ہمارا بچپن، کہانیاں اور ’وِچولوں‘ کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر انسان کہانیوں کو پسند کرتا ہے کیونکہ یہ ہر ایک کی ابتدائی گھٹی کا اہم پیکج ہوتی ہیں، بچے کا ابتدائی سکول ماں کی گود ہوتی ہے ، وہیں سے ابتدائی اسکولنگ کا آغاز ہوتا ہے، بچپن سے پختہ عمر تک پہنچنے کی ماں چشم دید گواہ ہوتی ہے یہ سفر بریسٹ فیڈنگ سے شروع ہو کر مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور زندگی کے ایک پڑاؤ میں جب بچہ بولنے اور چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کے قابل ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنی اردگرد کی چیزوں کو غور سے دیکھنے لگتا ہے اور اکثر اوقات تو وہ اپنے تجسس کا اظہار چیزوں کو چھو کر بلکہ بعض اوقات توڑ پھوڑ کر بھی کرتا ہے۔

ہر بچے کے اندر ایک چھوٹا سا سائنس دان کہیں چھپا بیٹھا ہوتا ہے جو اسے چیزوں کو جاننے پر اکسائے رکھتا ہے، اس کے تجسس کو مہمیز دینے میں کہانیاں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں، جنہیں وہ اپنے ماں باپ، دادا دادی اور نانا نانی سے اکثر سنتا رہتا ہے، زندگی کا یہ پڑاؤ بہت ہی حسین ہوتا ہے اور بچے کو یہ دنیا ایک میجک باکس کی مانند محسوس ہوتی ہے کیونکہ وہ تفکرات سے ماورا لمحات کو انجوائے کر رہا ہوتا ہے۔

ان کہانیوں کی چاشنی اتنی مزیدار ہوتی ہے کہ جب بچہ بلوغت کی عمر کو چھونے لگتا ہے تو اس کا جی کرتا ہے کہ وہ خود سے ان کہانیوں کو پڑھے اور بعض اوقات بہت سارے بچے اپنی پاکٹ منی سے چھوٹے چھوٹے رسالے خرید کر پڑھنے لگتے ہیں کیونکہ انہیں کل کائنات انہی کہانیوں میں نظر آنے لگتی ہے، کہانیوں کی دنیا میں ایک طرح کا سحر ہوتا ہے ، ایک بے فکری کی سی کیفیت ہوتی ہے، ایک عجیب قسم کی مستی اور سرور کی سی حالت ہوتی ہے مگر جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں اور زندگی کے مسائل سے جھوجھنے لگتے ہیں تو ایک جھٹکے میں ہماری آنکھ کھل جاتی ہے اور ہم حقائق کی ایک ایسی دنیا میں آ جاتے ہیں جہاں پر کہانیوں کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے،

ہم پختگی کے ایک ایسے دور میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں پر کہانیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی جگہ زندگی کی حقیقتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو توانا اور صحت مند تعلیمی بیک گراؤنڈ میسر آ جائے تو ہمارے اندر وہ چھپا ہوا سائنس دان باہر آ جاتا ہے جو ایک علمی مؤکل کی طرح رہنمائی کرتے ہوئے شعور کی بلند و بالا مچان تک لے جاتا ہے، یہ شعور اسے عمر وعیار، اڑن کھٹولے، جادوئی قالین اور سانتا کلاز جیسے تصوراتی جہاں سے نکال کر حقیقی دنیا میں داخل کر دیتا ہے،

کہانیوں کا سحر عمر کے ایک حصے تک کافی رومانٹک ہوتا ہے لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ہم پختگی کی طرف بڑھتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہونے لگتی ہے کہ اسطور اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے اور کہانیاں بچوں کو بہلانے کے لیے ہوتی ہیں، بڑوں کو ان کہانیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان کی حقیقت کو جان چکے ہوتے ہیں۔

کہانیاں عمر کے ایک خاص حصہ تک بڑی مسحور کن لگتی ہیں مگر وقت کے ساتھ اپنی اہمیت کھونے لگتی ہیں، انسانی فکر فکشن اور نان فکشن کو سمجھنے لگتی ہے۔ آگہی کا یہ سفر ہمیں بچپن کے جبری اور اضافی بوجھ سے نجات دلا کر آنے والے حقائق کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطاء کرتا ہے، سحر سے نکل کر آگہی کے سفر پر روانہ ہونے کا یہ جذبہ بہت سے طالبوں کے لیے دلچسپ اور مزیدار ہوتا اور بہت ساروں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ آگے بڑھ کر تلخ حقائق کو تسلیم کرنے کا جذبہ ہر ایک میں نہیں ہوتا اور ہر کوئی اس کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا ۔

بچپن کی گرہ کھولنے کے لیے عزم، حوصلہ اور جرأت درکار ہوتی ہے کیونکہ ابتدائی ذہنی اثاثے کے ساتھ ہمارا ایک طرح کا جذباتی لگاؤ ہوتا ہے، اس جذباتی بندھن کے دائرے سے باہر نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا بلکہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ جب ہم ابتدائی انسان کے ذہنی ارتقا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ انسان نے کائنات کی پراسراریت اور قدرتی آفات کو سمجھنے کے لیے اس کے ساتھ بہت ساری کہانیاں منسوب کیں اور جو کچھ بھی اس کے ابتدائی ذہن نے جانا اور سمجھا ، اسے بالکل اسی طرح کہہ دیا۔

اسی طرح انسانی سوچ مختلف ادوار میں مختلف تصورات کے ساتھ آگے بڑھتی رہی اور اسی تسلسل نے انسان کے روشن مستقبل کی امید کو زندہ رکھا اور آج اکیسویں صدی میں انسانی ذہن پختگی کی اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اب وہ نیچرل اور سپر نیچرل، فزکس اور میٹا فزکس، رئیل سائنس اور سوڈو سائنس، کلینیکل سائیکالوجی اور پیرا سائیکا لوجی اور سب سے بڑھ کر توہمات اور حقائق کے فرق کو سمجھ سکتا ہے اور آج کا انسان بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہونے کے لیے ہزاروں ”ونڈو آف اپرچونٹی“ رکھتا ہے۔

اس کے برعکس ماضی میں وہ ہر قدرتی مظہر کو سپر نیچرل سمجھتا تھا اور نیچر کے رازوں کو سمجھنے کی بجائے ان کے آگے سر بسجود ہو کر بے بسی کی سی کیفیت میں منتیں مانگنے لگ پڑتا تھا، اسے ہر نیچرل پیٹرن میں کوئی نہ کوئی شبیہہ نظر آنے لگتی تھی اور پھر ان صورتوں کو مختلف دیوی دیوتاؤں کے نام سے پکارنے لگتا تھا اور اسی چکر میں اس نے ہزاروں دیوی دیوتا بنا ڈالے،

مگر آج کے انسان کی ذہنی کائنات بہت وسیع ہو چکی ہے اور اب وہ کہانیوں کے دور سے نکل کر حقیقی دنیا کے رازوں کو پانے کے لیے سر گرداں ہے، اب اس کے ذہن کو مختلف کہانیاں سنا کر بہلایا یا پھسلایا نہیں جا سکتا کیونکہ وہ ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں پر وہ متھ اور ریالٹی کی چند سیکنڈ میں تصدیق کر سکتا ہے۔ اب اسے حقائق تک پہنچنے کے لیے کسی ”وچولے“ یعنی فادر، پنڈت اور ملا کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اب حقائق اس کی فنگر ٹپس میں سما چکے ہیں۔

شعور و آگہی کے اس دور میں بچے کہانیوں سے بہلیں تو کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے ، المیہ یہ ہو گا کہ لمحہ موجود میں بالغ بھی کہانیوں میں ہی کھوئے رہیں تو حیرانی بات ہو گی کیونکہ شعور کسی دکان کی شیلف میں نہیں پایا جاتا بلکہ اس کے لیے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *