کرپشن ہمارے سماج کا ’نیو نارمل‘ بن چکی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان میں بھلائی اور شر کی قوتیں بیک وقت کار فرما رہتی ہیں، کمزور معاشروں میں انفرادی سطح پر چند افراد اپنی مضبوط قوت ارادی اور کردار کے باعث شر کے آگے سینہ سپر رہتے ہیں جبکہ عمومی طور پر کمزور رویہ ہی سامنے آتا ہے۔ البتہ عدل و انصاف پر قائم معاشروں میں یہ تناسب خاصا مختلف ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کے مضبوط یا کمزور ہونے میں اس کا معاشی عدل و انصاف بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اخلاقی تعلیم کا مرحلہ اس کے بعد ہی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ کمزور معیشت کی موجودگی میں مضبوط اخلاقی تعلیم بھی اپنے معانی کھو دیتی ہے۔ کوئی نصف صدی پیچھے کی طرف جھانکیں تو پاکستانی معاشرے میں رشوت اور کرپشن کو نہایت برا فعل تصور کیا جاتا تھا۔

روایات کے مطابق بنی نوع انسان کے ساتھ شیطان کا بھی نزول ہوا، خالق چاہے تو ایک پل میں اس کو نیست و نابود کر دے، لیکن وہ ایسا نہیں کرتا، اس طرح ہر دور اور ہر عہد میں خالق کے بندوں کا امتحان جاری رہتا ہے، اس ”ٹگ آف وار“ کی کیا ضرورت تھی؟ یہ خالق جانے اور اس کا کام، ہمارا آج کا موضوع آج کے دور میں مالی کرپشن کو لے کر بدلتا رویہ ہے۔

بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ جب پرانے وقتوں میں (ماضی قریب یہی کچھ چالیس پچاس سال پہلے تک) ایک محلے میں اگر مشہور ہو جاتا تھا کہ فلاں گھر میں کوئی ملازم ایسا رہتا ہے جو رشوت لیتا ہے تو بات چولہوں اور چوراہوں تک پہنچ جاتی تھی کہ توبہ توبہ کیا زمانہ آ گیا ہے اور لوگ اس گھر سے آئے نذر و نیاز کے کھانے کو بھی ہاتھ لگانے سے گریز کرتے تھے۔ ایک محلے میں رہتے ہوئے اس گھر سے میل جول ختم تو نہیں ہو سکتا تھا لیکن حتی الوسع کوشش کی جاتی تھی کہ ان سے دور رہا جائے۔

لیکن صد افسوس کہ گزشتہ تین چار دہائیوں میں حالات اور طرز فکر کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ مالی بدعنوانی کو اب معمولی بات سمجھا جاتا ہے اور جو سرکاری ملازم رشوت نہیں لیتا، اس کو بیوقوف تصور کیا جاتا ہے (میں سب کی بات نہیں کر رہا، جہاں ہر دور میں کرپشن رہی ہے تو ہر دور میں نیکی اور بھلے لوگ بھی رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، یہ بھی قدرت کا اور خالق کا ایک نظام ہے )

تقریباً دس سال پہلے لاہور کے چند علاقوں میں مختلف جگہوں پر محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا رہتا تھا (خاص طور پر ہفتے کی رات دیر تک) ، ان محفلوں میں جہاں عام لوگ شرکت کرتے تھے وہاں رائٹرز، پروفیسرز، سوشل ایکٹیوسٹس اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے تھے (یہ بھی لاہور کا ایک خوبصورت پہلو ہے) ان محافل کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ پھر کبھی سہی، ایک رات اچھرا میں ایسی ہی ایک محفل میں زور و شور سے پرائیویٹ چینلز کی بھرمار اور بلیک میلنگ پر ڈسکشن ہو رہی تھی کہ وہاں ایک خوش لباس سفید کاٹن سوٹ اور واسکٹ میں ملبوس شخص کی آمد ہوئی، کچھ لوگوں کے علاوہ باقی سب لوگ اسے بہت پرتپاک ملے، اس کی رخصت کے بعد میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ یہ آدمی فلاں دفتر میں گریڈ 16 کا ملازم ہے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے لقمہ دیا جو گیس سلنڈروں کا کام کرتا تھا۔

”پاجی جنی ایدی تنخواہ اے ناں اونا تے اے روز اپنی سیٹ توں لیکے اٹھدا اے، اگلے نے سارے پرا سیٹ کرلتے نے، تے ماں پیو نوں حج وی کروا لیا، اسی تے لگدا ساری عمر گیس ویچدیاں تے ماردیاں رہنا اے“ (بھائی جان جتنی اس کی تنخواہ ہے نہ اتنا تو یہ روز اپنی سیٹ سے لے کر اٹھتا ہے، اپنے سب بھائی سیٹ کر لیے ہیں اور ماں باپ کو حج بھی کروا لیا ہے، ہم نے تو گیس کے چکر میں ہی پڑے رہنا ہے خواہ سلنڈر کی ہو یا پیٹ کی)

میرے دوست نے مجھے ایک مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ محلے میں بہت معتبر ہے اور مسجد کے انتظام و انصرام میں بھی بہت آگے آگے، یہ صرف ایک نہیں ایسے اور بھی بہت ہیں، لوگ ایسے لوگوں سے تعلق رکھ کر پھولے نہیں سماتے۔ غرض کہ بدعنوانی اور حرام کی کمائی کو لے کر ہمارا رویہ یکسر تبدیل ہو چکا، اگر ہم بدعنوان نہیں بھی ہیں تو اب کسی کا بدعنوان ہونا ہمیں کھٹکتا بھی نہیں کہ جیسے یہ تو کوئی عام سی بات ہے۔

اسی طرح اگر ملکی سطح پر دیکھا جائے تو آئے روز کرپشن کرپشن کا واویلا سننے کو ملتا ہے ، جو زیادہ تر پولیٹیکل اسٹنٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہوتا (ویسے تو سیاست، فوج اور عدلیہ سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اچھے اور برے دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں ) ، ہر آدمی اپنی چونچ اور زور کے حساب سے اپنا حصہ ڈال رہا ہوتا ہے جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ، ان کے علاوہ باقی سب کرپٹ اور ان کرپٹوں (بقول ان کے ) میں سے اگر کوئی آپ کے ساتھ مل جائے تو اس کے سب پاپ دھل جاتے ہیں۔

جب تک کوئی آپ کے ساتھ ہے تو وہ ایک کامیاب امیر ترین بزنس مین کہلائے گا جیسے ہی وہ آپ کو چھوڑ کے جائے گا یا خطرہ بن جائے گا تو اچانک یہ عقدہ کھلے گا کہ یہ آدمی تو کرپٹ تھا، اچانک کیس کھلتے اور بند ہوتے نظر آتے ہیں، یاد رکھیے ایک فرد سے لے کر قومی سطح تک یہ ایک یونیورسل حقیقت ہے کہ جو جتنا کرپشن کا شور مچاتا ہے، اصل میں یا تو وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میں بہت نیک اور پارسا ہوں اور یا ہارن بجا کر اپنی بلند آواز باد شکم چھپانا چاہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *