قطری کنکشن : مریم نواز کی متوقع روانگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز کے پاکستان سے باہر جانے یا نہ جانے بارے شور شرابا عروج پر ہے طویل خاموشی کے بعد مریم نے ازخود ملک سے باہر جانے اور ”چھوٹی“ سی سرجری کرانے کی تردید کردی ہے دوسری طرف جانب نواز شریف نے زبان بندی کر کے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے جب کہ روزوں کا مقدس موسم اگلے ہفتے آئے گا اب وہ خاموشی سے قطر اور ریاض کے اثر و رسوخ کے ذریعے مریم نواز کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لئے ان کے منہ بولے بھائی سیف الرحمن خان پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں۔ مریم بی بی خود بھی ”چھوٹی“ سی سرجری کرانے کے بہانے باہر جانے کی بنیاد استوار کر رہی ہیں۔

جناب عمران خان نے انکشاف کیا کہ نواز شریف کی مصنوعی بیماری کے دنوں میں شیریں مزاری ترس کھا کر رونے لگی تھیں جب کہ انہیں عام طور پر آنسو کم ہی آتے ہیں۔

مدتوں پہلے فکاہی دانشور مشاہد حسین سید نے اس کالم نگار کو بتایا تھا کہ پہلی جلاوطنی کے لئے پاسپورٹ چودھری شجاعت نے تیار کرائے تھے لیکن باورچیوں اور خانساموں کی فہرستیں میاں نواز شریف نے خود اٹک قلعے میں تیار کی تھیں جس میں وہ میرا نام ڈالنا بھول گئے تھے کہ جدہ میں ان کی پہلی ترجیح باورچی اور خانسامے تھے عقل و دانش اور دل بہلانے والے مشیر نہیں تھے۔

اگرچہ مریم بی بی چھوٹی سی سرجری کے لئے باہر جانے کی تردید کر رہی ہیں لیکن یہ سب کچھ ڈسکہ کی ضمنی انتخاب کے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لئے کیا جا رہا ہے کہ کامل فتح ان کی پہلی ترجیح ہے غیرفطری پی ڈی ایم اتحاد کی جاری ناکامیوں کا سدباب ڈسکہ کی فتح میں ڈھونڈا جا رہا ہے جس میں کامیابی کا انہیں یقین ہے۔

اپنے تازہ ترین ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ہے۔

”چند دن بیمار کیا ہوئی، کانپتی لرزتی حکومت کو امید ہو گئی کہ شاید مریم علاج کروانے باہر جانے لگی ہے۔ آپ کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے لئے بتا دوں کہ مریم کا آپ کو گھر بھیجنے تک کہیں جانے کا ارادہ نہیں۔ مریم ادھر بیٹھ کر آپ کا علاج جاری رکھے گی انشاءاللہ“ ۔

سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز کو باہر جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

اس کالم نگار کو گماں باطل ہے کہ جب وہ باہر جانا چاہیں گی کوئی قانون، اصول مریم نواز کی راہ نہیں روک سکے گا کہ سعودی عرب اور قطری حکمران خاندان مریم نواز کے باہر جانے کی راہیں کشادہ کر رہے ہیں۔

جبکہ ان کے والد گرامی جناب نواز شریف نے رمضان کی آمد سے پہلے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے اور وہ سیاسی حالات پر شعلہ بیانی کرتے کرتے اچانک چپ سادھے بیٹھ گئے ہیں اپنی پارٹی رہنماؤں سے جدید مواصلاتی ذرائع سے گفتگو اور گپ شپ کرتے رہتے ہیں قبل ازیں اپنی لاڈلی مریم نواز کی میدان سیاست میں پے درپے ناکامیوں پر مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے نواز شریف نے اپنا سارا وزن حمزہ اور شہباز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا کہ نون لیگ کی سیاست کو دونوں باپ بیٹا آگے بڑھائیں گے اور مریم بی بی طویل سیاسی رخصت پر چلی جائیں۔

خود مریم بی بی کی شدید خواہش یہ ہے کہ کس طرح وہ بھی اپنی جان چھڑا کر لندن پہنچ جائیں اور یہاں ہلکان ہونے کی بجائے لندن کی مرغزاروں میں آسائش کی زندگی گزاریں اور ”اچھے وقت“ کا انتظار کریں جس کے لیے رانا ثنا اور احسن اقبال تک تمام رہنماؤں نے حق علاج اور سفر بارے راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔

شریف خاندان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی اچانک خاموشی سے پاکستان آمد نے اس معاملے کو نیا رخ دے دیا ہے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عدنان معالج سے زیادہ تشخیص پر اثر انداز ہونے کی جادوئی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ بالکل تندرست نواز شریف کو حالت نزاع میں ثابت کرچکے ہیں جس سے شیریں مزاری جناب نواز شریف کی نازک حالت بیان کرتے ہوئے زار و قطار روتی رہیں جس کا تذکرہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا۔

مریم بی بی کی روانگی کے لیے تفصیلات دوحہ قطر میں طے پا رہی ہیں قطری شہزادہ مریم بی بی کی جان چھڑانے کے لیے ایک بار پھر بروئے کار ہے وسیع تر قومی مفاد میں وزیراعظم عمران خان کو آمادہ کیا جا رہا ہے کیونکہ ریاستی اداروں کے خلاف جناب نواز شریف کی تلخ کلامی نے نون لیگ اور شریف خاندان کے لیے تمام نرم گوشے ختم کر دیتے ہیں جس کا بخوبی احساس تمام فریقین کو ہو چکا ہے۔

قطر دوحہ میں شریف خاندان کی نمائندگی احتساب الرحمن خان کرتے ہیں۔ قبل ازیں منی ٹریل اور قطری شہزادے کے خط کی کہانی اور کیلبری فونٹ کی افسانہ بھی اس شہر سے تعلق رکھتا تھا اور جناب نواز شریف کو پاکستان لے جانے کے لیے بھی شاہی قطری ائر ایمبولینس آئی تھی اب دوبارہ مریم بی بی کی ”رہائی“ کے لیے قطری کنکشن استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ شیخ رشید ہنگامی دورے پر دوحہ پہنچے تھے اور پھر افراتفری میں واپس اسلام آباد چلے گئے تھے ان کے ہنگامی دورے اور پیغام ربانی کا تعلق بھی مریم بی بی کی متوقع رہائی سے جوڑا جا رہا ہے۔

حرف آخر یہ کہ دوسرا بحران بھارت سے تجارت کے رنگین غباروں سے کھیلنے کا تھا جس کی اقتصادی کمیٹٰی نے متفقہ طور پر اجازت دے دی جس کے بعد ملک میں بے چینی کی شدید لہر دوڑ گئی۔ ماضی میں بھی ایسی متعدد ناکام کوششیں کی گئی ہیں جب امن خوشحالی اور علاقائی استحکام جیسے خوش رنگ نعروں کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کر کے بھارت سے تجارتی راہداریاں کھولنے کی تجاویز پیش کی گئیں تھیں۔

اس بار کابینہ میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برملا اعلان کیا کہ انہیں بھارت سے تجارت کی تجویز پر مکمل لاعلم رکھا گیا اسی طرح شیخ رشید نے ڈٹ کر ناروا تجویز کی مخالفت کی جبکہ اس لغو تجویز کے حق میں ملک کے تمام ممتاز تاجر رہنما اور چیمبر میدان میں تھے خاص طور پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس نے تو اس فیصلے کی واپسی پر ”مایوسی“ کا اظہار بھی کیا۔ بھارت نے آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور مسئلہ کشمیر سے پاکستان عوام کو بے زار کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کا ریوالونگ فنڈ مختص کر رکھا ہے جس کے اثرات اب واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

کچھ جانے پہچانے مکروہ کردار کھلے بندوں جذباتیت کو الگ کر کے ’ٹھنڈے دل‘ سے فیصلے کرنے کی خوش نما تجاویز پیش کر رہے ہیں جن کا بنیادی مقصد مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت سے تجارتی راہداریاں کھولنے کی حمایت کرنا ہے اس لئے برملا لکھا جا رہا ہے کہ ”جو ہم بغیر سوچے سمجھے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت بند کر دیتے ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے تجارت شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ سیاست اور تجارت کو الگ الگ رکھنا چاہیے“۔ ملاحظہ فرمائیں کس ہوشیاری سے مودی ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر اور تجارت کے حوالے سے جنت مکانی خلد آشیانی مجید نظامیؒ رہنما اصول مرتب کر گئے تھے جن سے انحراف تباہی اور بربادی کے دروازے کھول دے گا اور پاکستان کی شاہ رگ کشمیر کٹ جائے گی۔ مودی موذی تو پہلے ہی لداخ کے اوپر سے پاکستان آنے والے پانی کا رخ راجھستان اور مشرقی پنجاب کی طرف موڑنے کا اعلان کر چکا ہے۔ 1985 میں نئے جمہوری دور کے آغاز ‎سے پہلے محرومیاں ضرور تھیں مگر مایوسیاں نہیں تھیں اب تو صرف مایوسیاں ہی مایوسیاں رہ گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلم خان

محمد اسلم خاں گذشتہ تین دہائیوں سے عملی صحافت کے مختلف شعبوں سے منسلک رہے ہیں اب مدتوں سے کالم نگار ی کر رہے ہیں تحقیقاتی ربورٹنگ اور نیوز روم میں جناب عباس اطہر (شاہ جی) سے تلمیذ کیا

aslam-khan has 44 posts and counting.See all posts by aslam-khan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *