جنیوا، شیمونکس اور مونٹ بلانک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم برسلز ایئرپورٹ پر چیک ان کروا چکے تھے اور بریفنگ ہال میں انتظار کی ساعتوں کو گپ شپ سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں تھے کہ زیورخ جانے والی پرواز کا اعلان ہوا۔ مسافر متعلقہ گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔ ہم بھی اٹھے اور اس آگے بڑھتی ہوئی لائن کا حصہ بن گئے۔

سوئزرلینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں ہر شخص کے پاس کچھ معلومات ضرور ہوتی ہیں جس کی بناء پر اس کے ذہن میں ایک خاکہ بنا ہوتا ہے۔ ہمارے ذہنی خاکہ کے مطابق سوئزرلینڈ  قدرتی مناظر میں گھرا ہوا ایک انتہائی صاف ستھرا خطۂ زمین تھا۔ بورڈنگ میں زیادہ وقت نہیں لگا کہ ہم اپنی نشستوں پر تھے۔ زیورخ تک پرواز خوشگوار رہی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں ہم وہاں لینڈ کر چکے تھے۔

سنا ہے کہ زیورخ دریا اور دلکش جھیلوں کے نظاروں سے بھرپور ایک خوبصورت شہر ہے۔ اتفاق سے ہمیں شہر کی دلآویزی سے محظوظ ہونے کا موقعہ نہیں ملا۔ امیگریشن کے ضابطوں سے فارغ ہو کر دوسری طرف کچھ فاصلے پر برقی زینے نیچے اترتے نظر آئے جو ہمیں نیچے والے فلور پر لے آئے جہاں ایک وسیع مارکیٹ نظر آئی۔ زینے مزید نیچے اتر رہے تھے جو ہمیں اس سے بھی نیچے لے گئے۔ برقی زینوں سے اترے تو ہم نے خود کو ایک ریلوے سٹیشن پر پایا جہاں پر لوکل ٹرین کے علاوہ انٹرنیشنل ٹرین پر سوار ہونے کی سہولت بھی موجود تھی۔

ہماری منزل جنیوا تھی۔ گاڑیوں کی آمدورفت کی نشاندہی کرنے والی سکرین پر جنیوا جانے والی گاڑی کی آمد کا وقت 11:39 دکھایا جا رہا تھا۔ ہمیں سات آٹھ منٹ انتظار کرنا پڑا۔ ہم پلیٹ فارم پر کھڑے ابھی ایئرپورٹ کے نیچے ریلوے سٹیشن ہونے والی سہولت پر حیران ہو رہے تھے کہ گھڑی نے جونہی 11:39 کا وقت بتایا تو سامنے سے نظر آنے والی گاڑی کے بر وقت ہونے نے ہمیں ششدر کر دیا۔

جی ہاں یہی ہماری مطلوبہ گاڑی تھی۔ ہم گاڑی میں سوار ہوئے اور گاڑی کے اندر ہی اندر سے اپنی نشستوں تک پہنچ گئے۔ دونوں اطراف میں دو دو نشستیں مخالف سمت میں لگی تھیں اور درمیان میں ایک میز تھی۔ چند ہی منٹ میں نہایت ہمواری سے گاڑی چل دی۔ کچھ دیر میں زیر زمین ریلوے ٹریک تمام ہوا اور اب ہم اطراف کا نظارہ کر سکتے تھے۔

ریل گاڑی کا سفر کہیں کا بھی ہو دل کو بھاتا ہے اور اگر راستہ حسین وادیوں سے گزرتا ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ پونے تین سو کلومیٹر کے تمام تر سفر میں سبزے نے ایک سحر طاری کیے رکھا۔ کیا کھیت کھلیان، کیا پہاڑیاں، کیا وادیوں کے نشیب و فراز اور کیا بستیوں کے در دریچے سب سرسبز و شاداب۔ ریل کے سفر میں جس تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اسی قدر مناظر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر درخت، سبزہ، زمین کے نشیب و فراز، پہاڑیاں، چھوٹی بستیاں اور ندی نالے اپنی ترتیب بدلتے ہوئے نیا منظر یوں پیش کرتے ہیں جیسے کہ کلیڈو سکوپ کو گھمانے سے منظر تبدیل ہوتا ہے۔

بستیوں کے ترچھی چھتوں والے گھر منظر کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اکا دکا گھر تو کھلی وادی میں گالف ہٹ ہی لگتے ہیں۔ کچھ گھروں کی چھتوں کے رنگ پھیکے پڑ چکے تھے مگر پھر بھی وہ منظر میں ایسے رچ بس گئے تھے کہ کچھ عجب نہیں لگتا تھا۔ راستے میں آنے والے سٹیشنز سے ماقبل ٹریکس کا بچھاؤ وہاں کے ریلوے نظام کی وسعت کا غماز ہے۔ جنیوا کے قرب کے مناظر میں جھیل کے اضافے نے نظارہ مزید دلآویز کر دیا۔ تین گھنٹے میں ہم جنیوا پہنچ گئے۔

جنیوا سوئزرلینڈ کا مشہور ترین شہر ہے جہاں سب سے زیادہ انٹرنیشنل ایجنسیوں کے ہیڈ کوارٹرز ہیں۔ اقوام متحدہ کے زیادہ تر ذیلی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز بھی یہیں ہیں اور سب سے اہم ریڈ کراس کا ہیڈ کواٹر بھی یہیں ہے۔ ہم ریلوے سٹیشن سے ہوٹل پہنچے۔ کمرے میں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جھیل کی طرف نکل گئے۔ سوئزر لینڈ میں بے شمار جھیلیں ہیں مگر جنیوا کی جھیل یورپ کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ 580 مربع کلومیٹر پر محیط جھیل کو لیک جنیوا کہا جاتا ہے۔

ہلال کی شکل میں 73 کلو میٹر لمبی اور 14 کلو میٹر چوڑی جھیل نے جنیوا کی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ہوئے ہیں۔ سیاحوں کے لئے پرکشش جھیل کی انتہائی گہرائی ایک ہزار فٹ اور اوسط گہرائی پانچ سو فٹ ہے۔ اس جھیل کے اندر ہی سوئزرلینڈ اور فرانس کی سرحدی لائن گزرتی ہے اس طرح کہ ساٹھ فیصد جھیل کا ایریا سوئزرلینڈ کی حدود میں ہے اور چالیس فیصد فرانس میں۔ جنیوا میں جھیل کے اندر ایک فوارہ بنایا گیا ہے جس کی اونچائی چار سو ساٹھ فٹ ہے اور یہ اپنے وقت کا دنیا کا سب سے اونچا فوارہ شمار ہوتا تھا۔

جھیل کو دیکھ کر انتہائی خوشگوار احساس ہوتا ہے اور طبعیت شاد ہو جاتی ہے۔ دور دور تک نظر آنے والا سبز رنگ کا پانی اپنے اردگرد کے صاف ستھرے ماحول اور سبزے و پھولوں کے جلو میں ایک سحر طاری کیے ہوئے تھا۔ بہت دیر تک ہم اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے رہے ، کبھی ہوا تیز چلتی تو فوارے کے پانی کی لہر بھی لہرا کر گرتی۔

اس کے بعد ہم کچھ دیر کے لئے بازار چلے گئے۔ شاپنگ ایریاز تو ہر جگہ ہوتے ہیں مگر جنیوا کا بازار کچھ مختلف لگا۔ اگرچہ وہاں کافی لوگ موجود تھے ، اس کے باوجود خاموش اور پرسکون ماحول تھا۔ صفائی ستھرائی کے علاوہ ایک ٹھہراؤ تھا جیسے ایک پرسکون خواب میں خود سے چیزیں ایک رو میں چلتی ہیں۔ بس کچھ ایسا ہی احساس تھا۔ گھڑیوں کی دکانیں تعداد میں بہت تھیں۔ انواع و اقسام کی گھڑیاں زیادہ تر ڈیکوریشن پیس کے طور پر بنائی گئی گھڑیاں سیاحوں کی دلچسپی کا باعث تھیں۔ ہم نے بھی چند خوبصورت گھڑیاں خریدی تھیں۔

ہوٹل میں پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔ جھیل ہمارے ہوٹل کے قریب تھی۔ کھانے کے بعد ہم نے بیٹی کو پش چیئر میں بٹھایا اور چلتے چلتے جھیل کے کنارے واقع ایک پارک میں پہنچے۔ رات کے وقت روشنیوں میں جھیل کا نظارہ زیادہ دلکش لگا۔ موسم کا برتاؤ بھی دل لبھانے والا تھا۔ ہلکی ہلکی لطیف ہوا بدن چھو کر تازہ دم کر جاتی اور شگفتگی کا احساس دلاتی۔

ہم ہوٹل آئے اور سو گئے ۔ کچھ ہی دیر میں گرمی کا احساس ہوا اور آنکھ کھلی۔ جی چاہا پنکھا چلائیں ، وہاں پنکھا تھا ہی نہیں کیونکہ وہاں پر درجۂ حرارت کبھی اتنا اوپر گیا ہی نہیں کہ پنکھوں کا اہتمام ہوتا تاہم ان دنوں اخبارات میں بھی یورپ میں گرمی کی لہر کا چرچا تھا۔ ہم نے کھڑکی کھول دی اور کمرے کا ماحول بہتر ہوا۔

صبح ناشتہ سے جلدی فارغ ہو گئے تھے کیونکہ آج ہمارا مونٹ بلانک پر جانے کا پروگرام تھا جس کے لئے پیشگی ٹور بک کروایا جا چکا تھا۔ یورپ کے پہاڑی سلسلے ایلپز کے سب سے اونچے پہاڑ کا نام مونٹ بلانک ہے۔ پہاڑ پر جانے کے لئے پہلے ہمیں شیمونکس پہنچنا تھا۔ شیمونکس جنیوا سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ مونٹ بلانک کے دامن میں واقع فرانس کا ایک خوبصورت شہر ہے۔ مونٹ بلانک پر جانے والے تمام سیاح یہیں سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کی ابتدا کرتے ہیں۔

ہم ہوٹل لابی میں آئے ، جلد ہی کوچ بھی پہنچ گئی۔ ہمارے ساتھ اس ہوٹل میں مقیم چند اور سیاح بھی مونٹ بلانک پر جانے کے لئے ہمارے ہمسفر تھے ، جن میں زیادہ تر یورپین یا کچھ امریکی بھی تھے۔ کوچ تقریباً آٹھ بجے شیمونکس کے لئے روانہ ہوئی۔ جنیوا سے جانے والے مسافر سوئزرلینڈ سے عملاً اخراج کرتے ہیں اور واپسی پر دوبارہ سوئزرلینڈ میں داخل ہوتے ہیں اس لئے مونٹ بلانک کی وزٹ کرنے والے سیاحوں کے لئے پیشگی ڈبل انٹری ویزا لینا لازمی ہوتا ہے۔

ہم نے لندن میں سوس سفارت خانہ سے اس کا اہتمام کر لیا تھا۔ بیس پچیس منٹ بعد ہم سوئزرلینڈ اور فرانس کے بارڈر پر پہنچ گئے تھے۔ گاڑی ایک بارونق بازار میں رکی۔ گائیڈ نے ہمیں اپنے پاسپورٹ تیار رکھنے کا بتایا اور دونوں ممالک کی سرحد کی نشاندہی کچھ یوں کی کہ فلاں دکان دیکھیں جو کہ سوئزرلینڈ کی آخری دکان ہے اور اس کے ساتھ والی دکان فرانس کی حدود میں ہے۔ وہاں پر دونوں ممالک کے دو دو اہلکار کھڑے تھے۔ ہمیں بہت رشک ہوا کہ یہ کیسی سرحد ہے جہاں اسلحہ سے لیس فوج نہ کنسٹبلری، مورچے نہ واچ ٹاورز، باڑیں نہ ہی کوئی اور رکاوٹ، خوف و ہراس نہ سہمی سہمی فضاء، سمگلرز کی کارروایاں نہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ، سرحد نے تو ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ آخر یہ کیسی سرحد ہے؟

پاسپورٹ چیک کرنے کی مختصر سی کارروائی کے بعد کوچ آگے بڑھی۔ راستے کے مناظر خوبصورت تھے۔ آدھی مسافت کے بعد کے نظاروں میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا اضافہ ہوا۔ سرسبز پہاڑیاں خوبصورت دکھتی ہیں۔ جیسے جیسے منزل قریب آتی گئی دور سے بڑے پہاڑ بھی دکھائی دینے لگے جن کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ خوبصورت مناظر قدرت کی ودیعت ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہاں کے تمدنی حسن کی جھلک بھی نمایاں تھی۔

شیمونکس پہنچ کر ہمیں کچھ وقت دیا گیا۔ اس دوران ہم نے ایک ریستوران سے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا۔ مونٹ بلانک پر جانے کے لئے سب لوگ پر جوش تھے مگر ہم چھوٹے بچوں کے بارے میں متفکر بھی تھے کہ سطح زمین سے یک دم ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر جانے سے ہوا کے دباؤ اور درجہ حرارت کے تغیر کو وہ برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔ گرم جیکٹس وغیرہ ساتھ لے لی تھیں اور احتیاطاً چند دوائیں بھی رکھ لی تھیں۔ ہم پہاڑ کے دامن میں واقع کیبل کار سٹیشن کی طرف روانہ ہوئے۔

کیبل کار میں سوار ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہو گئے۔ چند منٹ کے انتظار کے بعد کیبل کار میں سوار ہو گئے۔ کیبل کار ایک کمرے کے مانند تھی جس کی دیواریں شیشے کی تھیں۔ ایک وقت میں بیس پچیس لوگ اس میں کھڑے ہو سکتے تھے۔ کیبل کار اوپر اٹھی اور ہمارا مونٹ بلانک کی چوٹی کی طرف سفر شروع ہوا۔ بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پہاڑیوں کے اوپر گزرتے ہوئے خوبصورت مناظر سے محظوظ ہوتے ہوئے ہم درمیانی سٹیشن تک پہنچے جہاں کیبل کار رکی اور ہم باہر نکل آئے۔

اس مقام کی بلندی ساڑھے سات ہزار فٹ ہے اور یہاں تک پہنچنے میں پچیس منٹ لگے۔ یہاں سے مزید اوپر جانے کے لئے ہم پھر قطار میں کھڑے ہو گئے۔ دوسرے مرحلے میں آگے جانے کے لئے چڑھائی زیادہ تھی اس لئے بڑی کیبل کار کی بجائے دو نشستوں والی لفٹ چیئرز تھیں۔ ان لفٹ چیئرز کا آج بھی عمودی سفر کے لئے عالمی ریکارڈ ہے۔

دس منٹ بعد ہم لفٹ چئیر میں بیٹھ گئے اور ہمارے سفر کا دلچسپ اور پر اشتیاق مرحلہ شروع ہوا۔ نیچے دیکھیں یا اطراف میں ہر طرف برف نظر آ رہی تھی۔ برف سے پہاڑ ڈھکے ہوئے تھے اور جا بجا نوکیلی چوٹیاں برف سے اوپر اٹھی ہوئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہم برف پوش پہاڑوں کے اوپر سے اڑتے جا رہے ہیں۔ یہ خوبصورت سفر پندرہ منٹ بعد اختتام کو پہنچا اور اب ہم مونٹ بلانک پر تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ سب کی طبعیت ٹھیک رہی۔ بچے بہت پرجوش تھے۔

اس جگہ سے ہر سمت میں مسحور کن مناظر نظر آتے تھے۔ ہر طرف برف ہی برف اور اونچی نیچی پہاڑوں کی چوٹیاں۔ کہیں کہیں گہری کھائیاں بھی تھیں۔ ایک جگہ ایک سرنگ نظر آئی۔ ہم اس میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ سرنگ کے اندر بھی چاروں طرف برف تھی۔ دراصل برف کے بہت بڑے تودے کے اندر ہی اندر یہ راستہ بنایا گیا تھا۔ سرنگ کا دوسرا سرا ایک کھائی میں کھلتا تھا جہاں سے کوہ پیما اپنے روایتی طریقوں سے یہاں تک پہنچ رہے تھے۔ یہ ایک خطرناک جگہ تھی۔ ہم آدھے گھنٹے سے کچھ زیادہ دیر تک مونٹ بلانک پر لطف اندوز ہوتے رہے۔

واپسی کے لئے ہم پہلے لفٹ چئیر اور پھر کیبل کار کے ذریعے شیمونکس تک نیچے آئے جہاں سے ہم کوچ پر سوار ہوئے اور جنیوا پہنچے۔ رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ سب تھکے ہوئے تھے اس لئے کھانے سے فارغ ہو کر جلدی سو گئے۔

اگلی صبح ناشتے کے بعد ہم بذریعہ ٹرین زیورخ کے لئے روانہ ہوئے۔ وہی خوبصورت سفر مگر اس دفعہ الٹی سمت سے۔ زیورخ ایئرپورٹ بہت خوبصورت اور متاثر کن تھا۔ پبلک کال آفس نظر آیا تو ہم نے سوچا گھر والوں سے بات کر لیں اور انہیں اپنی ممکنہ آمد کی اطلاع بھی دے دیں۔ آفس میں بیٹھی خاتون کو اسلام آباد کا نمبر دیا تو اس نے بوتھ نمبر بتایا کہ وہاں سے بات کر لیں۔ گھر والے ہماری اس غیر متوقع کال سے بہت خوش ہوئے کیونکہ گھر میں ہماری بات ڈیڑھ سال کے بعد ہوئی تھی اور اس کا سبب جاس میں اس سہولت کا مفقود ہونا تھا۔

کال کرنے کے بعد ہم نیچے والے فلور پر شاپنگ ایریا میں گئے۔ تقریباً پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ مجھے احساس ہوا کہ میرا ہینڈ بیگ میرے ہاتھ میں نہیں تھا۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ ہمارے پاسپورٹ، ٹکٹ، کرنسی ہر چیز اسی میں تھی۔ سب سے پہلا خیال آیا کہ شاید ٹیلیفون بوتھ میں بھول گیا ہوں۔ فوراً وہاں جا کر کال آفس والی خاتون سے رابطہ کیا۔ اس نے ایک بیگ دکھاتے ہوئے پوچھا کیا یہی آپ کا بیگ ہے۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور اس نے یہ کہتے ہوئے بیگ میری طرف بڑھا دیا کہ آپ کے بعد والے کسٹمر نے میرے پاس رکھوا دیا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ بیگ واپس ملا اور میرے اوسان بحال ہوئے۔

ہماری پرواز کا چیک ان شروع ہونے والا تھا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پر یورپین، ایشین یا امریکن پروازوں کے لئے چیک ان کاؤنٹرز مختلف تھے ، اس لئے ہم نے پوچھا کہ یورپین فلائٹس کا چیک ان کہاں ہو گا۔ معلوم ہوا کہ کسی بھی کاؤنٹر سے کسی بھی مقام کے لئے چیک ان کروا سکتے ہیں جبکہ کاؤنٹرز کی تعداد ایک سو سے متجاوز تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *