صالحین کے گروہ کے پاس کون سا نسخہ ہے؟ مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو گیا ہے اور ملک میں صالحین کا گروہ برسر اقتدار آ گیا ہے۔ یہ بے حد نیک، مخلص، دیانتدار، متقی اور پرہیز گار بندے ہیں جنہیں مال و دولت، نمود و نمایش، طاقت و اقتدار کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں بڑی مشکل سے اس بات پر راضی کیا گیا ہے کہ آپ عنان اقتدار سنبھال لیں اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیں۔ ہم اس معجزے پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ آیا صالحین کا ایسا کوئی گروہ ملک میں وجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو اسے کیسے برسر اقتدار لایا جا سکتا ہے۔

فی الحال ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ صالحین کا یہ گروہ مسند اقتدار پر بیٹھ چکا ہے اور کوئی دن جاتا ہے کہ ذوق خدائی سے سرشار ان پراسرار بندوں کی ہیبت سے پہاڑ جیسے مافیا سمٹ کر رائی بن جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ایسے فیصلے ہوں گے جو صالحین کا یہ گروہ کرے گا اور جن سے ملک کی سمت فوری طور پر درست ہو جائے گی اور پھر کچھ ہی عرصے میں غربت اور افلاس کا خاتمہ ہو جائے گا، بیروزگاری کی شرح کم ہو جائے گی، عام آدمی کو اپنا مکان مل جائے گا، کسی کو انصاف کے لیے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔

قانون سب کے لیے برابر ہو جائے گا، پی آئی اے، سٹیل مل اور ریلوے جیسے اداروں کی ساکھ بحال ہو جائے گی، شرح سود نہ ہونے کے برابر ہوگی، چار چار سال کی بچیوں کا ریپ نہیں ہوگا، آبادی کا جن قابو میں آ جائے گا، ملاوٹ شدہ اشیا کی فروخت بند ہو جائے گی، ہمارے پاسپورٹ کی حیثیت جرمنی اور سنگاپور جیسی ہو جائے گی، لا پتا افراد کا مسئلہ حل ہو جائے گا، چھوٹے صوبوں کی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔

خواتین کو بغیر کسی مارچ کے تمام حقوق مل جائیں گے، مزدوروں کی اجرت وقت پر اور پوری ملے گے، کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، دریائے سندھ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا نہیں سوئے گا اور نظام حکومت ایسا شفاف ہوگا کہ ایک عام آدمی بھی حکمران کا گریبان پکڑ کر سوال کر سکے گا کہ تم نے جو یہ مہنگا سوٹ پہن رکھا ہے اس کے پیسے تمہارے پاس کہاں سے آئے؟

اس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو ان افکار و نظریات کی روشنی میں ترتیب دیا جا سکتا ہے جن کا اظہار اس قسم کے صالح حضرات اکثر اپنی تقاریر، مضامین اور گفتگو میں فرماتے ہیں۔ مثلاً جن باتوں کو وہ معاشرے میں برائی کی اصل جڑ سمجھتے ہیں ان میں فحاشی، عریانی، سودی نظام، عورت مارچ، امریکی اور مغربی ثقافت کی ترویج، مخلوط تعلیم وغیرہ شامل ہیں۔

ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ نقطہ نظر درست ہے یا نہیں بلکہ اپنے تخیلاتی تجربے کی خاطر اسے من و عن درست تسلیم کر لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہمارے صالحین کا مثالی گروہ اپنے اقتدار کے پہلے سو دنوں میں جو فوری اقدامات کرے گا ان میں شرح سود کو صفر پر لانا، مخلوط تعلیم پر پابندی، خواتین کے بے پردہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی اور عورت مارچ پر پابندی لگانا شامل ہوگا۔

قطع نظر اس بات سے کہ ان اقدامات کو عوام کے طبقات کی تائید حاصل ہوگی یا نہیں یا صفر شرح سود کے بعد ہم اپنی عالمی ادائیگیوں سے کیسے بری الذمہ ہو جائیں گے، ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ صالحین کے گروہ نے ملک کے طول و عرض میں یہ پابندیاں لگا دیں ہیں۔ پھر کیا ہوگا؟ کیا اس کے نتیجے میں وہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے جن کا ہلکا سا اشارہ خاکسار نے اوپر دیا ہے؟ ایک دودھ پیتا بچہ بھی جانتا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو افغانستان کے تمام مسائل ’صالحین کی حکومت‘ میں ختم ہو جاتے جو کئی برس تک افغانستان میں قائم رہی، جس نے پورے ملک سے افیون کی کاشت ختم کر دی تھی، جہاں مخلوط تعلیم اور عورت کی بے پردگی کا کوئی تصور نہیں تھا اور جہاں عورت مارچ کے کسی کو ہجے بھی نہیں آتے تھے۔ ویسے افغانستان جانے کی بھی ضرورت نہیں، خود ہمارے ملک میں صالحین کی یہ حکومت مرد آہن کی سربراہی میں پوری قوت اور جبروت کے ساتھ گیارہ برس تک قائم رہی، اس دوران وہ مذہبی جماعت اقتدار کا حصہ تھی جس کے پاس مبینہ طور پر ایک مثالی نظامی حکومت کا پورا بلیو پرنٹ موجود تھا۔

مگر مطلق العنانیت کے گیارہ برس جب ختم ہوئے تو پتا چلا کہ ملک کے مسائل کیا ختم ہونے ہیں الٹا ملک دہشت گردی اور انتہا پسندی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ دو مرتبہ ان صالحین کو خیبر پختونخوا میں بھی موقع ملا مگر نتیجہ وہی صفر بٹا صفر۔ کوئی ایسا معرکہ یہ نہیں مار سکے جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی ایسا ماڈل یا خاکہ ہے جس پر عمل کرنے سے جدید معاشرے کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

اگر ان سے بحث کی جائے تو جواب میں کہتے ہیں کہ اصل میں سارا نظام ہی ناکارہ اور بوسیدہ ہے، جب تک اسے جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا جائے گا اس وقت تک کسی مثبت بات کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ دلیل بھی بودی ہے کیونکہ ہمارا تو مفروضہ ہی اس بات سے شروع ہوا تھا کہ ناکارہ نظام جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے اور کسی طرح صالحین کا گروہ اقتدار میں آ چکا ہے، اب وہ بتائے کہ کیا کرے گا؟ یہ لوگ گورننس کا ایسا کون سا خاکہ پیش کریں گے جس کی بدولت ہو ملک کے مسائل حل کر دیں گے؟

اس کا ایک جواب مولانا مودودی کی کتاب ’اسلام کا نظام حیات‘ میں موجود ہے۔ ’اسلام کا سیاسی نظام‘ والے مختصر سے باب میں مولانا نے بڑی صراحت کے ساتھ اسلامی حکومت کا خاکہ بیان کیا ہے۔ مولانا کی اس سیاسی اسلام کی تشریح سے نہ صرف ان کے ہمعصر علمائے دین بلکہ دیگر جید علما ء بھی اختلاف کرتے ہیں لیکن فی الحال اگر ہم مولانا مودودی کی دین کی تعبیر کو درست مان لیں تو جمہوریت کا جو خاکہ مولانا نے پیش کیا، اس میں اور بالغ رائے دہی کے جدید تصور میں، سوائے اس کے اور کوئی فرق نہیں کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی او ر یہ کہ ریاست میں صرف اللہ کا قانون چلے گا۔

اب یہ بات ہمارے آئین میں پہلے ہی درج ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل تمام قوانین کی پڑتال کر کے اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ملک میں کوئی ایسا قانون نافذ نہیں جو خلاف مذہب ہو۔ یہاں سے ایک نیا سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟ ہمارے مذہبی دوست اس ضمن میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ محض آئین میں لکھنے سے کوئی ریاست اسلامی نہیں ہو جاتی۔

ان کی یہ بات درست ہے بالکل اسی طرح جیسے محض آئین میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں لکھنے سے اقلیتوں کو خود بخود حقوق نہیں مل جاتے۔ لیکن جب ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آئین میں دیے گئے اصولوں پر عمل کیسے کیا جائے تو اس کا کوئی ٹھوس جواب دینے سے وہ قاصر نظر آتے ہیں۔ خاکسار کی رائے میں اس کلیدی سوال کا جواب جدید معاشروں کے طرز حکمرانی کا مطالعہ کرنے سے ملے گا۔ ہمارا ملک کوئی ایسا انوکھا یا اچھوتا ملک نہیں جس کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

دنیا میں ہم سے کہیں بد تر مسائل اور کم تر وسائل والے ممالک نے ہماری آنکھوں کے سامنے ترقی کی ہے۔ مگر ان ممالک نے یہ ترقی مسائل کو ان کی اصل جڑ سے اکھاڑ کر کی جسے انگریزی میں To take the bull by the hornsکہتے ہیں نہ کہ فروعی باتوں پر پابندی لگا کر کی۔ ان ممالک میں ایک بات مشترک تھی کہ انہوں نے جدید جمہوری معاشروں کی بنیاد ڈالی اور پھر اس جمہوری روایت کو اپنے ہاں وہ تقدس دیا جو کبھی چرچ کو حاصل تھا۔ صدیوں کی لڑائی کے بعد کہیں جا کر انہیں وہ آزادی ملی جس کے لیے ہم آج بھی آنکھوں میں خواب لیے بیٹھے ہیں۔ نہ جانے یہ خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 194 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *