیشن سے تائب ہو کر آخرت بنانے کی فکر میں لگ گئے اور دنیا کو خیرباد کہہ دیا بلکہ ہم نے تو کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بے چارے تازہ پکاتے اور کھاتے تھے مگر انہوں نے بھی اپنی غربت کی پروا کیے بغیر دنیا کو ترک کیا اور اپنے اہل و عیال کو اللہ کے سہارے چھوڑ کر تبلیغ میں چل دیے۔
ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب مولانا صاحبان کیمرے کی آنکھ سے نظریں چراتے تھے اور تصویر کھنچوانے کو کفر گردانتے تھے حتیٰ کہ مائیک سسٹم کو ”آلہ شیطان“ گردانتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ”وربل دنیا اور رئیل دنیا“ میں بہت فرق ہوتا ہے، پریکٹیکل لائف کے تقاضے اور پیمانے بالکل مختلف ہوتے ہیں، دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے تقاضے پورے کیے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آج ہم بالکل ہی مختلف ہی دنیا دیکھ رہے ہیں ہم ایک نئے طارق جمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، آج کے مولانا ماضی والے مولانا سے بالکل ہی مختلف ہیں اب ان کا زاویہ نگاہ عارضی دنیا کے حوالے سے کافی تبدیل ہو چکا ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنے میں بالکل بھی عار نہیں ہے کہ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ sanity prevails at last۔
اب مولانا صاحب نے ”ایم۔ ٹی۔ جے“ برانڈ متعارف کروا دیا ہے اور اب کاروباری حلقے میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے، یوٹیوب کی دنیا میں بھی اپنا سکہ منوا لیا ہے اور یوٹیوب گولڈن بٹن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، بڑے بڑے لوگوں کی تقریبات میں بھی اپنی آواز کا جادو جگاتے ہیں اور اب ایک تازہ ترین خوشخبری بھی ان کے حصے میں آئی ہے انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نواز دیا گیا ہے۔ اب ہماری مولانا صاحب سے درخواست ہے کہ اپنے پیروکاروں میں بھی مثبت رویہ پروان چڑھانے کی کوشش کیجیے تاکہ وہ بھی اپنی دنیا و آخرت کو سنوار سکیں کیونکہ خالی پیٹ کے ساتھ عبادت کی چاشنی ختم ہو جاتی ہے۔
مولانا صاحب آپ یہ بات بہت اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ”انتہاؤں“ کے درمیان زندگی عذاب بن جاتی ہے اور مثبت اپروچ ہی زندگی کو گلزار بناتی ہے خدارا اس سوچ کو اپنی پیروکاروں کے درمیان بھی پروان چڑھا دیں۔ گزشتہ دنوں ایک اور انتہائی رویہ دیکھنے کو ملا ، لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے یہ کہہ کر صوفہ کو آگ لگا دی کہ یہ کافروں کی ایجاد ہے اور صحابہ کرام زمین پر بیٹھا کرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس وقت اور دور کی آپ بات کر رہے ہیں کیا اس دور میں وہ سب کچھ تھا جو آج ہم انجوائے کر رہے ہیں؟
مولانا صاحب ایک صوفہ جلانے سے کیا بنتا ہے ، ہم تو توقع کر رہے ہیں کہ آپ اب لیپ ٹاپ، آئی فون، ٹیلی ویژن، مائیک سسٹم، قیمتی قالین اور اپنی بہترین لینڈ کروزر بھی جلانے کا جلد آغاز کریں گے، اگر آپ نے اپنے پیروکاروں کی صحیح تربیت کرنی ہے تو پھر بسم اللہ کیجیے اور کفار کی تمام ایجادات کو دیس نکالا دے کر بالکل زمین پر بیٹھ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کیجیے مگر ہمیں امید ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ہمارا کھاتہ گول ہے اور ہمارے پاس ہمارا کچھ بھی نہیں سوائے ماضی کی حسین یادوں کے جو کہ اب قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔
اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی طارق جمیل کی طرح مثبت اپروچ کو اپنائیے اور انتہاؤں کے درمیان جھولنے کی بجائے زندگی کو آسان بنانے میں کوئی نمایاں بندوبست کیجیے کیونکہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو پھر آگے دیکھنے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا ہو گا ، ورنہ وقت ہمیں لاوارثوں کی طرح لتاڑ کر آگے نکل جائے گا اور ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔


