پاکستان اور جنوبی ایشیا کے حالات


چین سے تعلقات کے حوالے سے پاکستان میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ چین ایک بہترین دوست ہے۔ اس لیے چین سے متعلق کہا جاتا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے زیادہ بلند، سمندر سے زیادہ گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ دوستی کے اعتبار سے چین ہمیشہ ایک قابل اعتماد ثابت ہوا ہے جب بھی ہماری مشرقی سرحد پر دباو بڑھا ہے تو شمال سے ہمارے لیے ہمیشہ ٹھنڈی ہوا چلی ہے۔ بلا شک و شبہ چین دنیا کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور عسکری قوت ہے۔

دنیا کے مستقبل سے چین کا کردار ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جس رفتار کے ساتھ چین ابھر رہا ہے اس سے فی الوقت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو ایک حقیقی چیلنج کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی جنگ ایک مدت سے جاری ہے۔ اور ان دو ملکوں کے مابین جاری کشمکش کے اثرات جنوبی ایشیا پر بھی نظر آرہے ہیں

خطے میں انڈیا اور چین دو بڑے پلیئر ہیں اور ہمیں اپنا معروض سمجھنے کے لیے انڈیا اور چین کے کردار کو سمجھنا ہوگا۔ اگر چین کی ہمارے ساتھ دوستی ہے تو انڈیا امریکہ کے مابین تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس ضمن میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور انڈیا کے مابین سکیورٹی اتحاد ناصرف غیر معمولی ہے بلکہ اس کا ہدف چین کو سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے امریکہ کو چیلنج کرنے کے لیے خطے میں نئے دوستوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ اس لیے چین، ترکی، پاکستان اور ملائیشیا پر مشتمل ایک نیا گروپ تشکیل دینا چاہتا ہے تاکہ مسلم ممالک پر سے امریکہ اور سعودی عرب کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔ دنیا میں قائدانہ کردار کی ادائیگی کے لیے چین اپنے گرد اتحادی جمع کر رہا ہے اور یہ مستقبل میں امریکہ کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا

یہی وجہ ہے کہ چین نے خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو ماضی کے مقابلے میں بہتر کیا ہے۔ چھ خلیجی ممالک کی تنظیم خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور قطر شامل ہیں کے ساتھ چین کے مذاکرات جاری ہیں اور جی سی سی نے حالیہ سعودی دارالحکومت ریاض میں چینی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد چین کو ایک اچھا دوست قرار دیا۔ اور چین نے بھی کہا کہ وہ علاقائی سکیورٹی میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

یہی نہیں بلکہ چین نے گزشتہ دنوں ایران کے ساتھ 450 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کے معاہدے پر تہران میں دستخط کیے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ معاشی دباو تلے تنہائی کے شکار ایران کے لیے یہ ایک بہت بڑا اور اہم معاہدہ ہے۔ بیک وقت جی سی سی سے کامیاب مذاکرات اور ایران کے ساتھ معاہدہ خطے کے لیے نا صرف گیم چینجر ثابت ہوگا بلکہ امریکہ کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہوگا۔ اس معاہدے سے چین کی گرم پانی تک رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔

امریکی بحریہ کے افسرایڈمرل ایلفریڈ نے ایک بار کہا تھا کہ جو کوئی بھی بحیرہ ہند پر اثر و رسوخ قائم رکھے گا وہی دنیا پر اثر و رسوخ رکھے گا۔ اور چین کا بحیرہ ہند پر اثر و رسوخ آئے روز بڑھ رہا ہے اور امریکہ کی اجارہ داری بتدریج کم ہو رہی ہے

خطے کے ایک اور اہم ملک افغانستان میں جہاں امریکی افواج موجود ہیں میں بھی امریکیوں کے انخلا کا وقت آن پہنچا ہے۔ 2019 میں شروع ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات کئی ماہ جاری رہنے کے بعد بالآخر ایک معاہدے پر ختم ہوئے۔ اس معاہدے پر افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے دوحہ میں 29 فروری 2020 کو دستخط کیے جس کے مطابق امریکی افواج 14 ماہ بعد مئی 2021 میں افغانستان سے نکل جائیں گی۔ تاہم ٹرمپ کی شکست کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے امریکہ افواج کے انخلا پر نظر ثانی کا عندیہ دیا ہے جس پر طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اگر معاہدے کی پاسداری نا کی گئی تو امریکی افواج پر حملے ہوں گے۔

ان متوقع حملوں کو روکنے کے لیے بائیڈن انتظامیہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں ہے یقینی طور پر امریکہ کی خواہش ہوگی کہ پاکستان افغان طالبان کو امریکی افواج پر حملوں سے باز رکھنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ ان حالات میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے اور شاید اسی لیے مودی اور عمران خان کے مابین خط و کتابت کا سلسلہ شروع کرایا گیا ہے کہ جب تک افغانستان میں امریکی افواج موجود ہیں پاکستان مطمئن رہے اس کی مشرقی سرحد پر کوئی جارحیت نہیں ہوگی۔ تاہم اگر یکم مئی سے امریکی افواج کا انخلا شروع نا ہوا تو طالبان کے ممکنہ حملوں سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے

ان حالات میں پاکستان میں سیاسی استحکام امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے بہت ضروری ہو گیا ہے اور سیاسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ بات شاید اپوزیشن کو بھی یا تو سمجھ آ گئی ہے یا پھر سمجھا دی گئی ہے کہ ملک کسی قسم کی سیاسی تبدیلی یا سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اسی لیے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کو مزید وقت دینے پر راضی ہوجائیں اور آہستہ آہستہ اپنی احتجاجی تحریک کی شدت میں کمی لے آئیں جو کہ پہلے ہی شدت میں کمی آنا شروع ہو چکی ہے۔ مگر حکومت اپنی بقیہ مدت میں معاشی عدم استحکام، قرضوں کی ادائیگیوں کے بوجھ، ناقص طرز حکمرانی، مہنگائی میں ہوشربا اضافے اور متحرک اپوزیشن کے سبب شدید دباو کا شکار رہے گی اور اس کے ڈلیور کرنے کے چانسز مزید کم ہوسکتے ہیں۔

اگر افغانستان میں امن وامان کے حالات بگڑ گئے تو ڈو مور کے مطالبے کے سبب حکومت پر دباو مزید بڑھ جائے گا۔ اگر افغانستان پرامن نا رہا تو خطے میں تشدد کی ایک نئی لہر شروع ہو سکتی ہے۔ اور اگر امریکی افواج نکل جاتی ہیں تو بھی افغان طالبان کے کابل سے مذاکرات کی کامیابی کی امید کم ہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ کابل کو فتح کرنے کے لیے ایک نئی خونریز لڑائی شروع ہو جائے اگر ایسا ہوا تو امریکی افواج کو افغانستان میں ایک طویل مدت تک رہنے کا جواز مل جائے گا جو کہ شاید چین کو منظور نا ہو۔

Facebook Comments HS