ہمیشہ خوش رہنا بھی نارمل نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم میں سے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ جہاں ایک طرف ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے چھٹکارا ملے وہیں دوسری طرف ہم ہر وقت خوش رہ سکیں۔ ہمارے بزرگ بھی ہمیشہ ہمیں یہی دعا دیتے ہیں کہ ہمیشہ خوش رہو۔

ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہر وقت اداس پریشان رہنے کا متضاد ہمیشہ خوش رہنا ہے۔ یعنی اگر پریشان رہنا، ڈپریشن یا انزائٹی ابنارمل ہے تو خوش رہنا نارمل ہے۔ جب کہ حقیقت یہ نہیں۔

ہمارا اعصابی نظام اس انداز میں بنا ہے کہ ہم کوئی بھی احساس بہت دیر تک خود پہ طاری نہیں رکھ سکتے۔ وہ احساس وقت اور حالات کی بنیاد پہ ایک دم ہم پہ حاوی ہوتا ہے بتدریج اس کی شدت کم ہوتی ہے اور پھر وہ احساس بدل جاتا ہے۔

خود سوچیے اگر کوئی شخص کسی قریبی عزیز کی موت کی خبر سن کر ہنسنے لگے کیوں کہ وہ ہمیشہ خوش رہتا ہے یا رہنا چاہتا ہے تو کیا آپ اسے نارمل کہیں گے؟ ایسے حالات میں کوشش کی جاتی ہے کہ وہ شخص روئے تاکہ اس کے اعصاب کو پہنچنے والا اصل صدمہ نکل سکے اور وہ ”نارمل“ ہو سکے۔

جی بالکل مسئلہ خوش یا اداس رہنے کا نہیں ہے۔ بنیادی مقصد ہے پرسکون رہنا۔ نفسیاتی طور پہ ایک صحت مند شخص خوش بھی ہوتا ہے اداس بھی ہوتا ہے، غصہ بھی کرتا ہے، کھیلتا کودتا بھی ہے، تفریح بھی کرتا ہے اور روتا بھی ہے۔ لیکن یہ سب کیفیات وقتی ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں ۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب یہ کیفیات وقتی نہ ہوں اور کوئی ایک کیفیت ڈیرہ جما کر بیٹھ جائے اور آپ کا پیچھا ہی نہ چھوڑے۔

مثلاً جیسے خوش رہنے کی بات کی تو وہ افراد جو ہر وقت خوش لگتے ہیں یا خوش رہنا چاہتے ہیں، دراصل وہ بہت سے مسائل کو نظرانداز کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک مصنوعی خول بنا لیتے ہیں جس کے اندر وہ خوش رہتے ہیں اور اس سے نکلنا نہیں چاہتے۔ اور کبھی انہیں اس خول سے نکلنا پڑے تو اعصابی طور پہ تیار نہیں ہوتے اور پھر وہ مصنوعی خوشی کا دور ختم ہو جاتا ہے اور اعصابی اور نفسیاتی دباؤ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ مزاج کے خلاف بات ہونے پہ آپ کو غصہ آئے، کسی کے نامناسب رویے پہ دکھ ہو، کسی کے چھوڑ کے جانے پہ رونا آئے، کسی کی خیریت معلوم نہ ہونے پہ گھبراہٹ ہو، امتحانی پرچہ ہاتھ میں آئے تو ٹینشن ہو اور نتیجہ اچھا آئے تو خوشی ہو۔ یہ تمام احساسات بنیادی طور پہ ہمیں مدد کرتے ہیں تاکہ ہم موقعے کی مناسبت سے فیصلے کر سکیں۔ دوسروں کو جذباتی مدد فراہم کر سکیں یا دوسروں سے جذباتی مدد لے سکیں۔ مسائل کی طرف توجہ دیں اور انہیں حل کر سکیں۔

لیکن اگر ہم کسی ایک احساس میں پھنس جائیں گے تو یا تو ان حالات کو بھی باعث پریشانی سمجھیں گے جن کا کوئی تعلق پریشانی سے نہیں یا پھر کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کریں گے۔ لہٰذا یہ اہم ہے کہ جہاں ایک طرف ہم اپنی نفسیاتی صحت اور نفسیاتی سکون کو ترجیح دیں ، وہیں ان احساسات میں سے کسی ایک کو مسلسل طاری نہ رکھیں ، نہ کسی سے مسلسل بچنے کی کوشش کریں۔ تب ہی ہم نفسیاتی اعتبار سے صحت مند ہوں گے۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا کرنا آپ کے لیے مشکل ہے تو بغیر جھجکے ماہر نفسیات کی مدد لیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 94 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply