EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

اسٹیٹ بنک ترمیمی آرڈیننس اور حکومت کی لاچارگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے پاکستان کی دعویدار وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف سے پچاس کروڑ ڈالر کی قرضے کی قسط کی وصولی کے بعد آئی ایم ایف ہی کی شرائط کے تحت اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو زیادہ خودمختاری دینے کے حوالے سے 9 مارچ کو ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جسے اسٹیٹ بنک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ دو ہزار اکیس کا نام دیا گیا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بنک حکومت کو کوئی قرض جاری نہیں کرے گا۔ قیمتوں کو مستحکم کرنا اور معاشی استحکام بنیادی مقصد ہوگا۔ اسٹیٹ بنک حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرے گا۔ گورنر اسٹیٹ بنک کا تقرر صدر مملکت حکومت کی سفارش پر کریں گے اور صدر ہی عدالتی فیصلے تحت گورنر اسٹیٹ بنک کو عہدے سے ہٹا سکیں گے۔ اس ترمیم کے ذریعے گورنر اسٹیٹ بنک کی مدت ملازمت تین سے سال بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے اور اس میں بھی مزید پانچ سال کی توسیع کی گنجائش رکھ دی گئی ہے۔ اس وقت گورنر اسٹیٹ بنک کے عہدے پر جو شخصیت براجمان ہیں ان کے بارے میں کس کو نہیں پتا کہ آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ مصر کی معیشت کو تباہ حال کرنے میں موصوف کا بنیادی کردار ہے، لیکن ہمارا ہینڈ سم کپتان ڈٹا ہوا ہے کہ این آر او نہیں دوں گا۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ نواز کے احسن اقبال نے سوال اٹھایا کہ نیا ٹیکس لگانے یا ٹیکس میں رعایت دینے کو مالیاتی بل کہا جاتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 73 کے مطابق مالیاتی بل صرف قومی اسمبلی میں لایا جاسکتا ہے۔ حکومت نے سات سو ارب کے ٹیکس اقدامات آرڈیننس کے ذریعے لیے گئے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ٹیکس ترمیمی آرڈیننس اور اسٹیٹ بنک ترمیمی آرڈیننس واپس لیے جائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی جانب سے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے اس کے ثمرات بتائے جاتے لیکن اقتدار کے پانی کی مچھلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے نو نامزد وزیر خزانہ حماد اظہر نے اس حوالے سے جو جواب دیے ان کا لب لباب یہی تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نو بھی تو اسی طرح کے کام ماضی میں کرتی رہی ہیں۔ تو جناب! آپ کی شان نزول کی بنیادی وجہ ہی قوم کو ”تبدیلی“ بتائی گئی تھی، اس کا کیا ہوا؟

اسی طرح اسٹیٹ بنک ترمیمی آرڈیننس پر حکومت نے اگرچہ موقف یہ اختیار کیا ہے کہ اس سے سیاسی اثر رسوخ کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن جب گورنر کا تقرر ہی حکومتی سفارش پر ہوگا تو سیاسی اثر رسوخ ختم کیسے ہوا؟ دوسرا یہ کہ گورنر کو ہٹانے کے لیے عدالتی فیصلہ درکار ہوگا جو ایک طویل مدتی عمل ہے ایسی صورت میں ملک کی معیشت کو جو نقصان ہوگا اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی یا عوام ہی خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس ادا کر کے ازالہ کریں گے۔

سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت اسٹیٹ بنک حکومت کو اب قرض ادا نہیں کرے گا۔ ایسی صورت میں اپنے اخراجات کے لیے حکومت یا تو کمرشل بنکوں سے قرض زیادہ شرح سود پر قرض لے گی جس میں 80 فیصد سے زائد بینکنگ سیکٹر کی ملکیت غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے یا پھر عوام پر نئے ٹیکس عائد کرے گی۔ نقصان دونوں صورتوں میں عوام کا ہی ہے کہ وہ مہنگے قرض اتارنے کے لیے بھی ٹیکس دیں گے اور حکومت کے شاہانہ اخراجات کے لیے بھی ٹیکس دیں گے۔ ماہرین معیشت یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس آرڈیننس سے حکومت اس بات کی پابند ہوگی کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کو پہلی ترجیح دیا اور دیگر اخراجات کو ثانوی درجہ دے۔

تصور یہ کیا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی سے حال ہی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد تحریک انصاف کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور وہ ماضی میں کی گئی غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرے گی لیکن بجائے اس کے کہ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے توازن پیدا کرتی اس نے نئے ٹیکس اور ملکی اور غیر ملکی قرضوں کو ہی اپنی معیشت کی بنیاد بنایا تھا اور بنا رکھا ہے۔ تعیشات کی درآمد کا حال یہ ہے کہ اشرافیہ کے علاقوں میں دکانیں کتوں، بلیوں اور دیگر غیر ملکی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں۔ تبدیلی کے دعویداروں کے شعور یہ ہے کہ بجائے اس کہ حکومت ان اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کرتی، حکومت ملتے ہی وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں فروخت کردی گئیں

تبدیلی کا حال یہ ہے کہ ابھی تک کوئی ایک وزیر خزانہ ایسا نہیں لایا گیا جو عوام کا درد رکھتا ہو۔ وزیر خزانہ کے عہدے پر یا تو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے آلہ کار ہیں یا پھر وہ جو نوکریوں سے اٹھ کر سیاست میں آ گئے اور عوام کے درد کا مداوا کرنے کی بجائے عوام کو یہ بتاتے رہے کہ میں 75 لاکھ سے 75 ہزار پر کیسے آیا۔ بجلی کی قیمت ہر ماہ بڑھا دی جاتی ہے اور تاویل یہ پیش کی جاتی ہے یہ معاہدے پچھلی حکومتوں کے تھے جن کی پاسداری موجودہ حکومت کو ہر حال میں کرنی ہے۔ لیکن میٹرو بس سروس کے کرایوں کی سبسڈی بھی تو پچھلی حکومت کا معاہدہ تھا اسے یک جنبش قلم کیا صرف اس لیے منسوخ کر دیا گیا کہ اس سے فیضیاب ہونے والے عوام تھے؟

اس تمام صورتحال میں حکومت کا عوام کی زبوں حالی پر پریشان ہونے کو مگر مچھ کے آنسو کہا جائے یا پھر استاد دامنؔ کی ایوب دور میں ایک مشہور نظم کے اس شعر سے تشبیہ دی جائے کہ ”وچو وچ کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے