افغانستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تین انسدادِ پولیو رضاکار خواتین ہلاک
افغانستان میں نامعلوم افراد کے حملے میں تین خواتین انسدادِ پولیو رضا کار ہلاک ہو گئی ہیں۔
افغانستان میں پانچ روز انسداد پولیو مہم کا آغاز پیر کو ہوا تھا جس کے دوسرے روز منگل کو خواتین انسدادِ پولیو رضا کاروں پر حملہ کیا گیا ہے۔ رواں سال ملک میں انسدادِ پولیو کی یہ پہلی مہم ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے لگ بھگ دس لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والی خواتین صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا حصہ تھیں۔
اس حملے کی فوری طور پر کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
واضح رہے کہ افغانستان میں 2020 میں پولیو کے 56 کیسز سامنے آئے تھے۔ جب کہ رواں برس بھی لگ بھگ دو درجن کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
حکام کے مطابق ملک کے 34 میں سے 32 صوبوں میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔
جنگ زدہ ملک افغانستان اور اس کا پڑوسی ملک پاکستان دنیا میں دو ایسے ممالک ہیں جہاں اب تک پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ اور بچوں کے پولیو سے متاثر ہونے کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
افغانستان میں مسلسل جاری جنگ اور طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں گھر گھر بچوں کو قطرے پلانے پر پابندی کو ملک سے پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
افغانستان کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین برس میں 30 لاکھ کے لگ بھگ بچے پولیو قطرے پینے سے محروم رہے ہیں۔
پیر کو انسدادِ پولیو مہم کے آغاز پر ہونے والی تقریب پر وزیرِ صحت وحید مجروح کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث 10 لاکھ بچوں کے 2021 میں ویکسین سے محروم رہنے کا اندیشہ ہے۔


