بھارت: ایک دن میں ریکارڈ ایک لاکھ سے زائد کرونا کیس، ریاست مہاراشٹرا میں رات کا کرفیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہرین بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتخابات کے پیشِ نظر وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

بھارت میں پیر کو کرونا وائرس کے ایک لاکھ سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹرا میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں پیر کو کرونا کے مزید ایک لاکھ تین ہزار 558 کیس رپورٹ ہوئے۔ اس سے قبل صرف امریکہ اور برازیل میں ہی یومیہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرتی رہی ہے۔

کیسز میں حالیہ اضافے کے بعد مہاراشٹرا سمیت دیگر ریاستوں کے اسپتالوں میں مریضوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے جب کہ حکومت کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

ماہرین بھارت کی مختلف ریاستوں میں انتخابات کے پیشِ نظر وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

بھارت میں فروری کے اوائل میں کرونا کیسز میں تیزی سے کمی آئی تھی جس کے بعد حکام نے کئی پابندیاں نرم کر دی تھیں۔ تاہم ماہرین کے بقول شہری ماسک سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے جس سے وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

وزارتِ صحت کے مطابق فروری کے اوائل کے مقابلے میں اب کرونا کیسز میں 12 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل کو متاثر کرنے والی وائرس کی نئی قسم نے اب بھارت میں بھی پنجے گاڑھ لیے ہیں جس کی وجہ سے کیسز میں اچانک تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ممبئی میں رات کا کرفیو اسپتالوں میں گنجائش کم

بھارت میں کرونا سے سب زیادہ ریاست مہاراشٹرا متاثر ہوئی ہے جہاں پیر کو 57 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

بھارت کا معاشی مرکز ممبئی بھی وائرس کی لپیٹ میں جہاں پیر سے رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے پانچ روز پیر سے جمعے تک ممبئی میں رات آٹھ بجے سے صبح سات بجے تک کرفیو جب کہ ویک اینڈ پر مزید سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

ممبئی میں پانچ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کی پابندی کے علاوہ بارز، ریستوران، عبادت گاہیں اور تھیٹرز بند کر دیے گئے ہیں۔

وائرس کی نئی قسم پھیلاؤ کی وجہ؟

بھارتی ماہرین کے مطابق وائرس کی حالیہ لہر کے دوران برطانیہ، جنوبی افریقہ اور برازیل میں سامنے آنے والی وائرس کی نئی قسم کے سیکڑوں کیس بھارت میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل یہی ہے کہ وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں بشمول ممبئی، پونے اور ناسک میں بالغ افراد کی کرونا ویکسی نیشن مکمل کی جائے۔

خیال رہے کہ بھارت میں جنوری میں کرونا ویکسی نیشن کا آغاز ہوا تھا اور اب تک سات کروڑ 70 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں کیسز کی کل تعداد ایک کروڑ 24 لاکھ سے زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں عالمی وبا کے شکار مزید 478 مریض ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد ایک لاکھ 65 ہزار 101 ہو گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1906 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *