وفاق المدارس کا امتحانی پرچہ لیک ہونے کا معاملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کوئی نظام انسان اپنی عقل و خرد کو استعمال کر کے تشکیل دیتا ہے، تو معاشرے کے افراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس نظام کی تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ اس نظام کو انسان نے تشکیل دیا ہے، اور انسان، انسان ہوتا ہے، غلطی کا پتلا ہے، وہ خدا نہیں جو عیب سے پاک ہو۔ اور انہی باتوں کے پیش نظر نظام کو قبول کیا جاتا ہے کہ انسان سے کوتاہی ہوتی ہے، لیکن غلطی وہ بری جو جان بوجھ کر کی جائے، جو انجانے میں ہو جائے اس پر تنقید ضرور کیجیے لیکن تحقیر اور تذلیل کی حدود کو نہیں چھونا چاہیے۔ چلتے نظام میں پھرتا اور بھٹکتا انسان لاکھ برائیوں کے باوجود اپنی آغوش میں خوبیوں کے موتی چھپائے ہوتا ہے۔ لیکن ظاہر کو دیکھ کر باطن پرکھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

بات طویل ہو رہی ہے خیر اصل مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں دین اسلام کی برسوں سے خدمت کرنے والے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ میں امتحانات جو کہ 20 مارچ بروز ہفتہ سے شروع ہوئے اور بروز جمعرات 25 مارچ کو اختتام پذیر ہوئے۔ ان امتحانات میں ایک لاکھ پینتالیس ہزار کے لگ بھگ طلبہ و طالبات نے شرکت کی، ان امتحانات سے قبل خوش قسمت والدین کی باسعادت اولاد نے حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی ، ان کی تعداد 74605 بتائی جاتی ہے۔

یہ دوسرا سال ہے کہ وفاق المدارس نے انتہائی سخت حالات میں بھی امتحانات کا پرسکون انعقاد کر کے اپنا لوہا پھر منوا لیا، اور اس بات کا ثبوت پیش کیا کہ پاکستان میں نظام تعلیم کے اعتبار سے وہ لاثانی بورڈ ہے۔ گزشتہ برس کورونا وائرس کے باعث کچھ تاخیر کا سامنا رہا لیکن جوں ہی حالات کچھ بہتری کی جانب گامزن ہوئے تو باصلاحیت ناظمین نے تمام ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے امتحانات کے انعقاد کا فیصلہ کیا، اور یوں امتحانات بھی ہو گئے اور طلبہ کا وقت بھی ضائع ہونے سے بچ گیا۔

اس سال بھی امتحانات سے قبل اور دوران کچھ حالات ایسے تھے کہ جہاں تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا سوچا جا رہا ہے، اور کئی ادارے بند بھی کیے جا چکے ہیں، اور جو امتحانات ملتوی ہوئے وہ اپنی جگہ، ان حالات میں ایک دفعہ پھر وفاق المدارس نے پورے پاکستان میں کامیابی سے تعلیمی مراحل کو طے کیا۔ اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اس دوران کسی قسم کا نہ تو کوئی ہنگامہ برپا ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ایک جگہ بھی کورونا کیس سامنے نہیں آیا۔

البتہ ان مشکلات کے ساتھ ساتھ ایک مشکل یہ ضرور پیش آئی کہ امتحانات کے دوران کچھ پرچہ جات لیک ہوئے، اور ہر طرف سے اس تعلیمی بورڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کچھ اپنے بھی غیروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے دکھائی دیے، ان کی خدمت میں صرف اتنا کہوں گا ؛

جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
جب بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے

یوں اپنوں اور پرایوں نے بات کا بتنگڑ بناتے ہوئے ایسے حالات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی  جس میں اس تعلیمی بورڈ کے نام پر کیچڑ اچھالا جا سکے اور کچھ نازیبا حرکات کی خبریں بھی سننے کو ملیں، لیکن بحمداللہ ایسے تمام رویوں کو تب منہ کی کھانی پڑی جب وفاق المدارس العربیہ کے باتدبیر سربراہ کی جانب سے ان حضرات کو ایک بہترین سر پرائز پیش کیا گیا۔

آپ ملک کے کسی بھی تعلیم بورڈ یا امتحانی بورڈ کا جائزہ لیجیے، پرچے لیک ہو جاتے ہیں، اور یوں ان کا لیک ہونا ایک ایسا معما بن جاتا ہے جسے مہینوں حل کرنے میں لگ جاتے ہیں، زیادہ دور کی بات نہیں این ٹی ایس کی مثال ابھی تازہ ہے، متاثرین کے ساتھ دو منٹ کی نشست کریں، اور ان کے دکھڑے سنیں، فیسیں جمع کرا کر بھی ابھی تک کوئی پرسان حال نہیں، اور مزید کتنا وقت لگ جائے اس کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، تب حالات اور بھی سنگینی کی جانب بڑھ جاتے ہیں جب اہل حل و عقد کی تمام تر توجہ اقتدار کی کھینچا تانی میں مرکوز ہے۔

وفاق المدارس کا پرچہ لیک ہوا، یہ عالمیہ سال دوئم (ایم اے ) جسے دورہ حدیث شریف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کلاس کے نصاب میں موجود سنن ابی داؤد (حدیث کی شہرہ آفاق کتاب) کا پرچہ رات کو لیک ہوا، صبح پورے پاکستان میں اپنے فکس ٹائم پر نیا پرچہ پاکستان کے تمام امتحانی مراکز میں موجود تھا، اور راتوں رات معاملہ کو یوں سلجھا دیا گیا جیسے کبھی الجھا ہی نہ ہو۔

پرچہ لیک ہونا یقیناً کسی بھی تعلیمی اور امتحانی بورڈ کی کارکردگی عیاں کرنے کو کافی ہوتا ہے، اس کی کارکردگی اور منتظمین کو کٹھن مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور پھر تنقید بھی تب بنتی ہے جب غلطی پر ”مٹی پاؤ“ کا فارمولہ استعمال کیا جائے، لیکن جب غلطی کے ادراک پر فوراً کارروائی کی جائے، اس غلطی کی جڑ کو ہی سرے سے اکھاڑ پھینکا جائے، تب انسان اگر کچھ اچھا نہ بھی کہہ سکے تو کم از کم ایسے رویے اپنانے سے گریز ضرور کیا جانا چاہیے جس میں تنقید سے زیادہ انسان کے ذاتی بغض و عناد کی آمیزش کی بو آنے لگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *