میکسیکو: امیدوار کی انتخابی مہم کا آغاز تابوت سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویب ڈیسک — انتخابات میں امیدوار رائے دہندگان کی توجہ اور ووٹ کے حصول کے لیے انوکھے طریقے اختیار کرتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایسا عمل بھی سرزد ہو جاتا ہے جو ملک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث آ تا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال میکسیکو میں ہونے والے انتخابات میں سامنے آئی ہے۔

میکسیکو میں کانگریس کے ایوانِ زیریں ‘چیمبر آف ڈپٹیز’ کے انتخابات کے لیے ایک امیدوار کارلوس میورگا نے تابوت سے نکلتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز کیا۔

کارلوس میورگا میکسیکو کی 32 ریاستوں میں سے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست چیہوہوا میں ‘سولیڈیرٹی انکاؤنٹر پارٹی’ کے امیدوار ہیں۔ یہ سیاسی جماعت گزشتہ سال ستمبر میں قائم کی گئی تھی۔

انتخابی امیدوار کو ایک تابوت میں میکسیکو کے سرحدی شہر سیواداد خواریز اور امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ایل-پاسو کو ملانے والے پل پر لایا گیا۔ تابوت پر سونے کا پانی چڑھایا گیا تھا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کارلوس میورگا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز تابوت سے اس لیے کیا تاکہ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات اور جرائم پیشہ عناصر کی پر تشدد کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق کارلوس میورگا کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کو بھی پیغام دینا چاہتے تھے کہ ان کی عدم توجہ کے باعث عام لوگوں مارے جا رہے ہیں۔

میورگا کے تابوت کے ہمراہ ان کے کئی حامی بھی موجود تھے جن میں سے کئی ایک نے کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے والے لباس (پی پی ایز) پہنے ہوئے تھے۔ بعض حامیوں نے کرونا وائرس سے مرنے والوں کی یاد میں ہاتھوں میں گلدستے بھی تھامے ہوئے تھے۔

میکسیکو دنیا میں کرونا وبا سےشدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جہاں اب تک دو لاکھ چار ہزار اموات ہو چکی ہیں۔

اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کارلوس میورگا کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما ملک میں ہونے والے منظم جرائم پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جب کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی ابتر صورتِ حال پر بھی بات نہیں کر رہے۔

میکسیکو میں حکومت نے منشیات فروشی میں ملوث گروہوں کے درمیان پر تشدد جھڑپوں کے بعد 2006 میں متاثرہ علاقوں میں فوج کو تعینات کیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے باوجود منشیات سے متعلق جرائم اور اسمگلر گروہوں کی باہمی چپقلش میں گزشتہ 15 سال میں تین لاکھ سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں۔

ملک میں رواں سال جون میں وسط مدتی انتخابات ہونے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ہونے والے تصادم اور پر تشدد کارروائیوں میں 16 امیدوار بھی قتل ہو چکے ہیں۔

میکسیکو کی کانگریس ایوانِ بالا ‘سینیٹ’ اور ایوانِ زیریں ‘چیمبر آف ڈپٹیز’ پر مشتمل ہے۔ سینیٹ کے ارکان کی تعداد 128 جب کہ چیمبر آف ڈپٹیز میں 500 ارکان ہیں۔ چیمبر آف ڈپٹیز کے ارکان کا انتخاب ہر تین سال بعد ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1688 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply