عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ہم اپنی نصابی کتابوں میں پڑھتے آرہے ہیں کہ صحت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے، دولت ہے۔ صحت کے بنا انسان کو کوئی سکھ، کوئی خوشی حاصل نہیں ہو سکتی۔ کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد صحت کی اہمیت کا اندازہ آج پوری دنیا کو بخوبی ہو چکا ہے کہ انسان کے پاس سب سے بڑی دولت صحت ہے۔ صحت کے بغیر زندگی کو رواں دواں رکھنا ناممکن ہے ۔ اگر ایک انسان کروڑوں، اربوں کا مالک ہو اور اس کے پاس صحت ہی نہیں تو وہ دولت بھی اس کے کسی کام کی نہیں۔

اسی لئے صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ہر سال صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ کورونا وبا کے پیش نظر اس سال صحت کے عالمی دن کا موضوع ہے ”ایک عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر“ ۔ یہ موضوع اس لئے رکھا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں کورونا وبا کے باعث لاکھوں انسان موت کے منہ چلے گئے اور ابھی بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات اپنائے جائیں کہ دوبارہ کبھی ایسی قاتل وبائیں نہ پھیل سکیں جس کے لئے  انسانی صحت کے ساتھ ساتھ صحت مند معاشرے کی تشکیل بھی ضروری ہے۔

کورونا کی وجہ سے لوگوں کو اس بات کا اندازہ بھی ہوا ہے کہ ایک اچھی صحت کس طرح کورونا وبا کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جدید ریسرچ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انہی افراد کو کورونا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے، ایسے افراد جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہیں ان میں کورونا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ صحت کا عالمی دن پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قیام کے بعد 7 اپریل 1948 کودن منایا گیا تھا۔ اچھی صحت کی ترغیب دینے کے لئے ہر سال مختلف بیماریوں کے حوالے سے الگ الگ عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں لیکن صحت کا عالمی دن ان تمام بیماریوں سے محفوظ رہنے اور صحت مند طرز زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔

صحت جسے دوسرے لفظوں میں تندرستی بھی کہا جاتا ہے، دو الفاظ ”تن“ اور ”درستی“ کا مرکب ہے جس سے مراد انسانی جسم کی وہ کیفیات ہیں جو معمول کے مطابق ہوں یعنی ذہنی اور جسمانی تندرستی۔ جسمانی تندرستی سے مراد ظاہری اور پوشیدہ تندرستی ہے، بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر صحت مند نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ بہت بیمار اور لاغر ہوتے ہیں، انہیں طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتیں۔

اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک میں صحت مند زندگی گزارنے والے افراد کی شرح بہت کم ہے۔ آپ اپنے اردگرد کسی سے بھی پوچھ لیں ہر کوئی کسی نہ کسی ظاہری یا اندرونی بیماری کا شکار ہے۔ زیادہ تر افراد ذیابیطس، گھٹنوں اور جسمانی دردوں، کولیسٹرول، بلڈپریشر، موٹاپا وغیرہ کا شکار ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے میں بے احتیاطی اور بے ہنگم طرز زندگی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ صرف اچھا کھانا پینا یا اچھا پہننا ہی صحت مند زندگی کا نام نہیں بلکہ اچھی صحت کا دارومدار مثبت ذہن، مثبت شخصیت اور صحت مند طرز زندگی پر منحصر ہے۔

اگر ہمارا ذہن، ہماری شخصیت اور طرز زندگی مثبت نہیں ہو گا تو اچھی صحت کا حصول ناممکن ہے۔ جدید تحقیق میں اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ انسانی صحت کا تعلق صرف جسم اور دماغ سے ہی نہیں بلکہ ہمارے لائف سٹائل سے بھی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جسمانی صحت اور تندرستی کا تعلق ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی سے ہوتا ہے جسے ہم بہتر بنا کر جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ دل اور دماغ کو بھی مختلف بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔

اسی طرح برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند زندگی گزارنے والے افراد میں تشدد پسندی کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی دماغی کارکردگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختص کیے ہوئے مقاصد کو بھی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

صحت مند زندگی کے فروغ کے لئے صحت کی سہولتوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ صحت کی مناسب سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے نہ صرف بیمار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں بلکہ وہ دیگر صحت مند افراد کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں موجودہ حکومت نے بہت سے اقدامات کیے ہیں جن میں یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام کا آغاز سرفہرست ہے، اس پروگرام کے تحت 12 کروڑ عوام کو صحت اورعلاج کی مفت سہولت حاصل ہو گی جبکہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لئے نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔

اسی طرح پاکستان پہلا ملک ہے جہاں ٹائیفائیڈ کانجوگیٹ ویکسین کو حفاظتی ٹیکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت، بل اینڈ ملنڈا گیٹ فاؤنڈیشن اور محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کے اشتراک سے ٹائیفائیڈ کانجو گیٹ ویکسنیشن مہم کے تحت ایک کروڑ 93 لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔ مرحلہ وار نئے ہسپتال، میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں بھی بنائی جا رہی ہیں۔ وبائی بیماریوں ہیباٹائٹس، ٹی بی اور ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا میں 9 ماہ کے عرصہ میں 20 نئی بائیو سیفٹی لیول تھری لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں اور روزانہ ٹیسٹنگ کیپسیسٹی کو 4 سو سے بڑھا کر 25 ہزار تک کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ صحت مند معاشرے کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، نیند پوری کریں، بسیار خوری سے بچیں، صاف ستھرے رہیں، ایکسر سائز، جاگنگ کریں اور صحت بخش غذاؤں کا استعمال کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *