وزیراعظم کی ٹوپیاں اور ٹوپی ڈراما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک گواہ کو جج کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔ وکیل نے مدعی سے کچھ سوالات کیے اور پھر گواہ سے پوچھا کہ کیا یہ باتیں ٹھیک ہیں؟ گواہ نے ترنت جواب دیا کہ مدعی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ پھر دوسرے وکیل نے فریق ثانی سے کچھ سوالات پوچھ کر گواہ سے پوچھا کہ اب بتائیں یہ باتیں درست ہیں یا غلط؟ گواہ نے فوراً جواب دیا کہ یہ صاحب بھی حرف بہ حرف سچ کہہ رہے ہیں۔ اس پر جج صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور انہوں نے گواہ سے پوچھا کہ ایک ہی کیس میں ایک ہی وقت میں مدعی اور مدعا علیہ دونوں کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں؟ اس پر گواہ صاحب نے جج صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے نہایت اطمینان سے کہا کہ جج صاحب غلط آپ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔

یہ پرانا لطیفہ ہمیں فواد چودھری کی یہ وضاحت سن کر یاد آیا جس میں انہوں نے انڈیا سے چینی اور کپاس منگوانے والے وزیراعظم کے اپنے فیصلے سے یو ٹرن لینے کی وجہ یہ بیان کی کہ ہمارے وزیراعظم مختلف اوقات میں مختلف ٹوپیاں پہنتے ہیں۔ جب انہوں نے اقتصادی کمیٹی میں انڈیا کے ساتھ تجارتی روابط بحال کرنے کی سمری پر دستخط کیے تو انہوں نے وزیر تجارت کی ٹوپی پہن رکھی تھی اور اگلے دن جب کابینہ اجلاس میں اس سمری کو سختی سے مسترد کر دیا اور دشمن ملک سے تجارتی روابط کی بحالی کے فیصلے کو 5 اگست 2019 کے بھارتی فیصلے کی تنسیخ سے مشروط قرار دیا تو اس وقت انہوں نے وزیراعظم کی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اتنی سی بات پر ساری ملک دشمن اپوزیشن نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔

اس سے ہمیں گزشتہ تین چار سال کے دوران وزیراعظم صاحب کے سیکڑوں ایسے فیصلے یاد آئے جو انہوں نے یہی مختلف ٹوپیاں پہن کر کیے تھے اور کچھ ہی عرصے بعد ان فیصلوں پر یو ٹرن لینا پڑا۔ مثلاً بھارت میں عام الیکشن سے قبل جب انہوں نے بیانات دیے تھے کہ مودی جیت گئے تو مسئلہ کشمیر بہت جلد حل ہو جائے گا مگر وزیراعظم بننے کے بعد جب مودی نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنا دیا تو ہمارے وزیراعظم نے حب الوطنی کی ٹوپی پہن لی جس کی وجہ سے انہیں مودی ہٹلر، نسل کش، دغا باز اور فاشسٹ نظر آنے لگا۔

اپوزیشن میں ہوتے تھے تو ملک میں ہر خرابی اور فساد کی جڑ حکومت وقت ہوا کرتی تھی اور خود حکومت ملی تو نئی ٹوپی کے زیر اثر مافیاز ہر خرابی کے ذمہ دار قرار پائے۔ ایک ٹوپی پہن کر انہیں جرمنی اور جاپان کی سرحدیں باہم یکجا، ٹیگور کے اقوال خلیل جبران کے، معمولی شاعر کی نظم علامہ اقبال کی اور ایک ارب درخت پانچ ارب نظر آنے لگتے ہیں۔ ایک ٹوپی پہنتے ہیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف انہیں سسلین مافیا کے ڈان، کرپٹ، چور، ڈاکو، بہانہ باز، مکار، فریبی اور ڈراماباز دکھائی دیتے ہیں جو سزا سے بچنے کے لیے لندن جانے کے ناٹک کر رہے ہیں مگر اگلے ہی دن انہیں ایک دوسری ٹوپی پہنا دی جاتی ہے جسے پہن کر نواز شریف انہیں لاغر، قریب الموت، مظلوم اور مرض الموت میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں جس کے زیر اثر وہ فوراً انہیں علاج کے لیے لندن بھجوا دیتے ہیں۔ نواز شریف کے لندن پہنچتے ہی کچھ غیر مرئی طاقتیں ان کی ٹوپی بدل دیتی ہیں جسے پہن کر انہیں نواز شریف دوبارہ مکر و فریب، جھوٹ و دغابازی اور چوری چکاری کا پیکر نظر آنے لگتے ہیں۔

جناب وزیراعظم کو پہنائی گئی ٹوپیوں کی تفصیل مرتب کی جائے تو کئی ضخیم کتابیں تیار ہو جائیں۔ ہم نے سلیمانی ٹوپی، ترکی ٹوپی، جناح کیپ، گاندھی کی ٹوپی، بندر کی ٹوپی، لال ٹوپی اور ٹوپی رکھ وغیرہ کے بارے میں تو سن رکھا تھا مگر ہائبرڈ عمرانی ٹوپی کے متعلق پہلی بار سنا۔ اس حکومت نے طرح طرح کی ٹوپیاں ہی نہیں پہن رکھی ہیں بلکہ آنکھوں پر ہرے چشمے پہے ہوئے ہے جس سے سب کچھ ہرا ہرا نظر آتا ہے اور جب بھی آنکھیں کھلنے لگیں فوراً آنکھوں پر پٹی باندھ لیتی ہے۔

اب جو بے تدبیری اور بد انتظامی یہ حکومت کورونا کی تیسری شدید لہر کے دوران دکھا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے بھی کوئی ذی ہوش اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ اس حکومت کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ ہاتھ پاوٴں تو پہلے ہی بندھے ہوئے تھے۔ قوم مہنگائی، گرانی، بے روزگاری، معاشی بد حالی اور کورونا وبا میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے اور دوسری طرف ہمارے وزیراعظم روزانہ طرح طرح کی ٹوپیاں پہن کر ٹوپی ڈراما کر رہے ہیں۔ یہ عمرانی ٹوپی بھی گویا بندر کی ٹوپی ہے جسے ایک جگہ قرار نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply