حسن گوٹھ لیاری کا سکول کیوں بند ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز میری تحریر بعنوان ”محکمہ تعلیم پر سیاسی اجارہ داری، آخر کب تک؟“ شائع ہوا تو حسن گوٹھ لیاری کے مکین شفیع محمد کا پیغام آیا کہ ان کا سکول ڈیڑھ سال سے بند ہے حکومت وقت اس پر اقدامات نہیں اٹھا رہی۔ اس پر کچھ لکھ لیں۔ ان سے ملاقات چند ماہ قبل اپنے محسن عزیز احمد جمالی کی محفل میں ہوئی تھی وہاں بھی ان کی گفتگو کا مرکزی خیال یہی سکول تھا۔ علاقے کے بچوں کی تعلیمی صورتحال کو دیکھ کر کافی فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔

کوسٹل ہائی وے روٹ پر واقع حسن گوٹھ لیاری لسبیلہ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ مذکورہ گوٹھ اور اس سے ملحقہ گاؤں سے لوگوں کی ڈیمانڈ مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے گاؤں کے لیے سکول بلڈنگ کی منظوری دے دی۔ جس کی تعمیر کا کام 2010 میں مکمل ہوا۔ مگر ٹیچر کی عدم تعیناتی کے سبب درس و تدریس کا خواب ادھورا ہی رہا۔ 2015 کو جب این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ بھرتیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سکول کا قرعہ فال میں نام نکل آیا۔ عبدالصمد پہلے ٹیچر تھے جو بطور جے وی ٹیچر تعینات ہوئے اور چار سال تک سکول میں فرائض انجام دیتا رہے۔

سکول میں 30 کے لگ بھگ بچے زیر تعلیم تھے۔ جنوری 2020 کو سکول ٹیچر عبدالصمد کا تبادلہ ان کے گاؤں کر دیا گیا۔ سکول ایک بار پھر سے غیر فعال ہو گیا تاہم بلوچستان ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی ڈیٹابیس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکول فعال ہے۔ سکول کی بندش سے زیر تعلیم بچے حصول علم سے محروم ہو گئے۔ شفیع محمد کا کہنا ہے کہ سکول کی بندش کے بعد صرف چار یا پانچ بچے ایسے تھے جن کے والدین نے ان کی تعلیم کا خرچہ برداشت کیا اور اپنے بچوں کو وندر اور گڈانی بھیج دیا باقی بچے حصول علم سے محروم ہیں۔

اہل علاقہ نے سکول کی موجودہ صورتحال سے علاقہ ایم پی اے کو آگاہ کیا۔ گاؤں سے محکمہ تعلیم لسبیلہ کا دفتر 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے کئی بار یہ فاصلہ طے کر کے اہل علاقہ نے نئے ٹیچر کی تعیناتی کے لیے ضلعی تعلیمی افسر کو درخواست دی۔ مگر انہیں یہ کہہ کر طفل تسلی دی گئی کہ سی ٹی ایس پی کے تحت ٹیچرز کی تعیناتی کو یقینی بنائیں گے گوکہ کہ سی ٹی ایس پی کا رزلٹ آ گیا۔ ٹیچرز تعیناتیاں ہوئیں مگر لسٹ سے سکول کا نام رہ گیا۔

شفیع محمد اپنے بچپن کا دور یاد کر کے کہتے ہیں ”اس وقت بھی گاؤں سکول سے محروم تھا۔ گاؤں سے دور ایک پرائمری سکول ہوا کرتا تھا سکول تک رسائی کے لیے پیدل یا سائیکل کا سہارا لیا کرتا تھا۔ مگر وہ سکول بھی اب بند ہو گیا ہے“ ۔

مذکورہ سکول میں عبدالصمد کی تعیناتی این ٹی ایس امتحانات کے ذریعے نومبر 2015 میں ہوئی تھی۔ ایسی کون سی مجبوری تھی وہ سکول چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔ ”مجھے پروفیشنل ڈگری کی ضرورت تھی جس کی ہر استاد کو ضرورت ہوتی ہے کہ آگے جانے کے لیے یہ ڈگری کام آتی ہے۔ 2017 میں جب میں لسبیلہ یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن شعبہ میں داخلہ لے رہا تھا تو مجھے یہ کہہ کر داخلہ نہیں دیا گیا کہ میں سکول میں بطور مدرس پڑھا رہا ہوں۔ میں نے سکول کو مزید دو سال دے دیے، پروفیشنل تعلیم کے لیے میں نے اپنا تبادلہ شہر کروا دیا“ ۔ اس وقت وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے سکول کو جو کوڈ الاٹ ہوا ہے وہ ہے 15803۔ بلوچستان ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی ڈیٹابیس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سکول کا نام لاڑاندری ہے۔ آخر ماجرا کیا ہے اس پر عبدالصمد کا کہنا ہے کہ مذکورہ سکول لیاری کے علاقے لاڑاندری کو الاٹ ہوا تھا تاہم بعد میں یہ کہہ کر سکول کو گاؤں حسن گوٹھ منتقل کیا گیا کہ لاڑاندری میں گھرانے کم تھے جب کہ حسن گوٹھ اور ملحقہ علاقوں میں بچوں کی تعداد اور تعلیمی ڈیمانڈ کو دیکھ کر سکول اسی گاؤں شفٹ کیا گیا تھا۔

32 گھرانوں پر مشتمل حسن گوٹھ ناکٹھی اور دیگر ملحقہ گاؤں کے بچے جنوری 2020 سے حصول علم سے محروم ہیں۔ یہاں کی آبادی غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جن کا ذریعہ معاش ماہی گیری اورکھیتی باڑی ہے۔ یہ لوگ اپنے معاشی جنجالوں میں اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے سر اٹھانے کی نوبت نہیں آتی۔ شفیع محمد کے بقول گاؤں سے پانچ دیگر نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے میٹرک پاس کیا ہے۔ اس وقت وہ بھی اپنے والدین کو ان کے کاموں میں مدد کر رہے ہیں۔

گاؤں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا حلقہ کہلاتا ہے۔ اسلم بھوتانی نے قومی اسمبلی کی پوزیشن کے لیے اسی گاؤں سے ووٹ لیے تھے۔ قاسم رونجھو کا تعلق لسبیلہ سے ہے حال ہی میں سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی معدنی وسائل میں جام بھوتانی کا حصہ ہے۔ خطیر سرمایہ رکھتے ہیں اگر چاہیں تو بلوچستان میں ایسے سیکڑوں سکول آباد ہو سکتے ہیں جہاں کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ایک ٹیچر کی ماہوار تنخواہ آخر کتنی ہوگی یہی 20 سے 25 ہزار۔ اگر حکومت وقت کے پاس اساتذہ کی قلت ہے تو یہ رقم اتنی بڑی نہیں ہے کہ ماہانہ طور پریہ رقم صاحبان اپنی جیب سے ادا نہ کریں۔ اگر یہی رقم صاحبان کے ایک وقت کی ناشتے کی میز پر خرچ ہو سکتی ہے تو 30 بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے کیوں نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply