شک کا جنگل اور حالیہ سیاسی غدر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کامریڈ ڈاکٹر لال خان نے ایک بار کہا تھا کہ اس نظام میں اقتدار کے حصول کے لیے ہر قسم کی سودا بازی کی جاتی ہے اور اسے قائم رکھنے کے لیے ضمیر، اصول اور نظریات بازار میں نیلام کیے جاتے ہیں۔ اس بحران زدہ نظام زر کی سیاست کا یہی اصول، طریق کار اور یہی لائحہ عمل ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے حکمران طبقات کے جعلی تضادات اور معاہدوں کی منافقت عوام کو برباد کرتی رہے۔ ڈاکٹر لال خان نے جو کہا وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے۔ اس نظام زر میں ہر طرح کی سودے بازی جاری ہے۔

بلاشک و شبہ عہد حاضر کے حالیہ بازار مصر میں ضمیر، اصول اور نظریات ارزاں نرخوں پر برائے فروخت ہیں۔ اب تو بازار میں مندے کا یہ عالم ہے کہ ان بے معنی چیزوں  کے خریدار بھی دستیاب نہیں ہیں۔ کیسی بے بسی اور بے وقعتی ہے کہ اپنے نظریات کو نیلام کرنے والے شہر اقتدار میں مارے مارے پھر رہے ہیں ، آوازیں لگا رہے ہیں، بیچ بازار اونچی آواز میں نرخ بتا رہے ہیں مگر گاہک نہیں مل رہا۔ شومئی قسمت گاہک اگر دستیاب بھی ہے تو بازار میں مندی اس قدر ہے کہ من پسند نرخ نہیں مل رہے۔

بے روزگاری، مہنگائی اور غربت و افلاس کا شکار عوام حکمران طبقات کے مفادات کی جنگ میں لقمۂ اجل بنتے جا رہے ہیں۔ حکمران طبقے میں طاقت، اقتدار اور اختیار کی اس خون ریز لڑائی میں اخلاقی قدروں کا، اصولوں کا اور نظریات کا قتل عام ہو رہا ہے۔ بقا کی اس جنگ میں اپنے ضمیر کی بھی نہیں سنی جا رہی۔ کیا زندگی اتنی ضروری ہے کہ اس کے لیے نظریات اور اپنے آدرش قربان کر دیے جائیں۔ ہر عہد کو توڑ دیا جائے،  ہر وعدے کو وعدہ خلافی کی قربان گاہ پر بے دردی سے ذبح کر دیا جائے۔

آخر ایسا کیا ہے اس حکمرانی میں کہ ہر کوئی اس کی خاطر اپنی انسانی قدریں بھی ہارنے کو تیار ہے۔ سب کچھ ہار کے اقتدار پایا تو کیا پایا۔ اور ایسا ہی کچھ عہد حاضر میں ہوا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ امور مملکت چلانے کے اہل ہیں یا نہیں ، محض اقتدار کے حصول کے لیے اپنی ہی کہی گئی ہر بات سے اور کیے گئے ہر وعدے سے منہ موڑ لیا گیا۔ مسند نشیں اور اس کے حواریوں سے کیا گلہ کریں کم وبیش یہی صورتحال محل سے باہر شور مچاتی حزب اختلاف کی بھی ہے۔ گویا محل کے اندر اور باہر ایک جیسا شور ، ایک جیسی ابتری ہے۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ یہی نہیں کہ فقط ہم ہی اضطراب میں ہیں/ ہمارے چاہنے والے بھی اسی عذاب میں ہیں۔ اگر پہلے حکومت کا جائزہ لیں تو کل تک اپنے اڑن کھٹولے پر سوار حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والا آج اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی سوال کرتا ہوا ملا کہ مجھے دیوار سے کیوں لگایا جا رہا ہے۔ میری وفاداری پر شک کیوں کیا جا رہا ہے۔ دہائی دی کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔

کوئی اس قابل ”ترین“ سے پوچھے کہ اس سے پہلے انصاف کس کے ساتھ ہوا ہے کہ اب انصاف ہو گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ بے اصولی اور نا انصافی کی اونچی فصیلوں کی تعمیر میں دن رات ایک کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں کو اجرت طلب کرنے پر ان ہی اونچی فصیلوں سے نیچے پھینک دیا گیا۔ زندانوں میں قید کر دیا گیا اور تو اور ہاتھ تک کاٹ دیے گئے۔ ان حالات میں انصاف ملتا نہیں خریدنا پڑتا ہے مگر ستم یہ کہ خریدنے کی سکت بھی نہیں رہی کہ اکاؤنٹ ہی بند کر دیے گئے۔

لہٰذا بچت اسی میں ہے کہ طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے سرتسلیم خم کر دیا جائے۔ جو کہا جائے اس پر من و عن عمل کیا جائے، جہاں روکا جائے وہیں پر ڈیرے ڈال دیے جائیں اور جب کوچ کا حکم ہو تو سفر شروع کر دیا جائے۔ ویسے بھی جب غدر جیسی صورتحال کا سامنا ہو تو اولین فریضہ جان بچانا ہی ہوتا ہے۔ اور موجودہ سیاسی غدر میں جان بچی سو لاکھوں پائے جیسا محاورہ ازبر ہو تو اچھی بات ہے۔

کم وبیش ایسی ہی صورتحال حزب اختلاف کو بھی درپیش ہے۔ محتلف الخیال سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئیں کہ حکومت کو گرانا ہے۔ الزام یہ تھا کہ حکومت کو عوام نے نہیں کسی اور  نے منتخب کیا ہے۔ اسی بنا پر حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا بڑے زور و شور سے پاکستان جمہوری تحریک شروع ہوئی۔ اس میں شامل سیاسی قائدین نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے۔ ہاتھ اس لیے نہیں پکڑے کہ کسی کو سہارا دینا مقصود تھا، شاید ہاتھ اس لیے پکڑے تھے کہ کوئی آگے نہ نکل جائے۔ کہتے ہیں کہ شک کے جنگل میں اعتماد کے گلاب نہیں بے وفائی کے ببول اگا کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حزب اختلاف کا اتحاد عملی طور پر اپنے انجام کے قریب پہنچ چکا ہے۔

عصر حاضر کی سیاست میں قحط الرجال کا دور چل رہا ہے۔ برسراقتدار عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور حزب اختلاف عوام کو ریلیف دلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ مدعا یہ کہ ایوان میں موجود دونوں دھڑے ہی ناکام ہوئے اور باوجود اس ناکامی کے عوام کی غربت کے نام پر بدستور تماشا جاری ہے۔ وہی غربت جس کو دور کرنے کے دعوے کرتے کرتے سیاست دانوں کی اپنی غربت دور ہو گئی۔ اگر نہیں بدلے تو غریب کے دن نہیں بدلے۔

رہی بات مسند نشین کے قریب ”ترین“ ساتھی کی تو پریشانی کی کوئی بات نہیں فی الوقت وہ مکافات عمل کا شکار ہے۔ پیشے کے اعتبار سے ایک اچھا ماڈرن کاشت کار ہے اس لیے کل جو بویا تھا آج وہ کاٹ رہا ہے۔ تیار فصل اٹھا لے تو پھر سے ان ہی کھیتوں میں پرانی اجرت پر کام کرے گا۔ ویسے بھی دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ گاؤں کا چوہدری کام کرنے والے کاشت کار کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *