میرا خدا تمہاری مرضی لیکن کیوں

جب سے آنکھ کھولی تو خدا سے میرا پہلا تعارف یہ ہوا کہ اگر کچھ بھی غلط کیا تو تم جہنم میں جاؤ گی کیونکہ جو بچے بات نہیں مانتے ان کو اللہ تعالی کی جانب سے بھی سخت سزا ملتی ہے۔ اگر اللہ تعالی ناراض ہوں تو پھر بات نہیں سنتے یہ نہیں بتایا کہ اس کی ذات تو رحیم اور کریم ہے ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہتی ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان خوف کا نہیں محبت کا رشتہ ہے۔

میں بچپن سے ہی بہت شرارتی تھی تو میرے لیے یہ سزا ملنے والے جملے سننا لازمی تھے اور ان جملوں میں خدا کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں میں کمی بیشی میری شرارتوں کی نوعیت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی تھی۔ اس لیے دل میں ڈر سا بیٹھ گیا کہ اگر ایسے کیا تو مجھے آگ جلاتی رہے گی ویسے کیا تو اللہ تعالی مجھے سخت سزا دیں گے۔

مگر عجیب ہے نا اتنے ڈر خوف کے باوجود بھی شرارتوں سے باز نہیں آتی تھی نہ جانے کب میں نے آہستہ آہستہ اپنے لاشعور میں خدا سے کہیں نہ کہیں اپنا تعارف خود بنانا شروع کر دیا تھا یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ میں کون سا ہر وقت شرارتیں کرتی ہوں اچھے بچوں کی طرح پڑھتی بھی تو ہوں۔ وقت پر نماز بھی پڑھ لیتی ہوں ماما بابا کی بات بھی مان ہی لیتی ہوں ہوم ورک میں دوستوں کی ہیلپ بھی کر ہی دیتی ہوں تو کیا وہ اتنے معصوم بچوں کو شرارتوں پر ایسے آگ میں جلا سکتا ہے۔

ڈرتے ڈرتے خدا سے بات کرنا شروع کردی تھی اور اس سے بات کرنا کون سا مشکل ہے جب چاہو کرلو جیسے مرضی کرلو وہ تو سب کی ہی سنتا ہے نا اس کے لیے تو سب خاص ہے نا سب برابر ہیں نا یہ تو ہم ہیں جو انسانوں کو اپنی اپنی مرضی سے اپنے نظریوں کے مطابق جانچتے ہیں۔ انسانوں کو سزا اور جزا دینے کا اختیار صرف اس کے پاس ہے لیکن نہ جانے کیوں ہم نے یہ اختیار اپنا بنالیا ہے اپنے اپنے مفادات اپنے اپنے نظریات کو تحفظ دینے کے لیے دوسرے کو معتوب کرنا فرض سمجھ لیا ہے۔

ہم کون ہوتے ہیں کسی کے لیے جہنم اور جنت کا سرٹیفیکٹ خریدنے والے۔ صدیوں سے انسان اس کی کھوج میں ہے اس کی ذات کے بارے میں جاننا چاہتا ہے سوال اٹھانا چاہتا ہے وہ کون ہے کیا ہے کیوں ہے کہ جواب مانگتا آ رہا ہے تو کیا ہو گیا؟ جب اس نے سوال پوچھنے اور کھوجنے سے نہیں روکا تو ہم کون ہوتے ہیں سوالوں کو روکنے والے علامہ اقبال نے 1912 میں اپنی نظم شمع اور شاعر سنانے سے قبل کہا کہ ”جو نظم پچھلے سال لکھی تھی وہ شکوہ تھا اور اس میں خدا سے شکایت تھی اور بعض لوگوں نے اسے برا خیال کیا اور یہ سمجھا کہ یہ بہت بڑی جسارت ہے۔ میں نے بھی یہی خیال کیا لیکن تو بھی وہ اس قدر مقبول ہوئی کہ آج تک کئی ہزار خطوط اس کی تعریف کے میرے پاس آچکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہی بات جو کہ لوگوں کے دلوں میں تھی وہ ظاہر کر دی گئی لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ میرا شکوہ خدا کو بھی پسند آیا“

قلم اس کی طرف سے لکھنے والوں کو ودیعت ہے اس نے کب کہا کہ سوال مت پوچھو میرے آگے شکایت مت رکھو اس سے شکوے کرنا تو الفت کی نشانی ہے۔ اس کو کھوجنے کی جستجو تو قلم کی میراث ہے نظریے سے اختلاف کرنا حق ہے لیکن یہ کب ہوا کہ جو تمہارا نظریہ نہ مانے اس کو قتل کردو فتوی لگا دو شیطان بنا دو۔ اس کی ذات کو ہم میں سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز اپنے اپنے مفروضے سے کھوجتا اور سوچتا ہے تو کیا غلط ہے؟ کہاں منع کیا اس نے کہ اس کو نہ سوچو کہاں منع ہے کہ اس کے بارے میں نہ پوچھو کہاں ہے کہ اس سے شکوہ نہ کرو۔

ہم میں سے ہر ایک اس سے اپنے اپنے طریقے سے مخاطب ہوتا ہے، کبھی دعا کی صورت کبھی آنسو کی صورت کبھی الفاظ کی صورت کہیں وہ عشق ہے، کہیں وہ سادگی سے دل کی دعا ہے، کہیں وہ حیرت میں ڈوبا سوال بنتا ہے، کہیں وہ کسی کی زبان پر شکوہ بنتا ہے۔ ہم سب کا مخاطب وہی لیکن انداز تخاطب سب کا الگ ہے تو کیا کریں سب زبانوں پر تالے لگا دیں؟

کسی کے تمثیلی افسانے کو پڑھے بغیر اس پر فتوی لگا دو اور ہاں بس یہاں مت رکو جو جو وہ افسانہ سن رہے تھے ان کو بھی صلیب پر چڑھا دو اور پھر تو ہر دور کے تخلیق کاروں کو پھانسی ہی ملنا چاہیے تھی ان کے لکھے کو جلا دینا چاہیے۔ آج امر جلیل کو گرفتار کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں فتوے لگ رہے ہیں کل اس جگہ کوئی اور ہوگا کبھی پنجاب کا کوئی قلندر تو کبھی سندھ کا مجذوب تو کبھی بلوچستان کا دیوانہ تو کبھی کے پی کے کا مست تو گلگت کے پہاڑوں کا کوئی سرپھرا اس انتہا پسندی کے نشانے پر ہوگا، یہ تو بس وہی جانتا ہے کہ یہ سلسلہ کب رکے گا۔

بس سوال صرف اتنا ہے میرا کہ جب خدا میرا اس سے سوال میرا شکوہ میرا تو تمہاری مرضی کیوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words