دیوداس : محبت کا مرثیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شرت چندر چیٹرجی کی ادبی خدمات بہت طویل ہیں۔ وہ بنگال کے نامور ادیبوں میں ایک تھے اور بنگالی زبان میں ہی لکھتے تھے۔ ان کے قصے اور کہانیوں کو جو مقبولیت ان کے قارئین نے دی ہے ، شاید وہ بینکم چیٹرجی اور رابندر ناتھ ٹیگور کے حصے میں بھی نہیں آئی۔

ان کے فلسفے اور زیادہ تر کہانیوں میں بینکم اور ٹیگور کا عکس صاف صاف دیکھنے کو ملتا ہے گو کہ وہ ٹیگور کی طرح معنی خیز اور کافی گہرائی میں جا کر خدا اور بندے کا فلسفہ تراشنے والے نہیں لیکن وہ سب سے پہلے ایسے ہندوستانی ناول نگار ضرور ہیں جنہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے اپنا پیشہ ہی لکھنا بنا لیا۔

ان کی اکثر تحریریں انہی کی قوم کا نوحہ بیان کرتی ہیں اور ان کی اکثر کہانیوں کے اختتام میں خوشی اور محبت کی موسیقی کا عنصر غالب ہے۔ دیوداس بھی ان کی ایک شاہکار تخلیق ہے۔ یہ انیس سو ایک میں لکھا گیا اور 1917 میں شائع ہوا۔ اس کا ترجمہ نریندر ناتھ سوز نے کیا ہے۔

گو کہ یہ ناول صدیوں اور ہزار صدیوں سے چلی آ رہی داستانوں میں ایک اضافہ ہی کہلانے کے لائق ہے مگر ابھی ٹھہریے۔ کیوں کہ شرت بابو کے اس ناول کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ اس پر ”دیوداس“ فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔ جس میں دیوداس کا کردار نبھانے والے اداکار شاہ رخ خان اور پاروتی کی جگہ ایشوریہ رائے اور چندر مکھی کی جگہ مادھوری ڈکشٹ ہیں۔ یہ ناول کئی اعتبار سے انیسویں اور بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں آہستہ آہستہ سانس لینے والی محبتوں کی کہانی بیان کرتا ہے۔

ناول کے تین مرکزی کردار ہیں۔ دیوداس، پاروتی اور چندر مکھی۔ ناول کے ہیرو دیوداس اور ہیروئن پاروتی، ان کی داخلی زندگی کا حصہ بننے والے ماں باپ اور معاشرتی زندگی کا حصہ بننے والے لوگوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ دیوداس نے پاروتی سے محبت کی تھی۔ پاروتی کا قصور یہ تھا کہ وہ دوسرے خاندان میں پیدا ہوئی۔ پاروتی کی شادی تو حویلی کے ساٹھ پینسٹھ سالہ امیر ترین ایک بوڑھے سے ہو گئی لیکن دیوداس اور اس کی زندگی کا کیا؟ کیا وہ محبت سے انجان تھا؟

اسکول میں رہ کر پاروتی کے سنگ دیوداس نے کیسے کیسے خواب دیکھے تھے۔ وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر پاتا ہے اور گاؤں چھوڑ کر شہر چلا آتا ہے۔ شہر میں اس کا سامنا چندر مکھی نامی ایک طوائف سے ہوتا ہے۔ چندر مکھی دیوداس کے لیے ہر مشکل مرحلے سے گزر جاتی ہے لیکن دیوداس کو صرف ایک ہی چہرہ بار بار دکھائی دیتا ہے اور اس کی زبان پر صرف ایک ہی نام ہوتا ہے۔

پارو کی محبت کا جنون دیوداس کے لیے نہایت صبر آزما ثابت ہوتا ہے مگر عشق اور خواب کے میخانے میں بھلا ایسا کون آیا ہے جو پی کر بہک نہ گیا ہو۔ دیوداس بھی شراب کے نشے میں بہک جاتا ہے اور آخر آخر یہ محبت دیوداس کی جان ہی لے لیتی ہے۔ لیکن کیا موت ایسی بھی آتی ہے کہ کوئی اپنے محبوب کی آنکھوں سے ڈھلنے والے گرم آنسو کا ایک قطرہ تک نہ دیکھ پائے؟ کیا زندگی کسی محبت کرنے والے دیوداس کو اس مقام پر بھی لا کھڑا کرتی ہے کہ مرنے کے بعد اس کی لاش کو کوئی پہچان بھی نہ پائے؟

دیوداس کی موت پر کہانی کا اختتام ہو جاتا ہے اور ناول نگار چند یہ سطریں لکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔

”یہ نہیں معلوم کہ اس کے بعد پاروتی کا کیا حال ہوا؟ وہ کیسے زندہ رہی؟ یہ جاننے کو دل بھی نہیں چاہتا۔ اگر دکھ ہوتا ہے تو صرف دیوداس کے لیے جیسے ہم دکھی ہیں ، ویسے ہی ناول پڑھنے والے بھی دکھی ہوں گے۔ پھر بھی اگر دیوداس کی طرح کسی بدقسمت سے آپ کی ملاقات ہو تو اس کے لیے بھگوان سے دعا کرنا کہ چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو لیکن اس کی موت دیوداس جیسی نہ ہو۔ موت آنے کا کسی کو دکھ نہیں، لیکن موت بھی طریقے کی ہونی چاہیے اور اگر اس وقت کسی کا پیار بھرا ہاتھ اس کے سر سے گھوم جائے اور ایک غمگین پیار بھرا چہرہ دیکھتے ہی دیکھتے روح پرواز کر جائے تو کتنا اچھا ہو کاش کہ مرتے وقت وہ کسی کی آنکھوں کا ایک قطرہ آنسو دیکھ سکے۔“

اس ناول کے اندر علامتوں اور استعاروں کی گونج تو زیادہ سنائی نہیں دیتی لیکن پھر بھی یہ ناول اپنی کہانی سے زیادہ محبت کا مرثیہ معلوم ہوتا ہے اور ناول کو پڑھ کر شدت سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ تو ایک درد بھرا گیت ہے جس کے سروں پر موت کی موسیقی غالب آ جاتی ہے۔ یہ تو دل کو مسحور کر دینے والا ایک سحر انگیز نغمہ ہے جہاں اس گیت اور سحر انگیز نغمے کی بھی ایک الگ کائنات بن جاتی ہے کہ وہ اپنی دنیا خود بناتی ہے اور اپنی دنیا خود بکھیرتی ہے۔

یہ ایسی ہی کائنات ہے جس کے آسمانوں پر مہربان خدا کا سایہ تک نہیں۔ جہاں آپ کی گھڑی میں چلتی سوئیاں بھی آپ کے لیے رک سی جاتی ہیں۔ جہاں رومانیت کے چاند ستارے اچانک کسی خاموش خلاء میں غائب ہو جاتے ہیں۔ جہاں سورج طلوع تو ہوتا ہے مگر اس کی مردہ دھوپ کا کوئی ٹکڑا آپ کے جگر میں آ کر چبھ جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply