جونا گڑھ کی مسرت جہاں کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کا خاندان جونا گڑھ ریاست کی سرداری کا علم دار تھا۔ چودہ سال کی عمر میں پاکستان بننے کے واقعے نے، اس خاتون کو اپنی نئی سرزمین پر تو پہنچا دیا مگر وہ اپنے بھائیوں اور عالی شان طرز زندگی سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔

پاکستان آنے کے فوراً بعد ان کے سسر کو احساس ہوا کہ فیصلہ غلط تھا اور انہوں نے تمام روابط کو استعمال کرتے ہوئے واپس ہندوستان جانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر مسرت جہاں کہتی ہیں، سیاست تب بھی چلتی تھی اور پہلے پہل قائداعظم سے ملاقات کا وعدہ کیا گیا جسے بعد میں ان کی بیماری کا حیلہ بہانہ کر کے وفا کیا گیا۔

اس خاندان نے پاکستان میں نئی زندگی کا آغاز کیا اور حکومت پاکستان کی طرف سے خاص مدد کی مد میں ایک مخصوص حصہ اس خاندان کو ملتا رہا۔

مسرت جہاں اپنے شادی شدہ بچوں والے بچوں کے ساتھ ایک ہی بنگلہ میں الگ کمپاؤنڈ میں رہتی ہیں۔ اپنے بچوں کے خیال رکھنے کی تعریف کر لینے کے بعد وہ کہتی ہیں کہ وہ بہت اکیلا محسوس کرتی ہیں اور ان کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ان کے پاس ہمیشہ رہے کیونکہ انہیں ہر وقت اپنا پرانا بچپن کا گھر اور بہن بھائی یاد آتے ہیں۔

اپنے بھوپالی ہونے کا بتاتے ہوئے جب میں نے بے اختیار کہا ایک راگ بھی تو بھوپالی ہے تو ہسنے لگیں۔

کراچی کے ایک کمپاؤنڈ سے ان کی تنہائی کا احساس مجھے ان سے فون پہ بات کرتے ہوئے، اسلام آباد میں محسوس ہوتا ہے۔ ٹالسٹائی کی ایک کہانی میں ایوان ایلیچ کا کردار مجھے بالکل ان جیسا معلوم ہوا۔ شاید انہیں بھی اپنے تنہائی کے دنوں میں گیراسیم جیسا رحم دل، وفاشعار، سچ بولنے والا، مضبوط سہارا درکار ہے۔ گیرا سیم، ایوان ایلیچ کا نوکر تھا۔

میں سوچتی ہوں اگر اس عمر میں وہ بچوں کی غیر معمولی توجہ پا لیں تو کیا پھر بھی وہ ہندوستان میں اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کے بارے میں ویسے ہی سوچیں گی؟ یا پھر ماضی کی یادوں میں رہتے ہوئے، وہ ماضی قریب سے بچپن کی یادوں میں جانا آخری لمحے تک نہیں چھوڑیں گی؟

مائیں بچوں کے لیے اٹھاسی سال کی عمر میں بھی قربانی دے سکتی ہیں اور بچے صرف اپنے بچوں کے لیے قربان ہوتے ہیں۔

مجھے یہ دستور بہت حقیقی مگر عجیب لگتا ہے اور میری تکلیف کو بڑھاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *