سیم مانیکشا: جب انڈیا کے فوجی سربراہ نے روس میں پاکستانی سفیر کو گلے لگایا

ریحان فضل - بی بی سی ہندی، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے فیلڈ مارشل سیم مانیکشا پارسی تھے۔ پارسیوں کے لیے وہ ہمیشہ ‘آپرو سیم’ یعنی اپنے سیم تھے۔

گورکھا اور انڈین فوج کے جوان ہمیشہ انھیں پیار سے ‘سیم بہادر’ کہتے تھے۔ سکھ بھی انھیں اپنا سمجھتے تھے کیونکہ وہ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھیں تمل لوگوں نے بہت پسند کیا کیونکہ انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد نیلگریز کو اپنا گھر بنایا۔

4/12 ایف ایف آر دستہ کے لیے جہاں سے انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز کیا وہ ہمیشہ ‘جنگی لاٹ’ رہے۔ وہ نہ صرف انڈین فوج کے سپاہیوں میں سب کے محبوب جنرل تھے بلکہ ان کے لیے عام لوگوں کے دلوں میں جو محبت ہے وہ کم ہی لوگوں کے لیے ہوتی ہے۔ وہ ان چند لوگوں میں شامل تھے جو اپنی زندگی میں ہی ایک لیجنڈ بن گئے۔

گورکھا نے دفتر کے دروازے پر روکا

سیم مانیکشا چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ایسٹرن کمانڈ کی سربراہی کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک ذاتی کار ‘سنبیم ریپیئر’ تھی جسے اکثر ان کی اہلیہ سیلو چلاتی تھیں۔ ایک دن اتوار کے روز اچانک سیم اپنی گاڑی نکال کر آفس کے لیے نکل پڑے۔ انھوں نے شارٹس اور اس کے نیچے پشاوری چپل پہن رکھی تھی۔

فورٹ ولیم کے داخلی راستے پر ایک گورکھا سنتری نے انھیں روکا اور ان سے شناختی کارڈ طلب کیا۔

چونکہ سیم گھر پر اپنا شناختی کارڈ بھول آئے تھے اس لیے انھیں اپنے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سیم نے اس گورکھے کی زبان میں سنتری سے کہا: ’ملائی چینے چینا ما پکرو آرمی کمندر چھوں‘ (تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں تمہاری فوج کا کمانڈر ہوں) گورکھا نے اسی زبان میں جواب دیا ‘نہیں، میں آپ کو نہیں پہچانتا، آپ کے پاس نہ تو شناختی کارڈ ہے اور نہ ہی رینک بیج ہے۔ آپ کی گاڑی پر نہ تو جھنڈا لگا ہوا ہے۔ میں کیسے یقین کر سکتا ہوں کہ آپ آرمی کمانڈر ہیں؟’

پھر سیم نے سنتری سے پوچھا کہ کیا میں آپ کے بوتھ سے ایک ٹیلی فون کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کمانڈنگ آفیسر کو فون کیا اور کہا کہ آپ کے ایک لڑکے نے مجھے گیٹ پر روک لیا ہے۔ اس کا قصور نہیں ہے۔ میں نے وردی نہیں پہنی ہے اور نہ ہی میرے پاس اپنا شناختی کارڈ ہے۔ کیا آپ مجھے اندر داخل کرا سکتے ہیں؟ یہ سننا تھا کہ کمانڈنگ افسر ایک منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔ انھوں نے سیم کو اندر داخل کرایا اور سیم کی ہدایت پر گورکھا کے سپاہی کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے شاباشی دی۔

سیم مانیکشا
سیم مانیکشا

ماسکو میں پاکستانی سفیر سے ملاقات

نومبر سنہ 1971 میں مانیکشا سوویت یونین (روس) کے دورے پر گئے تھے۔ جب وہ وہاں بولشوئی تھیٹر گئے تو وہاں ان کی ملاقات سویت یونین میں پاکستانی سفیر جمشید مارکر اور ان کی اہلیہ ڈیانا سے ہو گئی۔ جمشید کوئٹہ کے رہائشی تھے اور سیم کے ساتھ ان کی دوستی ان دنوں سے جاری تھی جب سیم سنہ 1943 میں سٹاف کالج میں زیر تعلیم تھے۔

سیم نے گرم جوشی سے جمشید کو گلے لگایا اور خالص پارسی انداز میں ان کی بیوی ڈیانا کے رخساروں کو بوسہ دیا۔ دونوں تھوڑی دیر تک گجراتی میں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہے۔

روسی حکام یہ دیکھ کر حیرت زدہ تھے کہ ان دونوں کے رویے سے یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان کے ممالک کچھ ہی دنوں میں لڑائی کرنے والے ہیں۔

سیم مانیکشا
سیم مانیکشا انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ

نیپال کے بادشاہ سے ملاقات

سنہ 1972 میں سیم مانیکشا نیپال کے دورے پر گئے۔ سیم اور ان کی اہلیہ کو نیپال کے بادشاہ نے ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ روانگی سے قبل نیپال میں انڈین سفیر نے سیم کو نیپالی محل کے آداب سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نیپال کے بادشاہ سے اسی وقت بات کریں جب وہ خود آپ سے بات کرنا چاہیں۔ آدھے گھنٹے تک سیم نے اس اصول پر عمل کیا اور وہ نیپال کے بادشاہ کی باتیں سنتے رہے۔ لیکن پھر شرارتی اور چنچل مانیکشا سے مزید نہیں رہا گیا۔

وہ اچانک ملکہ کی طرف مڑے اور ان سے پوچھا کہ کیا بادشاہ ایک اچھے شوہر ہیں؟ کیا وہ کچن میں جا کر آپ کی مدد کرتے ہیں؟ یہ سن کر رانی ایشوریی نے زور سے قہقہ لگایا اور نیپال کے بادشاہ نے شاہی پروٹوکول کو اسی وقت ختم کر دیا۔

موسیقی اور باغبانی کے شوقین

سیم کا کریز ان کا باتھ روم کا شاور تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے شاور سے تیز رفتاری کے ساتھ پانی نکلے اور وہ بھی گرما گرم ابلتا ہوا۔ اگر اس میں ذرا بھی کمی واقع ہوتی تو سیم کا موڈ خراب ہو جاتا اور ان کے دن کا آغاز بہت خراب رہتا تھا۔

سیم صبح صادق سے پہلے ہی بیدار ہو جاتے تھے اور اپنے پودوں پر تقریباً ایک گھنٹہ صرف کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک شاندار آڈیو سسٹم ہوتا تھا اور ان کے ریکارڈ اور کیسٹوں کی کلیکشن بہت اچھی تھی۔ ان کے باورچی سوامی سنہ 1959 سے ان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

سیم مانیکشا

ہر صبح آفس جانے سے پہلے وہ اسے دن بھر کا مینیو بتا جاتے تھے۔ شام کو دفتر سے واپس آنے کے بعد وہ سیدھے کچن میں پہنچ کر برتن کا ڈھکن اٹھا کر دیکھتے کہ سوامی نے کیا کھانا تیار کیا ہے۔ سوامی کو دق کرنے کے لیے سیم اس سے اسی کی طرح ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بات کرتے تھے۔

وہ اکثر کہا کرتے تھے: ‘میڈم کمنگ بیک ٹو نائٹ۔ آئی ٹیلنگ میڈم، یو لاؤزی کک ناٹ فیڈنگ میں ویل (میڈم آج واپس لوٹ رہی ہیں۔ میں ان سے کہوں گا کہ تم میری دیکھ بھال اچھی طرح نہیں کر رہے ہو)۔‘

سوامی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ وہ بھی اسی انداز میں اس کا جواب دیتے تھے، ’یس، میڈم کمنگ بیک ٹو نائٹ۔ آئی ٹیلنگ میڈم، یو ناٹ ایٹنگ ایٹ ہوم فار منتھ، گوئنگ آؤٹ ایوری نائٹ اینڈ کمنگ ہوم ایٹ ون ان مارننگ (ہاں، میڈم آج آ رہی ہیں۔ میں انھیں بتاؤں گا کہ آپ پورے مہینے سے ہر رات گھر پر کھانا نہیں کھا رہے ہیں، آپ ہر رات باہر چلے جاتے ہیں اور رات ایک بجے واپس آتے ہیں۔)’

اس پر سیم تھوڑا سا ناراض ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ ’یو ڈیم کک۔ از دیٹ ہاؤ ٹو ٹاک ٹو دی آرمی چیف (احمق باورچی۔ کیا کسی آرمی چیف سے اس طرح بات کی جاتی ہے؟)‘

سوامی بھی اسی طرح جواب دیتے تھے، ’یس، ناؤ یو بگ مین، یو گو اینڈ لک آفٹر یور آرمی اینڈ لیو مائی کچن‘ (ہاں، تم بڑے آدمی جاؤ اور اپنی فوج کی دیکھ بھال کرو اور میرا باورچی خانہ چھوڑ دو)‘

ہتھیار ڈالنے کے لیے جنرل جیکب کے ڈھاکہ جانے پر تنازع

سنہ 1971 میں جب ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کا وقت آیا تو اندرا گاندھی چاہتی تھیں کہ سیم مانیکشا ڈھاکہ جائیں اور خود سرنڈر لیں۔ لیکن سیم نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اگر پوری پاکستانی فوج ہتھیار ڈال دیتی تو میں ڈھاکہ بہت خوشی سے جاتا۔ ہتھیار ڈالنے سے پہلے اس کا انتظام کرنے کے لیے ایک سینیئر فوجی افسر کو ڈھاکہ بھیجنا تھا۔

سیم نے اس کام کے لیے ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف میجر جنرل جیکب کو منتخب کیا۔

سیم کے اے ڈی سی بریگیڈیئر پنتھاکی نے اپنی کتاب ’فیلڈ مارشل سیم مانیکشا دی مین اینڈ دی ٹائمز‘ میں لکھتے ہیں: ’جب وزارت دفاع کو اس کا علم ہوا کہ مسلم فوج کے ہتھیار ڈالنے اور اس کی سپردگی کروانے کے لیے ایک یہودی افسر کو بھیجا جا رہا ہے تو اس نے اس انتظام پر تشویش کا اظہار کیا۔ حکومت ناراض ہے کہ انڈیا کے دوست مسلم ممالک اسے کس طرح لیں گے۔‘

یہ سن کر سیم مانیکشا آگ بگولا ہو گئے۔ انھوں نے کہا: ’جب 30 برسوں تک جیکب ملک کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے تھے تو حکومت کیوں خاموش رہی؟ ویسے بھی، فوج مذہب اور ذات پات سے بہت اوپر ہوتی ہے۔ فون رکھنے کے بعد سیم نے جیکب کو فون کیا اور انھیں سب کچھ بتایا۔ جیکب جذباتی ہو گئے اور یہ سن کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی دھمکی دے ڈالی۔ سیم اس بات پر ناراض ہو گئے اور کہا کہ مجھے اب استعفیٰ دینے کی دھمکی نہ دیں۔ اگر تم نے ایسا کیا تو مجھے اسے قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو گی۔‘

سیم مانیکشا

جنگی قیدیوں کے والد کا شکریہ

سنہ 1971 کی جنگ کے بعد جب سیم ایک فوجی وفد کے ساتھ پاکستان گئے تو پنجاب کے گورنر نے انھیں کھانے پر مدعو کیا۔ جب کھانا ختم ہوا تو گورنر نے کہا کہ میرا عملہ آپ سے مصافحہ کرنا چاہتا ہے۔ جب سیم باہر آ‏ئے تو انھوں نے دیکھا کہ ان سے ملنے والوں کی ایک لمبی قطار ہے۔ جیسے ہی وہ ایک شخص کے پاس پہنچے اس شخص نے ان کے اعزاز میں اپنی پگڑی اتار دی۔

جب مانیکشا نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا: ’سر، میں آپ کی وجہ سے زندہ ہوں۔ میرے پانچ بیٹے آپ کے قیدی ہیں۔ وہ مجھے خط لکھتے ہیں۔ آپ نے ان کا بہت خیال رکھا ہے۔ وہ بستر پر سو رہے ہیں جبکہ آپ کے فوجیوں کو زمین پر سونا پڑتا ہے۔ وہ بیرکوں میں رہے جبکہ آپ کے لوگ خیموں میں رہ رہے ہیں۔‘

سیم مانیکشا

چھتری، دھوپ کی عینک اور مائیک سے نفرت

سیم کچھ چیزوں کو بہت ناپسند کرتے تھے۔ کچھ وجوہات کی بنا پر ان کا ماننا تھا کہ صرف بزدل لوگ ہی چھتری رکھتے ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کسی فوجی کی کمر پر بارش کے چند قطرے پڑیں تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔

ایک اور چیز جس سے وہ نفرت کرتے تھے وہ دھوپ کے چشمے یعنی عینک تھی۔

اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ جب وہ ایک جوان افسر تھے تو ان کے کمانڈنگ افسر نے ان کی آنکھوں پر لگی قیمتی عینک کو پیروں سے کچل دیا تھا کہ اس سے آنکھیں خراب ہو جاتی ہیں۔

مانیکشا کو مائیک بھی ناپسند تھے۔ ایک بار، وہ ایک فوجی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایک بٹالین کا دورہ کر رہے تھے۔ سٹیج پر سیم کے بولنے کے لیے مائیک کا انتظام کیا گیا تھا۔

مائیک کو دیکھتے ہی انھوں نے کہا: ’ٹیک دس بلڈی تھنگ آؤٹ۔ میں اپنے لڑکوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘ سیم کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ جب وہ یونیفارم میں ہوتے تو کبھی ایسی جگہ پر کھانا نہیں کھاتے جہاں لوگ موجود ہوں۔ انھیں کبھی بھی ہوائی پروازوں یا راشٹرپتی بھون (ایوان صدر) کی سرکاری تقریبات میں لوگوں کے سامنے کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

سیم کے اے ڈی سی بریگیڈیئر پنتھاکی لکھتے ہیں کہ ’ان کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی ان کی پیروی کرنا پڑتی تھی۔ کبھی کبھی تو ہمارے لیے مشکل ہو جاتی تھی، خاص طور پر جب لذیذ کھانے آپ کے سامنے ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp