کیا آپ اپنے بچوں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں ہمیشہ والدین کے حقوق کی بات ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بچوں کے حقوق کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اگر بچے کو دی گئی توجہ یا تعلیم و تربیت میں کمی رہ جائے، بچے کو ضروری محبت یا مناسب ماحول نہ ملے تو ایسے بچے میں نفسیاتی مسائل پیدا ہونے کے بہت زیادہ امکان رہتے ہیں۔

معاشرتی پہلو سے دیکھا جائے تو ایسا بچہ اپنے اردگرد کے لوگوں اور معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ وہ شعوری یا لاشعوری طور پہ دوسروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سب کے ذمہ دار والدین ہوتے ہیں۔

بچوں کو اچھائی برائی کا شعور دینا والدین کا ہی کام ہے۔ اخلاقی طور پر بھی بچے کو معاشرے میں رہنے کے قابل بنانا والدین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔

مذہبی حوالے سے دیکھا جائے تو اس معاملے کو ڈسکس نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے فرائض کا شعور نہیں رکھتے اور اپنی آخرت بھی تباہ کر لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ عموماً بچے کی اہلیت یا خواہشات دیکھنے کے بجائے والدین اپنی نامکمل خواہشات کا بوجھ اس کے سر ڈال دیتے ہیں۔ بچے کے لیے مستقبل کے شعبے کا فیصلہ کرتے ہوئے بچے کے مزاج یا خواہش کے مطابق نہیں، والدین کی خواہش اور ضرورت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔

بچے کی شادی کا فیصلہ کرتے ہوئے بھی والدین اپنی پسند ناپسند ہی دیکھتے ہیں۔ اکثر والدین اپنے رشتے بچانے کے لیے بچوں کی شادی اپنے بہن بھائیوں کے بچوں سے زبردستی کر دیتے ہیں۔ جو یہ نہیں کرتے ان کے پیش نظر بھی بچے کی خوشی نہیں ممکنہ رشتے سے ہونے والے معاشی یا معاشرتی فوائد ہوتے ہیں۔

اگر بچوں میں سے کوئی بغاوت کرنا چاہے تو وہ ساری ضروریات جنہیں پورا کرنا والدین پہ فرض ہے ان کو احسان کے طور پہ سنایا جاتا ہے۔ وہ محبت جو بچوں کو بچپن سے بن مانگے دی گئی تھی اس کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کر کے بچے کو اس حد تک مجبور کر دیا جاتا ہے کہ اس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں لوگوں کو بطور والدین ان کے حقوق سے آگاہ کیا جاتا ہو۔ جہاں انہیں بتایا جاتا ہو کہ بچوں کے حقوق پورے نہ کرنے سے وہ معاشرے میں کتنا بگاڑ پیدا کر رہے ہیں۔

یہ مسئلہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسا بچہ جو ذہنی یا جسمانی طور پہ معذور ہو، اس کے ساتھ والدین کا رویہ ٹھیک نہیں رہتا۔ ایسے بچوں کو عموماً والدین اپنی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں۔

سڑک پہ بھیک مانگتے کسی بھی پیدائشی معذور کو دیکھا جائے تو یہ سب والدین کی طرف سے ٹھکرائے گئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ یا کسی بھی خواجہ سرا کی کہانی سنی جائے تو اسے والدین نے قبول کرنے کے بجائے گھر سے باہر نکال دیا ہوتا ہے۔ ایسے بچوں کو گھر سے نکال کر خواجہ سراؤں میں شامل ہونے کا موقع دینے کے بجائے اگر اچھی تعلیم اور تربیت دی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ معاشرے کا مفید حصہ نہ بن سکیں۔

دو مسائل ہیں

ایک تو مادیت پرستی ہے، والدین کو جس بچے سے فائدہ ہونے کا امکان نظر آئے، اسی پہ زیادہ محبت لٹاتے ہیں۔ اسی وجہ سے بیٹوں کو بیٹیوں پہ فوقیت اور زیادہ محبت دی جا رہی ہوتی ہے۔ دوسری وجہ نمود و نمائش ہے، والدین اپنے احساسات کے بجائے اس بات پہ زیادہ توجہ دیتے ہیں کہ دوسرے کیا سوچیں گے۔ اس لیے جس بچے میں کوئی جسمانی یا ذہنی کمی ہو وہ ان کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا ہوتا ہے۔ تو ایسے بچے کو یا تو دوسروں سے چھپا کر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے یا اس کے دوسروں کے سامنے آنے پہ والدین کو ہونے والی شرمندگی غصے کا روپ اختیار کر لیتی ہے اور یہ غصہ اسی بچے کو مار پیٹ یا ڈانٹ ڈپٹ کر نکالا جاتا ہے۔

ایسے بچے جو کسی معذوری کا شکار ہوں ، انہیں عام بچوں کی نسبت والدین کی زیادہ توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی جسمانی کمی کا مداوا ہو سکے۔ یہ والدین کی طرف سے دی گئی تعلیم و تربیت پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ کسی قابل بن کر اپنی زندگی آزادی سے جی پاتے ہیں یا نہیں۔

اگر کوئی مرد یا عورت بچوں کی ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتے تو انہیں بچے پیدا ہی نہیں کرنے چاہئیں۔ لیکن اگر بچے پیدا کر لیے جائیں تو انہیں ہر حال میں قبول کرنا چاہیے ، چاہے وہ کسی جسمانی و ذہنی معذوری کا شکار ہی کیوں نہ ہوں۔ بچے نارمل ہوں یا ابنارمل سب کے حقوق ان کے والدین کے ذمہ واجب الادا ہوتے ہیں۔

ایسے والدین جو اپنے بچوں کے حقوق پورے نہ کریں یقیناً بچوں کی دنیاوی زندگی کے ساتھ اپنی آخرت تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہاں صرف کچھ والدین کی بات ہو رہی ہے۔ باقی سب جن کا رویہ ایسا نہیں ان کے درجات یقیناً بلند ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر نوید خالد تارڑ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply