شاہ محمود قریشی نے اپنی چھتری خود کیوں نہ اٹھائی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھتری اٹھانے کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ محمود قریشی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کا رویہ میڈیا پر کافی زیر بحث ہے۔ ہر کوئی محمود قریشی کو مطعون کرنے میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن اگر اس بات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو قصور ہمارے وزیر خارجہ کا نہیں بلکہ ہماری نفسیاتی، معاشرتی و معاشی ساخت کا ہے، جس کی باقاعدہ معقول وجوہات ہیں۔

ہم صدیوں غیر ملکی لوگوں کے غلام رہے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کی حکومت میں اپنی جگہ بنانے یا فوائد اٹھانے کے لیے مقامی لوگوں میں خوشامد، چاپلوسی، چغلی اور جھوٹ جیسے رویوں کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔ اور جو معاشرے اس قسم کی غلامی سے نہیں گزرے جو ہمارا مقدر رہی ہے، وہاں کے لوگوں میں ایسی برائیاں اور قباحتیں بہت کم نظر آتی ہیں۔ وہاں کے لوگ اپنے سے بہتر سماجی پوزیشن والوں یا صاحب اقتدار لوگوں سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی انہیں چاپلوسی کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی جو ہمارے ہاں کا خاصا ہے۔ اور اس بات کا مشاہدہ میں ترکی میں کر چکا ہوں، جو بہت تھوڑے عرصے کے لیے غلام ہوئے، لیکن جلد ہی اس غلامی سے چھٹکارا پا لیا۔

آزادی کے بعد بھی ہم اپنے غلامانہ رویوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکے، کیونکہ یہ ہمارے جینز کے اندر گھس چکے ہیں، یہ ہماری فطرت ثانیہ بن چکے ہیں، چنانچہ ہمیں ایک سیاسی کارکن اپنے لیڈر کی خوشامد اور چاپلوسی کرتا نظر آتا ہے، ایک ماتحت اپنے افسر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے ہاں تو آنے والے ہفتے کے اچھے ہونے کی خوشخبری دینے کے لیے اخبارات و جرائد میں پیشین گوئیاں کرنے والے ”آپ کا یہ ہفتہ کیسا رہے گا“ جیسے مواد میں ”افسران بالا کی خوشنودی حاصل رہے گی“ جیسے فقرے اکثر نظر آتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں افسران بالا کی خوشنودی کی بجائے انسان کی محنت اہم ہوتی ہے۔

جن معاشروں کا ماضی غلامی ہے، جہاں غربت ہوتی ہے، جہاں غلام رکھنے کا رواج ہوتا ہے، جہاں ملازم رکھنا سستا سودا ہو، وہاں کے لوگوں میں ویسے رویے ہونا معمول کی بات ہوتی ہے جس کا مظاہرہ ہمارے وزیر خارجہ نے کیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ محمود قریشی ایک پبلک فگر ہیں، اور غلط موقع پر ان کی غلط تصویر لے لی گئی، لیکن اگر کھلے دماغ کے ساتھ دیکھا یا سوچا جائے تو محمود قریشی نے کچھ بھی ایسا نہیں کیا جو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ نہیں ہے۔

ہمیں شاید اس بات کا احساس نہیں ہے کہ محمود قریشی ایک فرد نہیں بلکہ ایک رویہ ہے اور ہم سب محمود قریشی ہیں۔ پٹرول پمپ کو ہی لے لیں، جہاں آپ گاڑی میں بیٹھے رہتے ہیں اور کوئی ملازم آپ کی گاڑی میں پٹرول ڈالتا ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ایسی سوچیں، ایسے رویے ہر جگہ نظر آئیں گے، ہمیں ہر جگہ ایک محمود قریشی کھڑا نظر آئے گا۔

میں 90 کی دہائی میں اسلام آباد میں اپنے ایک رشتہ دار کے ہاں دو تین دن قیام کیا۔ ساتھ میں میری بیوی تھی جس نے خاتون خانہ کو مشورہ دینا ضروری سمجھا کہ آپ ڈش واشر خرید لیں، اس میں تمام گندے برتن ڈال دیا کریں، تو انہیں دھونے سے نجات مل جائے گی۔ میزبان خاتون نے جواب دیا کہ ہمیں ڈش واشر بہت مہنگا پڑتا ہے، ہمارے نوکرانی اس کے مقابلے میں بہت سستی ہے، جو برتن دھوتی ہے، گھر کی صفائی کرتی ہے، اور تمام دوسرے کام کرتی ہے۔ ان کی نوکرانی کی عمر شاید آٹھ سال ہو گی۔

اپنے کام اپنے ہاتھوں کرنے کا رواج صرف ان معاشروں میں ہے جہاں ملازم رکھنے کا نہ تو رواج ہے اور نہ ہی کسی کو توفیق ہے۔ جس کی ایک معقول وجہ ہے کہ اگر کوئی ایسا کرنا چاہے تو ایک ملازم کی تنخواہ اتنی زیادہ ہو گی جسے ادا کرنا آسان نہیں ہے۔

اور اگر فرض کر لیں کہ اگر کسی کو ملازم رکھنا بھی چاہے تو وہ ملازم چوبیس گھنٹوں کا نہیں ہو گا۔ ملازم کے اوقات کار طے شدہ ہوں گے، جن کے بعد وہ اپنے گھر چلا جائے گا۔ اسی وجہ سے مغربی معاشروں میں ہر کوئی اپنے گھر کا کام خود کرتا ہے، گھر کی صفائی، برتن دھونا، کپڑے دھونا، گاڑی خود چلانا اور اگر باغیچہ ہے تو وہاں مالی کا کام کرنا، یہ تمام وہ کام ہیں جسے عام آدمی سے لے کر وزیراعظم کو خود کرنا ہوتا ہے۔

میرے اختیار کردہ وطن، ناروے میں صرف بادشاہ کے پاس کچھ ملازم ہیں جو بادشاہ کے نہیں بلکہ ریاست کے ملازم ہیں۔ اور ان کے مخصوص اوقات کار ہیں، جن کا معاوضہ انہیں ریاست ادا کرتی ہے، اگر مخصوص اوقات سے زیادہ کرم کرنا پڑے تو اوور ٹائم کا تصور بھی موجود ہے جس کا مطلب دوگنا معاوضہ ہے۔

مغربی معاشروں مرد و عورت کام کرتے ہیں، باہر اور گھر کے کام کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے مختلف ایجادات ہوتی رہتی ہیں، تاکہ لوگ ملازمت کرنے کے بعد گھر کے کام کا بوجھ کم کر سکیں۔ اسی بوجھ کو کم کرنے کی خواہش کے نتیجے میں واشنگ مشین، ڈش واشر، فلور کلینر، فلور واشر جیسی ایجادات سامنے آتی ہیں کہ انسان کو زیادہ سے زیادہ سہولت کیسے دی جائے۔ تاکہ وہ آسانی سے معاشرے میں پیداواری کردار ادا کرتا رہے۔

2007 تک میرے پاس بہت بڑا مکان تھا جس کی تین منزلیں تھیں۔ گھر کے اندر کی صفائی کے علاوہ گرمیوں میں گھاس کاٹنے کا مسئلہ تھا، سردیوں میں گھر کے سامنے بہت زیادہ برف ہوا کرتی تھی جسے بیلچے سے ہٹانے کے لیے خاصی محنت درکار ہوتی تھی۔ ان مسائل کی وجہ سے مجھے اس مکان کو بیچ کر ایک فلیٹ لینا پڑا۔ جسے بعد میں پھر بیچا کہ بہت بڑا فلیٹ تھا اور گھر کے اندر کی صفائی کا مسئلہ جوں کا توں تھا۔

اب میرے پاس ایک چھوٹا فلیٹ ہے۔ لیکن صفائی تو اس کی بھی خود کرنا پڑتی ہے۔ چنانچہ میں نے فرش صاف کرنے کے لیے فلور کلینر خریدا ہے۔ جس سے زندگی پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گئی ہے۔ فلور کلینر کو حکم دینے کے لیے موبائل پر ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کیا ہوا ہے، موبائل سے کلینر کو حکم دیا جاتا ہے کہ پورا گھر صاف کرو یا فلاں کمرے کو صاف کرو۔ اور وہ کلینر حکم کی ویسے ہی تعمیل کرتا ہے جیسے میں نے اسلام آباد میں اس بچی کو اپنی ”مالکہ“ کا حکم مانتے دیکھا تھا۔ اس مالکہ نے اس بچی کو حکم دیا ہوا تھا کہ مجھے تم کبھی بیٹھی نظر نہ آؤ، بلکہ ہر وقت کام کرتی نظر آؤ۔ چنانچہ وہ ہر وقت مصروف رہتی تھی، وہ ہر وقت مصروف رہنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ تاکہ ”مالکہ“ اس کے کام سے خوش رہے۔

ایسے معاشرے جن میں غربت کی وجہ سے ملازم سستے ہوں، وہاں دوسروں سے چھتری اٹھوانے کی سوچ ہی پنپتی ہے، اور جن معاشروں میں چھتری اٹھانے والے نہیں ملتے، ان معاشروں میں انسانوں کو سہولیات دینے کے لیے ایجادات ہوتی ہیں، بس یہی فرق ہم میں اور مغربی معاشروں میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply