رمضان المبارک کی تیاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تک زندگی کی جتنی بھی بہاریں اور خزائیں دیکھی ہیں، ان میں دو ایسے احباب بھی دیکھے جو وقت سے پہلے رمضان شریف کی تیاری کرنے کے قائل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں اب زیادہ بہتر سمجھ آ رہی ہیں شاید اس لئے بھی کہ اب ان کی باتوں پہ عمل پیرا ہونے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ بات تو کھلی حقیقت ہے کہ حاصل وہی کر سکتا ہے جو تلاش کرے۔ سچی تلاش منزل تک نہ بھی پہنچائے لیکن صحیح راستے پہ ضرور گامزن رکھتی ہے اور نیت کی سچائی چند گام پہ بھی منزل کو سامنے لا کھڑا کر سکتی ہے۔ دانائے راز کہتے ہیں کہ جیسے پیاسا پانی کو ڈھونڈتا ہے ایسے ہی پانی بھی پیاسے کو ڈھونڈتا ہے۔

ایک مولوی صاحب تھے ، وہ رجب سے ہی اپنے خطبات میں نہ صرف رمضان کی اہمیت اور افادیت بیان فرمانا شروع کر دیتے تھے بلکہ ہم جیسے مصروف اور کولہو کے بیل جیسے لوگوں کو عملی طریقے بھی بتاتے تھے کہ کیسے اپنے آپ کو رمضان کے لئے تیار کیا جائے اور کن طریقوں سے رمضان کی برکات سمیٹنے کے لئے فرصت حاصل کی جائے۔ اب تو اس وبائی دور میں ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی کہ خود کو محفوظ رکھنا ہے ، گھر گرہستی بھی دیکھنی ہے اور رمضان المبارک کی ساعات کا بھرپور فائدہ بھی اٹھانا ہے۔

دوسرے ایک فوجی صاحب تھے ، وہ پورے رمضان میں غیر حاضر رہنے کے بعد عید والے دن عید گاہ میں دیکھے جاتے تھے۔ تو ذہن میں بات آتی کہ جب سب گھروں کو چلے جاتے ہیں تو یہ صاحب واپس آ جاتے ہیں۔ ایک دن ان سے اس بابت پوچھ ہی لیا تو عقدہ کھلا کہ وہ سارا سال چھٹی نہیں جاتے لیکن رمضان آتے ہی وہ ایک ماہ کی چھٹی لے لیتے تھے تاکہ پورا مہنیہ اطمینان اور تشفی سے رمضان اپنے گھر پہ گزار سکیں۔

ابھی چند روز بعد پھر سے ماہ مبارک کی بابرکت ساعات کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو یہ بات یاد آئی کہ اپنے تمام ضروری کام پہلے سے نمٹا لئے جائیں اور اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے حصول کے لئے خود کو باقی کاموں سے فارغ کر لیں۔ ضمناً یہ بات کہ جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ بھی کوشش کر کے رمضان سے قبل واجب الادا زکوٰۃ ادا کر دیں تاکہ مستحقین بھی اس سے بروقت مستفید ہو سکیں۔

زکوٰۃ تو فرض ہے ہی لیکن اس وبائی دور میں صدقات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے سفید پوش قابل رحم حالات کا شکار ہو چکے ہوں گے ، بہت سے بچے بھوک سے بلکتے ہوں گے، بہت سی مائیں آج بھی جھوٹی کہانی سنا کر بچوں کو سلاتی ہوں گی ، کہیں دور نہ جائیں اپنے رشتے داروں میں اور اپنے اردگرد ہی دیکھیے اور ان کی مدد کے لئے حتی المقدور کوشش کیجیے۔

یقین کریں کہ دینے سے کم نہیں ہو گا کیونکہ یہ اللہ کو دیا ہوا قرض ہے اور اللہ سے زیادہ عزت اور غیرت والا کوئی نہیں۔ وہ کبھی بھی آپ کا ادھار زیادہ دیر تک نہیں رکھے گا۔ دانائے راز بتاتے ہیں کہ تقسیم کریں گے تو آباد رہیں گے، تقسیم ہوں گے تو برباد ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply