پاکستانی جمہوریت کا مخمصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مانا کہ غیر جمہوری قوتیں پاکستانی جمہوریت کی تنزلی سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ درست کہ جمہوریت ہی مملکت خداداد کی ترقی کا واحد زینہ ہے۔ لیکن گھر کو گھر کے بھیدیوں سے بچانا عقل مند کی نشانی ہوتی ہے۔

73 سالوں سے جمہوریت گراوٹ کی شکار ہے۔ جمہوریت کی آبیاری صرف اس کے ارتقاء ہی میں پوشیدہ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی رہی ہے۔

سینیٹ کے الیکشن میں سیاسی جماعتوں کا غیر جمہوری قوتوں کی طرف دیکھنا اس جمہوری جمود کی نشاندہی کرتی ہے جس کا یہ ملک آزادی کے بعد سے سامنا کرتا آ رہا ہے۔ سیاسی پستی کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لئے جمہوریت کے سارے اصول ہوا ہو گئے۔ ایسے کون سے اصول اچانک رونما ہوئے کہ چیئرمین سینیٹ تک اکٹھے رہنے والی پارٹیوں کے راستے کچھ ہی ہفتوں میں قائد حزب اختلاف کے الیکشن کے بعد جدا ہو گئے؟

اس سے زیادہ اور بدقسمتی کیا ہو گی کہ جمہوریت میں ہی جمہوریت کی اپنی نرسری کا گلا گھونٹا گیا ہے۔ مقامی حکومتوں کو یا تو عضو معطل بنایا جاتا ہے اور یا ان کے انتخابات کو التوا میں رکھا جاتا ہے۔ جتنے بھی جمہوری ادوار رہے ہیں،ان میں مقامی حکومتوں کی جڑیں کاٹی گئی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے فقدان نے ملکی سطح پر جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ موروثیت کے خمیر نے سیاسی جماعتوں کے اندر غیر جمہوری رویوں کو پروان چڑھایا ہے۔ بدقسمتی سے بڑی بڑی سیاسی جماعتوں میں مڈل کلاس کو آگے آنے سے روکا جاتا ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ بہت سی سیاسی جماعتوں میں بہترین جمہوریت پسند موجود ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

لوٹے سیاست دان جمہوریت کے ماتھے پر داغ ہیں۔ حقیقی معنوں میں ملک میں جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان انہی بکے ہوئے لوٹوں نے پہنچایا ہے۔ اس سے زیادہ ستم کیا ہو سکتا ہے کہ جمہوریت کی دعویدار بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں، بار بار ان لوٹوں سے دھوکہ کھانے کے بعد انہیں عزت کے ساتھ پارٹی میں دوبارہ جگہ دیتی ہیں۔

بغیر شک اور تردد کے، جمہوریت ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ دیوار پر لکھی ہوئی حقیقت ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کی جمہوری معاملات میں مداخلت گھاٹے کا سودا ہے۔ لیکن جمہوری ارتقاء اور کامیابی لیے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply