عمران خان کے سیاسی سپرمین جہانگیر ترین مشکل میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کہاوت ہے کہ ”‏سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“ یعنی یہ بڑی بے رحم چیز ہے۔ یہ کہاوت آج تحریک انصاف اور جہانگیر ترین پر صادق آتی دکھائی دیتی ہے۔ جہانگیر ترین نے پاکستان تحریک انصاف کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کے لئے سخت محنت کی۔ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے شب و روز جدوجہد کرتے رہے۔ جب تحریک انصاف 2013 کا الیکشن ہار گئی، ترین ہی تھے جنہوں نے کپتان کو الیکشن جیتنے کی سائنسی تکنیک بتائی۔

جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں یہ بات کچھ اس طرح سے کی کہ جب ہم 2013 کا الیکشن بری طرح ہار گئے۔میں عمران خان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اس الیکشن میں ہم نے ٹکٹ صحیح طریقے سے نہیں دیے تھے ، یعنی وہ لوگ جو الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہوں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اگر یہی پوزیشن رہی تو آپ کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔

عمران خان نے اس پر ان سے سوال کیا کہ پھر ہم کیا کریں؟ جہانگیر ترین نے بتایا کہ وہ لوگ جو تحریک انصاف کو انتخابات میں کامیابی دلا سکتے ہیں، ان کو پارٹی میں شامل کریں۔ پھر وہ ترین ہی تھے جو بہت سارے ایسے لوگوں کو تحریک انصاف میں لے کر آئے۔

اس وجہ سے ترین کو پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر بار بار یہ الزام لگتا رہا کہ ترین اپنے بندوں کو پارٹی میں شامل کرانا چاہتے ہیں لیکن ترین بار بار یہ کہتے رہے کہ یہ میرے بندے نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو تحریک انصاف کی انتخابات میں کامیابی میں معاون ثابت ہوں گے ، یہ سیاسی خاندانوں کے لوگ ہیں۔ یہ طاقتور لوگ ہیں جو اپنے اپنے حلقوں یا علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یاد رہے یہ لوگ اسی سٹیٹس کو کا حصہ ہیں جس کا عمران خان مقابلہ کرنے نکلے تھے۔

عمران خان کو یہ بات باور کرا دی گئی کہ اگر آپ ان لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں ملاتے تو آپ کسی صورت پاور کوریڈور تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ خان نے مجبوراً ان لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور 2018 کا الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو گئے لیکن یہ بھاری تو کیا سادہ اکثریت بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تب ترین ہی تھے جنہوں نے آزاد اراکین کو اپنے ساتھ ملایا اور انہیں تحریک انصاف میں شامل کرایا۔ تحریک انصاف کو صرف وفاق میں ہی نہیں پنجاب میں بھی آزاد اراکین کی حمایت کی ضرورت تھی تو تب بھی ترین تھے جنہوں نے یہ ضرورت پوری کی اور وفاق کے ساتھ پنجاب میں۔ بھی تحریک انصاف کی حکومت بنوانے میں مدد کی۔

جہانگیر ترین نے مذکورہ انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے تحریک انصاف کو جتوانے کی بڑی بھاری قیمت اپنی نااہلی کی صورت میں ادا کی، بقول ان کے ان کی نا اہلی عمران خان کو بچانے کے لئے بیلیسنگ ایکٹ تھا۔ یہ سب ہونے کے بعد جب تحریک انصاف مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔

جہانگیر ترین عدالت عالیہ سے نا اہل ہونے کی وجہ سے خود تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ اس وجہ سے وہ کسی بھی صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کا حصہ نہ بن سکے لیکن انہیں وزیراعظم کی زرعی ٹاسک فورس کا چیئرمین ضرور بنایا گیا کیونکہ وہ پاکستان کے جانے پہنچانے زرعی ماہر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف نے عدالت سے نا اہل ہوئے شخص یہ پوزیشن کیسے دی؟

اس پر تحریک انصاف کے کچھ لوگوں کو بھی اعتراض تھا۔

بعد میں جب پاکستان میں چینی کا بحران پیدا کر کے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو اس پر ایک انکوائری ہوئی جس پر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ جہانگیر ترین چینی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور جہانگیر ترین پر یہ الزام تھا کہ وہ چینی کا بحران پیدا کر کے ناجائز منافع کمانے والوں میں شامل ہیں۔

شوگر سکینڈل کی تحقیقات پر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے ان تمام کیسسز کو ڈیل کر رہا ہے۔ جہانگیر ترین اور ان کی فیملی کے لوگوں پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے نے ان کیسسز میں ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی ہے۔ جہانگیر ترین کا موقف ہے کہ ان کا دامن صاف ہے۔ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ باقی پورے پاکستان کی شوگر ملز کو چھوڑ کر صرف ان کا ہی کیوں احتساب کیا جا رہا ہے؟ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور عدالت کو ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے۔

جہانگیر ترین اس میں سرخرو ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی صفائی خود عدالت میں پیش کرنی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتقامی کارروائی ہے یا احتساب ہو رہا ہے؟

اگر یہ انتقامی کارروائی ہے اور تحریک انصاف کے اپنے لوگ صرف ترین کے خلاف سازش کر رہے ہیں تو اسے احتساب کیسے کہا جا سکتا ہے جب باقی کو چھوڑ کر ایک ہی شخص کو مخصوص ایجنڈے کے تحت نشانہ بنایا جاتا ہے؟

اس ساری کہانی میں ایک تو یہ بات اہم ہے کہ تحریک انصاف نے کیسے ترین کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر سائیڈ پر کر دیا۔ آج جہانگیر ترین کیسے اپنی ہی بنائی گئی تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں؟

وہ تحریک انصاف جس کی انہوں نے آبیاری کی اور اسے ایک تناور درخت بنایا۔ کیسے ترین اپنی ہی بنائی گئی پارٹی کے احتسابی عمل کو انتقامی کارروائی کا نام دے رہے ہیں اور کیوں نہ دیتے انتقامی کارروائی کا نام کیونکہ یہ احتساب بھی تو ان کے ہی خلاف ہو رہا تھا؟ اس ملک میں ہمیشہ سے احتساب اگر اپنے خلاف ہو تو انتقامی کارروائی ہی کہلاتا ہے۔

‎اب یہاں یہ بات بھی سب سے اہم ہے کہ کیا تحریک انصاف ان کا حقیقی معنوں میں احتساب کرنے میے کامیاب ہو جائے گی یعنی اگر جرم ہوا ہے تو اس جرم کو ثابت کر کے ریکوری کرنے تک یا پھر بات صرف مقدمات، گرفتاری اور پھر ضمانت تک ہی محدود رہے گی جیسا کہ پہلے ہوتا رہا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply