چار تابوت کا قصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں کیوں اس کو چار تابوت کا قصہ کہہ رہا ہوں، اس لیے کہ اس کو حکومت وقت کی سردمہری نے خود قصہ بنا دیا ہے۔ میں یہاں کسی تفریق کی دانستہ یا کسی نفرت یا امتیاز کے بل بوتے پر ذکر نہیں کر رہا لیکن بالآخر انسان گوشت پوست کے بننے کے ساتھ ساتھ دل، عقل دماغ اور یادداشت کے اجزا کا بھی مرقع ہوتا ہے۔ اور پھر ایسے موقع پر تو ماضی قریب کیا ماضی بعید کے برتاؤ بھی لوگوں کو یوں یاد آنے لگتے ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ بلکہ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں واقعی کل کی بات لگ رہی ہے جب کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے کان کن مزدوروں کو دہشت گردوں نے ہاتھ پاؤں بانھ کر بے دردی سے مارا تھا اور پھر ان کے لواحقین نے ان کی لاشیں سخت سردی میں بیچ سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا تھا اور مطالبہ کر رہے تھے کہ جب تک وزیر اعظم خود چل کر نہیں آتے اور دہشت گردوں کو پکڑنے اور ان کو سخت سے سخت سزا دینے کا وعدہ نہیں کرتے تب تک لاشوں کو نہیں دفنائیں گے۔

ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے دن رات ان کی خبروں کا ایک انبار اور جھنکار لگایا ہوا تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے لیڈران بلاول اور مریم خود وہاں گئے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرنے اور حکومت وقت پر طعن و تشنیع کرنے اور ان کا ادھر جانا بھی بنتا تھا اور ان کا ایسا کرنا بذات خود ایک اچھا عمل تھا۔ ٹی۔ وی اور اخبارات میں اس پر تبصرے اس کے علاوہ تھے۔ پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں کے بڑے بڑے شاہراؤں پر اہل تشیع حضرات نے دھرنے دیے اور شاہراؤں کو بند کیے رکھا، صرف کراچی میں متعدد چوراہوں اور شاہراہوں کو بند کیے رکھا اور ان کی حفاظت پر ملک کے سیکیورٹی بھی مامور رہی جو کہ سکیورٹی پر ماموریت سکیورٹی اہلکاروں کی بذات خود ایک اچھا عمل تھا۔

اتنے لمبے تمہید کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ دنوں وزیرستان میں جانی خیل کے علاقے میں چار نوجوان شکار کے لئے گٰئے تھے، کئی دنوں کے لئے لاپتہ رہے اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ اب ان کے لواحقین ان کی لاشیں دفنانے سے انکاری ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو پکڑا جائے اور ان دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ لیکن اب تک کی اطلاعات تک حکومت وقت تو کیا عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے علاوہ کسی اپوزیشن لیڈر نے بھی وہاں جانا گوارا نہیں کیا۔

جنرل میڈیا اس سلسلے میں بالکل خاموش اگر نہیں ہے تو کھل کے بول بھی نہیں رہا ہے۔ سیاسی تبصروں سے اینکر حضرات بالکل قاصر ہیں۔ صرف سوشل میڈیا پر ان کی خبریں شیئر ہو رہی ہیں۔ اور اب انھوں نے اپنے پیاروں کی تابوت اٹھا کر اسلام آباد کا رخ کیا ہے۔ لیکن اسلام آباد جانے کے لئے چاہیے تھا کی سیکیورٹی ادارے ان کو تحفظ فراہم کرتے بلکہ بقول لواحقین الٹا ان کے لئے وہ راستے اور پل بند کیے جا رہے ہیں جو اسلام آباد کی طرف جاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہشت گردی کے شکار مقتولین کے لواحقین کے مطالبات غلط ہیں؟ کیا یہ مطالبہ درست نہیں کہ دہشت گردوں کو پکڑا جائے؟ کیا ان کا یہ مطالبہ بے بنیاد ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑ کر ان کو سخت سے سخت سزائیں دی جائے؟ کیا ان کا یہ مطالبہ حکومت وقت سے بے جا ہے کہ حکومت ہمیں امن و امان کی ضمانت دے کہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہیں ہوگا؟ یقیناً یہ تمام مطالبات حکومت وقت کے بھی مطالبات ہیں۔

بلکہ وہ تو آئے روز دعوی کرتی ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے پر نہ جانے یہ دہشت گرد ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ پھر کیسے اور کہاں سے وارد ہو جاتے ہیں اور چار پانچ لوگوں کو مار کر چلے جاتے ہیں اور پھر ان کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ وہ کام جو حکومت وقت کو پہلے کرنا چاہیے تھا وہ کام بروقت کیوں نہیں کیا گیا؟ کیوں ایک بار پھر دہشتگردی کی نوبت آن پڑی اور عوام کے منہ سے کیوں امن و امان کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں؟ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں ہے کوئی سننے والا کہ ان سوگوار لواحقین کی چیخ و پکار سنیں؟ اور ان تابوت میں پڑی لاشوں کو سیاسی تعفن سے پہلے پہلے ان کی مطالبات سن کر دفنایا جائے؟ اخر میں اس سلسلے میں، میں اپنی ایک پشتو نظم کا ترجمہ لکھ کر اپ سے اجازت چاہوں گا شاید کسی کو اپیل کرے۔

گونج

دربار میں تو ہر چیخ کی گونج اٹھتی ہے
پھر یہ میرے چیخ کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوا
دوسروں کی آواز تو ملکوں ملکوں پہنچ جاتی ہے یہ میری آواز فقط اپ تک کیوں نہیں پہنچ پاتی
دوسروں کا عکس تو انتخاب عکاس ہوتا ہے
یہ میری عکس پہ کیوں تمہاری نگاہ پڑی نہیں
جب دوسروں کی تابوت ایک دو دن کے لیے رک جائیں
خاوند حساب دوڑ کے پہنچ جاتا ہے
اہل نصاب سب کچھ چھوڑ کے پہنچ جاتا ہے
ذرائع ابلاغ خود سے تیز تر ہوتے ہیں
دربار کا متولی تو سب کے لئے ایک جیسا/ ایک رنگ ہوتا ہے
خواہ ان کے سامنے بادشاہ ہو، عامی ہو یا ملنگ ہو
یہ تمھارا کیسا دربار ہے
یہ تم کسے متولی ہو
میں تیرے دربار میں پڑا ہوا ہوں
محو چیخ و پکار ہوں تیرے دربار میں
گونج میری چیخ و پکار کی
نہ تیری دربار میں القہ سرود ہے
نہ تیری سماعت کی سماع ہے
مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے
جیسے کہ تم کہہ رہے ہو
بہت تفاوت ہے تمھارے بیچ
تم پرائے ہو تم کوئی اور ہو
تم میرے دربار کے نہیں ہو
میں تمھارا متولی نہیں ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *