جھاڑیاں اگانی ہیں یا شاہ بلوط؟


کسی دانا کا قول ہے کہ ”اس قوم کی ترقی دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی جس کے نوجوان ذمہ دار اور محنتی ہوں لیکن اگر اس قوم کے نوجوان کاہل اور لاپروا ہو جائیں تو بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔“ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بیشتر قوموں کی بیداری اور ان کے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر جاتا ہے۔ دنیا میں نوجوانوں کی سیاست میں دلچسپی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ کسی قوم کے نوجوانوں میں عنفوان شباب میں ہی سیاسی شعور پیدا ہو جائے۔

بعض حالات میں نوجوانوں کا سیاسی شعور قوموں کی تاریخ بدل کے رکھ دیتا ہے۔ آپ ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ انہوں نے حصول شعور کے لیے تعلیم کا زاد راہ اپنے ساتھ لیا ، اس کا نتیجہ تھا کہ وہ جہالت اور جنگوں کی بھول بھلیوں سے نکل کر فلسفے اور سائنس کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی شعور بھی اپنے کمال کو جا پہنچا اور آج بیشتر ممالک بہترین فلاحی ریاست کے قالب میں ڈھل چکی ہیں اور حکومتیں عوام دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر ہر کس و ناکس کی زندگیوں میں آسانی اور راحت پیدا کرنے کے لیے ہر دم کوشاں ہیں۔

ترقی کے اس سارے عمل میں نوجوان نسل نے بڑا اہم کردار ادا کیا لیکن یہ سب کچھ ایک دم نہیں ہوا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہماری قوم کی عزت و عظمت کے لیے ہمارا نوجوان ہی مشعل علم لے کر اٹھے گا اور ہماری قوم کی قسمت بدل جائے گی۔ لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے نوجوان نسل کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ اس بات کو بڑی اچھی طرح سمجھنا پڑے گا کہ جس طرح قوموں کی زندگی میں بگاڑ ایک دم نہیں آتا، اسی طرح قوموں کے سدھار کا عمل بھی پلک جھپکنے میں نہیں ہو جاتا، اس کے لیے بہت وقت اور سخت محنت کے ساتھ خلوص نیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی کے دل میں یہ سرگوشی ہوتی ہے کہ بڑے شان دار اور عظیم کام پلک جھپکنے میں ہو جاتے ہیں تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

کمیونسٹ چین کے سابق چیئرمین ماؤزے تنگ نے ایک دلچسپ چینی کہانی لکھی ہے ”پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقے میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس کے دروازے کے سامنے دو اونچے پہاڑ کھڑے ہوئے تھے اور سورج کی کرنیں اس کے گھر میں نہ پہنچتی تھیں۔ ایک دن اس نے اپنے جوان بیٹوں کو بلا کر کہا کہ ہم اس پہاڑ کو کھود کر یہاں سے ہٹا دیتے ہیں تاکہ سورج کی کرنیں سیدھی ہمارے گھر تک آ سکیں۔

بوڑھے آدمی کے اس منصوبے کا علم اس کے پڑوسی کو ہوا تو اس پر خوب ہنسا اور اس نے بوڑھے آدمی سے کہا، میں یہ جانتا تھا کہ تم ایک بے وقوف آدمی ہو لیکن مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ تم اتنے بے عقل ہو گے۔ تم پہاڑوں کو کھدائی کر کے ان کی جگہ سے کیسے ہٹا سکتے ہو؟ بوڑھے آدمی نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا، تمہارا کہنا درست ہے، لیکن میں مر گیا تو میرے بیٹے اس کو کھودیں گے، ان کے بعد ان کے بیٹے اور پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے۔ یہ کھدائی کا عمل ہمیشہ جاری رہے گا، تم نہیں تو تمہاری نسلیں دیکھیں گی کہ یہ مصیبت ہمارے گھر کے سامنے سے دور ہو چکی ہوگی“ ۔

شخصی زندگی کی تعمیر کا معاملہ ہو یا ملی زندگی کی تعمیر کا مسئلہ، انسان کی کامیابی کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ آغاز کر دے اور پھر اس کے بعد اس کی کامیابی اس سے وقت مانگے گی، سخت محنت مانگے گی، شب و روز کی ریاضت مانگے گی اور یہ سب کچھ اسے ہر حال میں کرنا پڑے گا۔ یہ کام تھوڑی سی مدت میں ہرگز نہیں ہو گا۔ اگر کوئی لیڈر یا عام آدمی ایسے نعرے لگاتا ہے تو یا تو اس کی سادہ لوحی کی دلیل ہے یا استحصالی ذہنیت کی علامت ہے۔

ایسی قوم جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر و ترقی کا قلعہ بنانا چاہتی ہے تو جان لینا چاہیے کہ ایسے قلعے ذہنوں میں تو بن سکتے ہیں، عالم واقعہ میں نہیں۔

Facebook Comments HS